جسٹس باقر پر حملے کی منصوبہ بندی کے شبہ پر کراچی جیل میں رینجرز کا چھاپہ

30 جون 2013

کراچی (نمائندہ نوائے وقت + وقائع نگار + وقت نیوز) گلستان جوہر کراچی میں فائرنگ سے 4 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں رینجرز، پولیس اہلکار اور 2 ڈاکو شامل ہیں۔ کورنگی کے علاقے کربلا گرا¶نڈ سے ہاتھ پا¶ں باندھی دو نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ این این آئی کے مطابق گلشن معمار میں سڑک کے کنارے نصب دو کلو ز ونی بم ناکارہ بنا کر دہشت گردی کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق جیکسن ، نیو کراچی صنعتی ایریا اور گلستان جوہر پولیس نے مختلف کارروائیوں میں قتل ، بھتہ خوری اور دیگر وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ بر آمد کر لیا ہے ۔ نمائندہ نوائے وقت / وقائع نگار کے مطابق سینٹرل جیل میں رینجرز نے آپریشن کرتے ہوئے بیرکوں کی تلاشی کے دوران موبائل فونز سمیت دیگر ممنوعہ سامان بر آمد کر لیا ہے ، آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو قیدیوں کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ کارروائیوں میں رینجرز نے 9 افراد کو حراست میں لے لیا۔ رینجرز سندھ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ہفتے کی صبح سینٹرل جیل کراچی میں بھرپور آپریشن کیا اس دوران سینٹرل جیل کی انتظامیہ کو مکمل طور کارروائی سے دور رکھا گیا۔ سینٹرل جیل کے اندر اور باہر کا مکمل کنٹرول رینجرز نے سنبھال رکھا تھا، آپریشن کے دوران قیدیوں سے منشیات کے علاوہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی برآمد کیے گئے، رینجرز ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے 4 قیدیوں سے ملنے والے موبائل فون سے اہم نمبرز ملے، یہ نمبرز جیل سے باہر موجود کالعدم جماعتوں کے ملزمان کے ہیں جو کالعدم جماعتوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے منگھوپیر کنواری کالونی، سہراب گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں روپوش ہیں، ذرائع کے مطابق بیرک نمبر 25 میں 2 قیدیوں کے قبضے سے ایک موبائل فون ملا جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے اسی کے ذریعے 3 روز قبل جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں قیدیوں سے دہشت گردی کے کئی واقعات کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، تاہم جیل پولیس اس بات کی تصدیق نہیں کر رہی، ذرائع کا کہنا ہے آپریشن کے دوران ملنے والے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز میں موجود ڈیٹا جانچ پڑتال کے لئے ماہرین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان کرنل شفیق نیازی نے بتایا جسٹس مقبول باقر پر کیے جانے والے حملے کی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا جیل کے اندر سے حملے کی منصوبہ بندی کے لئے موبائل فون کے ذریعے کالز کی گئی تھیں جیل کی تلاشی کے دوران 6 موبائل فون ملے جس میں وہ موبائل فون بھی شامل ہیں جس سے کالز کی گئی تھیں انہوں نے بتایا مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن نے کہا جیل میں آپریشن معمول کے مطابق کیا گیا، آپریشن کا تعلق جسٹس مقبول باقر حملے سے ہرگز نہیں۔ ان کا کہنا تھا جیل کے اندر کسی سے کوئی تفتیش نہیں ہو رہی اور نہ ہوئی ہے، آپریشن کے دوران کوئی کمپیوٹر برآمد نہیں ہوا، انہوں نے کہا سرچ آپریشن کے دوران 6 موبائل فون، ایم پی تھری پلیئر جس میں قیدی گانے یا قرآنی آیات سنتے ہیں برآمد ہوئے اس کے علاوہ داڑھی مونچھ بنانے والی چھوٹی قینچیاں اور قیدیوں کی جانب سے بنائی جانے والی چھوٹی چھریاں برآمد ہوئی ہیں۔ تفتیشی حکام نے جیل کے اندر کالعدم تنظیم کے مشتبہ قیدیوں سے جسٹس مقبول باقر پر حملے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کر لی ہے اور 20 جون کو ضمانت پر رہا ہونے والے ایک قیدی کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقوں کمارادر اور ٹاور کے اطراف میں پولیس اور رینجرز کی کارروائی کے دوران راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ نجی ٹی وی کا کہنا ہے کھارادر اور اطراف کی اونچی عمارتوں پر اہلکار تعینات تھے۔ اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ملزمان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران ملزمان نے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر تین اطراف سے راکٹوں سے حملہ کیا جس سے دھماکے ہوئے۔ ایس ایس پی طارق دھاریجو کے مطابق جانی نقصان سے بچنے کے لئے علاقے میں کاروبار بند کرا دیا۔ گھاس منڈی میں رینجرز نے کارروائی کے دوران گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ملزم افلاطون کو گرفتار کر لیا۔