تعلیم دشمن اقدامات کیخلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التواءجمع کرائیں گئے:وسیم اختر

30 جون 2013

لاہور(خصوصی رپورٹر)ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی لیڈراورامیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پنجاب اسمبلی میں ضمنی بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں نان فارمل ایجوکیشن کے تحت جوادارے قائم کئے گئے جن کے کوئی عمارت بھی نہیں جہاں مرد و خواتین ، استاتذہ ، جونیئر ٹیچر2500ماہوار اور سینئر ٹیچر5000ماہوار پر کام کررہی ہیں۔ ان سکولز میں کم و بیش پانچ ہزار طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ان کو حکومت پنجاب بند کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیم دشمنی اور چولستان کے پانچ ہزار طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کے مترداف ہے۔ دریں اثنا ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ان مسائل پر جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک التواءبھی پیش کی جائے گی۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لے کراسمبلی میں ان ایشوزپر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ ان سکولوں کو جاری رکھا جائے اورپنجاب کے دیگر سکولوں کی طرح انہیں اور استاتذہ کو بھی ریگولر کیا جائے اوران کا معاوضہ بھی پنجاب کے دیگراساتذہ کی طرح مقرر کیا جائے۔ نیز دانش سکول بنانے ہیں تو پھر چولستان میںرحیم یارخان، بہاولنگر، بہاولپور سے ملحق چولستان میں ایک ایک دانش سکول بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کیٹ واکس اورموسیقی کے بیہودہ اورفحش پروگرامات ہمیں کس طرف لے کر جارہے ہیںاس کو سختی سے چیک کیے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیوورسٹیز اورمیڈیکل کالجز میں داخلوں کے حوالے سے آئی ایم ایف اورورلڈ بنک کی ہدایت جوکہ نیوورلڈ کا حصہ ہیں ماننے کی بجائے ملکی ضروریات کو سامنے رکھ کر ان اداررں میں طلبہ کے داخلوںکی پالیسی بنائی جائے۔ اس وقت 70فیصد طالبات ہیں30 فیصد طلبہ ہیں۔ پنجاب اورملک کی کیا ضرورت ہیں اس کو طے کیا جائے اورپھر داخلہ پالیسی مرتب کی جائے۔