پٹرولیم مصنوعات پر اضافی جی ایس ٹی، کھانے پینے کی اشیاءسمیت ہر چیز مہنگی ہوگی: ماہرین

30 جون 2013

لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جی ایس ٹی کی وصولی 17 فیصد ہونے کے بعد کھانے پینے کی اشیاءسمیت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوجائیگا، ہر چیز کی قیمت میں ٹرانسپورٹیشن چارجز بڑھ جائیں گے جس کے بعد حکومت کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجائیگا کہ کھانے کی اشیاءکی قیمتوں میں ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ اصل میں آئی ایم ایف اس شبہ کا اظہار کر رہا ہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے مقابلے میں 6.3 فیصد ر ہے گا اس لئے وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے تحفظات دور کرنے کیلئے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ تیزی سے بڑھائی رہے گی۔ آئی ایم ایف کے مطالبہ پر شرح سود میں اضافے، بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا طوفان آئیگا اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گی، صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھے گی، معیشت کی شرح نمو سست رہے گی جس سے روزگار کے مواقع کم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ جی ایس ٹی کی شرح کم کی جائے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ اس کے بعد بجلی کے نرخ بڑھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔