لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش، چھتیں، دیواریں گرنے سے 6 افراد جاںبحق

30 جون 2013

راولپنڈی + لاہور (ایجنسیاں + نامہ نگاران + خصوصی رپورٹر + نیوز رپورٹر) لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں مون سون کی بارشوں نے جل تھل کر دیا۔ چھتیں اور دیواریں گرنے سے 6 افراد جاںبحق ہو گئے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، 4 پروازوں کو لاہور بھجوا دیا گیا۔ جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ طوفانی بارش کے باعث راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں زیر تعمیر گیسٹ ہا¶س گرنے سے دو افراد جاںبحق اور چار زخمی ہو گئے جنہیں ہولی فیملی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ راولپنڈی کے علاقے ڈھوک سیداں میں کچے مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاںبحق ہو گیا۔ آئندہ بارہ گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، لاہور سمیت بالائی اور وسطی پنجاب، بالائی خیبر پی کے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بارش کا امکان ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں گذشتہ روز بارش اور وارڈنز کے سڑکوں سے غائب ہونے سے ٹریفک کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کر گیا۔ شہر کی تمام اہم شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔ جیل روڈ اور شارع فاطمہ جناح پر مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسز بھی پھنس گئیں۔ کینال روڈ، جیل روڈ، شاہراہ قائداعظم، شارع فاطمہ جناح، راوی روڈ اور ریلوے سٹیشن سے ملحقہ سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہی۔ شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس کی عدم دلچسپی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث شہر میں ٹریفک جام رہتی ہے۔ لاہور میں مون سون کی پہلی بارش صبح 10 بجے شروع ہوئی اور 10.45 بجے تک جاری رہی، رات گئے پھر بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش چوک ناخدا مصری شاہ میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے بعد بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، 100 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے۔ بارش بند ہونے کے بعد فیڈرز کی بحالی کا کام شروع ہو گا۔ جوہر ٹا¶ن، ٹا¶ن شپ سبزہ زار، راوی روڈ، باٹا پور، ہربنس پورہ، دھرم پورہ، فیروزپور روڈ، گارڈن ٹا¶ن اور مسلم ٹا¶ن میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ حبس اور گرمی کے باعث لاہور کے 4 گرڈ سٹیشن اوور لوڈ ہو گئے۔ لیسکو انتظامیہ اوور لوڈ سسٹم کو بچانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ متعلقہ افسران اب بھی سسٹم کو بچانے اور اوور لوڈ سسٹم کو کم کرنے کے لئے نظریں چرا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں ہفتے والے روز بھی 44 فیڈرز بار بار ٹرپ کرتے رہے جس کی وجہ سے اقبال ٹاﺅن (گلشن بلاک، نیلم بلاک)، سکیم موڑ، سمن آباد، پاکستان منٹ، واپڈ ٹاﺅن، گڑھی شاہو، مغل پورہ، بند روڈ، انگوری باغ سکیم، لال نہر کی آبادیاں، جوہر ٹاﺅن، ٹاﺅن شپ، مزنگ سمیت دیگر آبادیوں میں صارفین کی قیمتی الیکٹرونکس اشیا بھی جل گئیں جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ نارووال میں صبح تقریباً دس بجے بارش سے چند منٹ قبل خوفناک طوفانی گولے نے نارووال کے نواحی علاقوں میں تباہی مچا دی، خوفناک طوفانی ہواﺅں سے آٹھ سالہ بچی اور ایک شخص جاںبحق ہو گیا۔ نواحی گاﺅں موضع لدھے والا میںآٹھ سالہ معاویہ اپنی دو سہلیوں سے ہمراہ گورنمنٹ پرائمری سکول میں کھیل رہی تھی کہ اچانک تیز ہواﺅں سے بچنے کےلئے تینوں بچیاں سکول کی دیوار کے نیچے کھڑی ہو گئیں کہ اس دوران سکول کی دیوار ان پر گر پڑی جس سے آٹھ سالہ معاویہ موقع پر دم توڑ گئی جبکہ اس کی دو سہلیاں اروشا اور شازیہ شدید زخمی ہو گئیں۔ موضع نونار کے گاﺅں نئی آبادی اور لوٹر میں 50 سالہ محمد لطیف اپنے بیٹے کے ہمراہ گھاس کاٹ رہا تھا کہ اچانک خوفناک طوفان آنے سے دونوں باپ بیٹا ایک حویلی کی دیوار کے نیچے کھڑے ہو گئے لیکن یہ دیوار بھی ان کےلئے موت کا سبب بنی اور گر گئی جس کے نیچے آکر محمد لطیف موقع پر ہی جاںبحق ہو گیا اور اس کا بارہ سالہ بیٹا مدثر شدید زخمی ہو گیا۔ واں بھچراں میانوالی میں درخت گرنے سے نوجوان جاںبحق ہو گیا۔ جہلم میں طوفان اور تےز بارش نے بجلی کا نظام تباہ کر دےا، کھمبے، درخت گر گئے جس سے بجلی کی ترسےل کا نظام شدےد متاثر ہوا اور کئی ٹےلی فون خاموش ہو گئے، نکاسی آب کے ناکارہ سسٹم کی وجہ سے موسلا دھار بارش کے بعد جہلم شہر درےا کی شکل اختےار کر گےا۔ سیالکوٹ میں بارش کی وجہ سے ہوٹل کی چھت گر گئی، سات افراد زخمی ہو گئے۔ پسرور میں تیز آندھی اور طوفان سے سیہووال شہزادہ کے علاقے میں مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ موضع کوٹلی ترکھاناں میں مکان کی چھت گرنے سے منظور احمد، ان کی بیوی نرگس بی بی اور کمسن بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔ دریائے سندھ میں طغیانی آ گئی۔ سرگودھا اور گرد و نواح میں گرد آلود ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کچھ حد تک کمی و اقع ہوئی۔ ادھر گجرات سے نامہ نگار کے مطابق تیز بارش ہوئی جو دوگھنٹے جاری رہی جس سے مرجھائے ہوئے چہرے کھل اٹھے بارش کے بعد گلیوں میں پانی کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے راہگیروں کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔ فیصل آباد میں موسلا دھار بارش سے جل تھل ہو گیا اور آرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ کرک میں طوفانی بارش اور ژالہ باری کے باعث مختلف حادثات میں 40 افراد زخمی ہو گئے۔ کرک ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ طوفانی بارش سے 400 سے زائد کچے مکانات گر گئے جبکہ متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔ میانوالی میں شدید طوفانی بارش سے درجنوں مکانات او ر سرکاری دفاتر کالجز اور سپورٹس گرا¶نڈ کی دیواریں گر گئیں۔ بجلی کی تاریں اور پول گرنے سے بجلی کا نظام درہم برہم اور کئی گھنٹے معطل ہو گیا۔ میانوالی موچھ کچہ کے علاقہ دریائے سندھ کے کنارے محمد شریف والی میں قائم پولیس چیک پوسٹ کی آہنی چھت شدید طوفانی بارش، ژالہ باری سے اڑ کر دور جا گری۔ پوسٹ کے قریب بجلی کا ٹرانسفارمر اور وائرلیس کا پول گرنے سے پانچ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید محبوب رضوان نے ہیڈ مرالہ کے نزدیک سرخ پور بند کا معائنہ کیا جس کے تیز بہا¶ کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔ انتظامیہ اور متعلقہ محکمے موقع پر موجود بند کی مرمت کی جا رہی ہے جبکہ ہر قسم کی صورتحال کنٹرول میں ہے۔