صدارتی محل پر حملہ امن میں رکاوٹ نہیں بنے گا : کرزئی ۔۔۔ طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں : کیمرون

30 جون 2013

کابل(اے ایف پی) برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو اب اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ وہ شدت پسندی اور تشدد کے ذریعے افغانستان کے مستقبل میں کوئی کردار حاصل نہیں کرسکتے بلکہ ہتھیار پھینک کر اور سیاسی عمل میں شرکت کے ذریعے ہی وہ کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں وہ گزشتہ روز کابل میں افغان صدر کرزئی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ امن عمل افغانستان کیلئے ہے امریکہ ہویا برطانیہ یا مغرب کا کوئی اور ملک سب امن عمل کے حامی ہیں ان کا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں۔برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہمیں ایک طویل فاصلہ طے کرنا ہے تاہم بڑی افغان آرمی اور پولیس فورس کے سکیورٹی عمل کے ساتھ ایک سیاسی عمل بھی موثر رہے گا افغان صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر کہا کہ نیٹو مشن کے خاتمے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں فوج رکھنے کی اجازت دینے کے بارے میں سکیورٹی مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔انہوں نے یہ بات دہرائی کہ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کا فیصلہ لویا جرگہ کرے گا۔انہوںنے کہا کہ امریکہ اکتوبر تک سکیورٹی معاہدہ چاہتاہے جبکہ یہ فیصلہ افغان عوام کریں گے کہ ایسے کسی معاہدے کو منظور یا مسترد کردیں انہوں نے کہا کہ صدارتی محل پر حالیہ حملہ امن کے تلاش میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ہم امن مذاکرات چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان کو اس کی ضرورت ہے اور یہ طالبان کی بھی ضرورت ہے۔قبل ازیں برطانوی وزیراعظم نے جو غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے تھے صوبہ ہلمند میں برطانوی فوجیوں سے بھی ملاقات کی۔ واضح رہے کہ برطانیہ اس سے قبل طالبان سے مذاکرات کا مخالف تھا کیمرون کا کہنا تھا کہ فریقین میں بات چیت کے ذریعے 12سال سے جاری افغان جنگ ختم ہوسکتی ہے۔ 19 جون کو قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے پر افغانستان نے امریکہ کے ساتھ حتمی سکیورٹی معاہدے کیلئے مذاکرات معطل کر دیئے تھے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ افغان عوام مرکزیت یا باہر کی جانب سے مسلط ہونے والے حکمرانوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری شرائط تسلیم کر لی گئیں تو معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔