ننکانہ کے گلی گوجوں میں منشیات فروشی معمول بن گئی‘ شہری سراپا احتجاج

30 جون 2013

ننکانہ صاحب (نامہ نگار) پولیس کی غفلت اور بے حسی کے سبب ننکانہ صاحب کے گلی کوچوں میں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ اپنے عروج پر پہنچ گیا موت کے سوداگر ڈنکے کی چوٹ پر نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اتار نے میں مصروف لیکن پولیس نے اپنے درپرہ مقاصد کے لئے موت کے سوداگروں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ننکانہ صاحب میں اسوقت بالخصوص شاد باغ کالونی، مدینہ کالونی، بشیر بھٹی روڈ، محلہ شیخاں، شورہ کوٹھی روڈ و دیگر علاقہ میں منشیات فروش شراب ،چرس، افیون، ہیروئن فروخت کر کے نوجوانوں کو موت کی وادیوں میں دھکیل رہے ہیں جبکہ ننکانہ صاحب کے قبرستان باقاعدہ طور پر منشیات فروشوں کی آماجگا بن چکے ہیں جن میں قبرستان بابا گھونے دیاںبیریاں، قبرستان چڑی سائیں، قبرستان مال منڈی اور قبرستان حسینی والا باغ میں باقاعدہ نوجوانوں کو بادام والی سردائی کے نام پر بھنک اور دیگر منشیات کرنے کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے تاہم پولیس اپنے نمبر ٹانکنے کے لئے کبھی کبھار غریب اور بے سہارا نشہ بازوں کو پکڑ کر مقدمات درج کر لیتی ہے جبکہ اصل مگر مچھوں تک پہنچنے کی زحمت گنوارہ نہیں کرتی۔ ننکانہ صاحب کے شہریوں نے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ننکانہ پولیس کا قبلہ درست کرنے کے لئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو منشیات جیسی مکروہ لعنت سے نجات دلائی جا سکے۔