سلمان بٹ کی معافی : بہت دیر کی مہرباں آتے آتے!

30 جون 2013

برٹش رائل نیوی میں یہ روایت تھی کہ بحری جہاز کے ڈوبتے وقت کپتان جہاز چھوڑنے والا آخری شخص ہوتا ہے اور کئی مرتبہ جہاز کے ساتھ ہی ڈوب جاتا ہے۔ ”سکپر“ عبدالحفیظ کاردار اور عمران خان پاکستانی کرکٹ کو بلندیوں پرلے گئے تھے ایک طرف وہ کپتان تھے دوسری طرف سلمان بٰٹ، آہ....! کرکٹ تبصرہ والے چودھری محمد صدیق سلمان بٹ پر خاصے برہم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اٹھارہ کروڑ کی ٹیم میں 15 کھلاڑی ہوتے ہیں لیکن کپتان صرف ایک ہوتا ہے اور سلمان بٹ نے اپنا تو شاید کوئی نقصان نہیں کیا، ملک و قوم کو شرمسار کر دیا ہے۔
سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم سلمان بٹ نے سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث ہونے پر قوم اور شائقین سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے آئی سی سی سے بھی اپیل کی ہے کہ کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے تاکہ پابندی کا وقت ختم ہو تو وہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کےلئے تیار ہوں۔ سابق کپتان نے نوجوان اور نئے آنیوالے کرکٹرز کو بھی کرپشن سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ آج یہ بات سلمان بٹ کی زبانی تاریخ کی کتابوں میں درج ہو گئی ہے کہ وہ 2010ءمیں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا مرکزی کردار تھے اور انہی کی نگرانی، سرپرستی اور کپتانی میں یہ بے ایمانی کا یہ منصوبہ تیار ہوا۔
سابق کپتان تین سال تک اصرار کرتے رہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ تین مختلف عدالتوں نے انہیں مجرم قرار دیا اور کم و بیش تین سال کا عرصہ گزارنے کے بعد سلمان بٹ نے خود بھی اعتراف جرم کر لیا۔ آئی سی سی کے ٹربیونل، لندن کی عدالت اور کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت نے مختلف وقفوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو قصور وار قرار دیتے ہوئے ان پر کرکٹ کے دروازے بند کئے تھے۔ اس عرصے میں فاسٹ باﺅلر عامر نے سب سے پہلے اعتراف جرم کیا۔ سلمان بٹ کا یہ قدم غیرمتوقع نہیں تھا کیونکہ اپنی سزا کے ابتدائی پانچ برس میں اگر وہ آئی سی سی کے اصلاحی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے تو پھر انہیں مزید پانچ سال کی سزا بھی بھگتنا پڑے گی۔ یوں ہر طرف سے مایوس اور مجرم ثابت ہونے کے بعد سلمان بٹ نے جرم کی قبولیت میں ہی عافیت سمجھی۔
عامر کے اعتراف جرم کے بعد سلمان بٹ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ فاسٹ باﺅلر کو اتنی دیر سے کیوں یاد آیا کہ وہ قصور وار ہیں۔ اب سابق کپتان کو نجانے کہاں سے یہ خیال آیا کہ ہونا ہو وہی اس سکینڈل کے مرکزی کردار ہیں۔ وہ تین سال تک دنیا بھر کے شائقین کرکٹ بالخصوص پاکستانی عوام سے جھوٹ بولتے، غلط بیانی کرنے اور دھوکہ دیتے رہے۔ وہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کے نمائندہ کرکٹر تھے، خوش گفتار و خوش لباس تھے، قسمت کی دیوی ان پر اتنی مہربان تھی کہ نامی گرامی کھلاڑیوں کی موجودگی میں انہیں قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کم وقت میں زیادہ پیسے کمانے کے لالچ میں وطن کی عزت، قوم کا وقار اور کھیل سپرٹ سب کچھ لمحوں میں دولت کے پجاریوں کے پاس گروی رکھ دیا۔ ناصرف اپنا بیڑہ غرق کیا بلکہ اس کے ساتھ پوری پاکستانی قوم کو بھی شرمسار کیا۔
سلمان بٹ کو آغاز میں غلطی تسلیم کر لینی چاہئے تھی ایسا نہ کر سکے،جھوٹ بولا تھا تو اس پر قائم بھی رہتے۔ اعتراف جرم2010ءمیں کرتے تو اس کی حیثیت بھی ہوتی۔ لوگوں کے دلوں میں ہمدردی بھی آ جاتی اب تو انہوں نے وہ کام کیا ہے کہ جیسے ایک بزرگ خاتون نے شادی کر لی اور شادی کرنے کے بعد پھر شوہر کو چھوڑ دیا۔ ہماری رائے میں اب بھی سلمان نے پورا سچ نہیں بولا۔ انہیں اس معاملے کے تمام کرداروں سے پردہ اٹھانا چاہئے۔ غلطیان انسانوں سے ہی ہوتی ہیں۔ غلطیاں کر کے سدھرنے والے انسان ہی معاشرے میں اصلاح کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ بہر حال شائقین کرکٹ کا سلمان بٹ کے اعتراف کے بعد بھی ان سے ہمدردی، دوستی اور پیار کا رشتہ برقرار رہے گا۔ کیونکہ وہ پاکستانی تو ہیں نا....! پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی اب سمجھ سمجھ آ جانی چاہئے کہ ان سے عام انسانوں جیسا غیر ذمہ دارانہ روئیے کی توقع نہیں کی جاتی، وہ ملک و قوم کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں۔بقول محسن حسن خان پاکستان کیلئے کھیلو، پاکستان سے نہ کھیلو۔ پاکستان نے گزشتہ چند برس میں مختلف واقعات و حادثات میں کھیل کے میدانوں میں خاصا نقصان برداشت کیا ہے۔ کھلاڑی امن کے پیامبر اور ملکی سفیر ہوتے ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو ناانصافی اور کرپشن کے ماحول سے آزاد کروائیں تاکہ آنیوالی نسل ان برائیوں سے محفوظ ہو سکے....!