افغان مفاہمتی عمل : فریقین کے تحفظات کا خیال رکھا جائے : زرداری ۔۔۔ پاکستان سے تعاون جاری رہے گا : برطانوی وزیراعظم

30 جون 2013
افغان مفاہمتی عمل : فریقین کے تحفظات کا خیال رکھا جائے : زرداری ۔۔۔ پاکستان سے تعاون جاری رہے گا : برطانوی وزیراعظم

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ+ نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری سے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ افغانستان میں امن کا واحد راستہ مفاہمتی عمل ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا پرزور حامی ہے اور وہ امن کے قیام کی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا کہ مفاہمتی عمل میں تمام فریقین کے ٹھوس اور جائز تحفظات کا خیال رکھا جائے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ون آن ون ملاقات کے علاوہ وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان جنگ زدہ افغانستان میں مستحکم اور طویل المیعاد امن کے قیام کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر نے زور دیا کہ برطانیہ توانائی سمیت انفراسٹرکچر، زراعت اور مائننگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے۔ ترجمان کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے جمہوری انتقال اقتدار پر صدر آصف زرداری کو مبارکباد دی اور کہا کہ پرامن انتقال اقتدار ملک میں سیاسی پختگی کا ثبوت ہے۔ پرامن انتقال اقتدار سے پاکستان میں جمہوری اقدار مزید مضبوط ہونگی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ جمہوری انتقال اقتدار کا سہرا تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور عوام کے سر ہے۔ عوام نے دہشت گردوں اور جمہوریت مخالف عناصر کی دھمکیوں کے باوجود انتخابات میں حصہ لیا۔ عوام نے ثابت کردیا کہ وہ جمہوریت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ عوام کے جمہوریت پسند رویئے کی وجہ سے ہی آمریت ملک میں جڑیں نہیں پکڑ سکی۔ صدر آصف علی زرداری نے برطانوی وزیراعظم کا ایوان صدر آمد پر پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے ایوان صدر کے مین گیٹ پر آکرڈیوڈ کیمرون کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ہاتھ ملائے، وفود کا تعارف کرایا۔ بعدازاں ان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال سے متعلق امور پر بات چیت کی۔ صدر نے برطانیہ کے ساتھ مختلف ایشوز پر خودمختارانہ برابری اورباہمی اعتماد پرمبنی کثیر الجہتی اور گہرے تعلقات کیلئے پاکستان کی خواہش کااظہار کیا۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یقین دلایا کہ برطانیہ شدت پسندی پرقابو پانے‘ یورپی منڈیوں میں تجارتی رسائی اورسرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماﺅں نے افغان امن عمل اورافغانستان سے غیرملکی افواج کی واپسی کے پس منظر میں صورتحال کاجائزہ لیا۔ پاکستان میں برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر ایڈم تھامسن اور برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما بیرونس پاکستانی نژاد برطانوی شہری سعیدہ وارثی بھی ملاقات میں شریک موجود تھیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستا ن میں جمہوریت مضبوط ہوچکی ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق دونوں رہنما¶ں کے درمیان ملاقات مےں دوطرفہ تعاون اور اقتصادی امور پر تبادلہ خےال کےا گےا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق دونوں رہنما¶ں کے مابےن بات چےت دو مراحل مےں ہوئی،پہلے مرحلے مےں بات چےت وفود کی سطح پر ہوئی اور بعد ازاں دونوں رہنما¶ں کے درمےان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ ملاقات مےں پاکستان برطانےہ باہمی تعلقات،خطے کی صورتحال دوطرفہ اموراقتصادی تعاون اور ہمساےہ ملک افغانستان مےں امن کے قےام کےلئے حالےہ کوششوں کے حوالے سے خصوصی تبادلہ خےال کےا گےا، صدر نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور سےکورٹی کو اپنی سماجی اقتصادی مفاد مےں اولےت دےتا ہے۔ ہر اس کوشش کی حماےت جاری رکھے گا جس سے افغانستان اور خطے مےں امن کے قےام استحکام اور ترقی آئیگی۔ پاکستان تعمیری سوچ رکھتا ہے۔ وہ مذاکرات کو ہی افغانستان مےں دےرپا امن کا ضامن سمجھتا ہے۔ پاکستان برطانےہ کو دوست اور اصل ترقےاتی شراکت دار سمجھتا ہے اور ےہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان برطانےہ وسےع تر سٹرٹےجک ڈائےلاگ مےں باہمی تعلقات کے تمام شعبوں کا احاطہ کےا گےا ہے۔ صدر زرداری نے پاکستان کے ساتھ برطانوی تعاون بالخصوص تعلےم کے شعبے اور غربت کے خاتمے کے پروگرام مےں برطانوی تعاون کو سراہا اور اس امےد کا اظہار کےا کہ دونوں ملکوں کے درمےان باہمی تجارت کا حجم بڑھے گا۔ باہمی تجارت کا حجم2.5 ارب پا¶نڈ کے ہدف کو حاصل کرے گا، صدر نے توانائی، بنےادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت پر مبنی صنعت اور کان کنی کے شعبوں مےں براہ راست برطانوی سرماےہ کاری کو فروغ دےنے کی ضرورت پر زور دےا اور کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبے مےں برطانوی سرماےہ کاری کا خواہشمند ہے۔ ملاقات کے موقع پر برطانوی وزےر سعےدہ وارثی، نےشنل سےکورٹی اےڈوائزر سرکےم دروچ، برطانوی ہائی کمشنر اےڈم تھامسن، پاکستان کی جانب سے قومی سلامتی وخارجہ امور کے حوالے سے مشےر سرتاج عزےز، صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر، سےکرٹری جلےل عباس جےلانی اور دےگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون آج وزیر اعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کریں گے جس میں پاکستانی شہریوں کےلئے برطانوی ویزے کیلئے زرضمانت کی شرط، دو طرفہ تعاون اور خطے کی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غور لائے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ون ٹوون ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی بات چیت کی جائےگی۔ ڈیوڈ کیمرون میاں نواز شریف کو افغان حکام سے ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت پر اعتماد میں لیں گے جبکہ تجارت، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پربھی بات چیت کی جائیگی۔ پاکستانی شہریوں کو برطانیہ کے ویزے کیلئے زرضمانت جمع کرانے کی مجوزہ پابندی کے معاملے کو بھی اٹھایا جائے گا۔ قبل ازیں جب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون دو روزہ دورے پر نور خان ایئربیس چکلالہ پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا‘ روایتی لباس میں ملبوس دو بچوں نے انھیں گلدستہ پیش کیا۔ وفاقی برائے سائنس وٹیکنالوجی زاہد حامد‘ برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن اور برطانوی ہائی کمیشن کے سفارتکاروں اورسینئر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا جس کے دونوں اطراف پاک فضائیہ کا دستہ موجود تھا۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ایک ہیلی کاپٹر بھی فضا میں سیکورٹی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کے دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لئے یہ بڑا سازگار ہے۔ ”ایک سہ فریقی مذاکراتی عمل ہے جس میں پاکستان، افغانستان اور برطانیہ شامل ہیں، اسی طرح بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی برطانیہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، ہم ان کے خیالات کو اور و ہ ہم ارے خیالات کو بہت قدر سے دیکھتے ہیں کیونکہ آپس میں ایک دوسرے کے مشورے سے ہم علاقے میں امن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں تجارت اور اقتصادی تعلقات تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ صحت، تعلیم، دفاع اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں فروغ کے خواہاں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم تین ارب ڈالر ہے۔ اسلام آباد میں برطا نوی ہائی کمشن کے ترجمان نے امریکی ریڈیو سے گفتگو میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی پاکستان آمد سے متعلق میڈیا کی خبروں پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کسی طرح کی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون دو روزہ دورے کے دوران تاجروں سے بھی ملاقات کرینگے اور تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے دوطرفہ تعاون کے نئے طریقوں پر بات چیت کرینگے۔ وہ طلباءسے بھی ملیں گے اور ان سے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کرینگے۔ وہ اسلام آباد میں شکرپڑیاں کا دورہ بھی کرینگے۔