چینی کمپنیاں توانائی کے شعبے میں تعاون کریں‘ بھارت سے دوستی کی پالیسی جاری رہے گی : نوازشریف

30 جون 2013
چینی کمپنیاں توانائی کے شعبے میں تعاون کریں‘ بھارت سے دوستی کی پالیسی جاری رہے گی : نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ثناءنیوز + آئی این پی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ تعلقات مزید بلندی تک لے جانے کے لئے پرعزم ہے اور چین کی طرف سے معاشی امداد اور حمایت کی بڑی قدر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات چین کے سفیر سن وائی ڈونگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں جنہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے سن وائی ڈونگ کے پاکستان کے بطور سفیر تعیناتی کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے کہا چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو رہے گی اور یہ خطے میں امن و استحکام کا باعث ہے۔ وزیراعظم نے گلگت کے حالیہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے چینی کوہ پیماﺅں کے خاندانوں اور چینی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کے دورے کے منتظر ہیں اور اس سے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ گوادر بندرگاہ منصوبہ دونوں ممالک کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ کا طرہ امتیاز ہے۔ اس سے دونوں ملکوں اور خطے کو اقتصادی فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ پاکستان اور چین دونوں طویل المیعاد معاشی کوریڈور بنانے کا وژن رکھتے ہیں اور یہ آگے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ایک وفاقی وزیر کی سربراہی میں اس بارے میں ٹاسک فورس بنائی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان، چین دوستی کسی ملک کے خلاف نہیں ہے چین سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ گوادر سے صرف پاکستان نہیں بلکہ خطے کے عوام کی قسمت بدل جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اسلام آباد میں چین کے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔ چینی صحافیوں نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے آئندہ ہفتے ان کے مجوزہ دورہ چین کے تناظر میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک لازمی جزو ہے۔ پاکستان، چین دوستی پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اور تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ چین کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی تاجر برادری مشترکہ کاروبار کی خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے گوادر کی بندرگاہ کا انتظام برادر دوست ملک چین کے سپرد کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بندرگاہ کی فعالیت سے پاکستان نہیں بلکہ خطے کی قسمت وابستہ ہے اقتصادی راہداریوں سے وسط ایشیائی ممالک کو بھی خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔ پاکستان میں توانائی، تعمیرات، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں چین کے سرمایہ کاری کو مزید فروغ مل سکتا ہے اس حوالے سے تعاون بڑھنا چاہئے۔ کئی منصوبوں پر کام شروع ہو سکتا ہے آنے والے سالوں میں دونوں ممالک میں مشترکہ سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے چین کے وزیراعظم کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ان سے ہماری ملاقات انتہائی مفید اور مثبت رہی۔ کئی معاملات پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے تعاون سے گوادر کی بندرگاہ مستقبل میں خطے کا اقتصادی حب بن جائے گی۔ کاروباری سرگرمیوں کو تیزی سے فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے نانگا پربت میں چینی کوہ پیما¶ں کی ہلاکت پر چین کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جولائی کے پہلے ہفتہ میں چین کے اپنے دورے کے منتظر ہیں، اس دورہ سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ منصوبہ پاک چین سٹرٹیجک شراکت داری کا طرہ امتیاز ہے اور اس سے دونوں ممالک کو اقتصادی ثمرات ملیں گے۔ وزیراعظم نے اپنے اطمینان کا اظہار کیا کہ طویل مدتی اقتصادی راہداری کے قیام کا مشترکہ وژن آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کے ذرائع تلاش کرنے کیلئے ایک وفاقی وزیر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ بلند سطح پر لے جانے کیلئے پرعزم ہے اور چین کی اقتصادی امداد اور تعاون کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ، چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کوفروغ دیناچاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ خاص طور پر توانائی ، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تجارتی راہداری کے قیام سے وسطی ایشیائی ملکوں سمیت پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر سے پاکستان کے لوگوں کی قسمت بدل جائے گی۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید اور منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چین کیساتھ توانائی، ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہم چین کیساتھ خاص طور پر توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم چاہتے ہیں، چین کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا پاک چین اقتصادی و راہداریوں کے قیام سے وسط ایشیائی ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان کی تاجر برادری چینی تاجروں کے ساتھ تعلقات کے خواہاں ہیں حال ہی میں چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے دوران خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ این این آئی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری کیخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ امریکہ کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھا رہے ہیں۔چینی کمپنیاں پاکستان آکر توانائی کے شعبے میں کام کریں،چینی کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرینگے۔لوڈشیڈنگ کا خاتمہ،معیشت اور امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔آنیوالے مہینوں میں بہتری نظر آئے گی۔چینی میڈیا پاکستان اور چین کے مفادات اور مشترکہ مقاصد کےخلاف بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈہ کو مسترد کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ جلد ہی کراچی سے پشاور 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ٹرین چلائی جائیگی، جیسی چین میں بیجنگ سے شنگھائی کیلئے چل رہی ہے۔ ڈرون حملوں کے بارے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستان میں منفی رائے پیدا ہو رہی ہے اور اس کے بارے میں بین الاقوامی قوانین بھی بالکل واضح ہیں، ڈرون ہماری فضائی حدود اور ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے ان حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے اور حکومت نے یہ مسئلہ امریکہ کے ساتھ اٹھایا ہے اور ان حملوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے ڈرون حملوں کو غیر سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملہ کو امریکہ کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھا رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اب تک بھاری قیمت چکانا پڑی ہے، 40 ہزار سے زائد لوگ جن میں مسلح افواج، پولیس، انتظامیہ اور عام لوگ شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں، اس عرصہ میں پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور اسے 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ انہوں نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ، معیشت اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور پاکستان سے تشدد کے مکمل خاتمہ کو اپنی انتہائی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں انہیں تبدیلی نظر آئے گی اور یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چینی کمپنیوں کو پاکستان آ کر توانائی کے شعبہ میں کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ موٹرویز تعمیر کرنا چاہیں گے اور مجھے خوشی ہے کہ چینی کمپنیاں ان منصوبوں میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ تیز رفتار ٹرینوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو عملی شکل دی جائے تو اقتصادی تعاون سینکڑوں ارب ڈالر عبور کر سکتا ہے، یہی وقت ہے کہ دونوں ممالک تیزی سے آگے بڑھیں تاکہ موجودہ استعداد سے مستفید ہو سکیں۔ پاک چین تجارتی راہداری پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے جہاں پاکستانی اور چینی سرمایہ کار اپنی انفرادی حیثیت میں سرمایہ کاری کریں گے۔اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ان کی ہمیشہ کوشش یہی ہے کہ پاکستان بھارت کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے تاکہ عوام کے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔ وزیراعظم نے یہ بات پاکستان، بھارت مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا ان کی پارٹی اپنے سابقہ ادوار حکومت میں بھارت کے ساتھ دوستی اور تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ پالیسی جاری رہے گی تاکہ خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان، بھارت مشترکہ بزنس کونسل کے زیر اہتمام بھارتی تاجروں کے دورے پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ اس سے اعتماد کا اعادہ ہو گا یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں اور بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھارت جائیں اور دونوں ممالک میں تعاون کے امکانات کی نشاندہی کریں۔ انہوں نے کہا حکومت کاروبار دوست پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے۔ ہمیں توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پاور سیکٹر میں مدد سے اس ایشو پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بھارتی وفد نے کہا کہ اسی خطے میں واقع ہونے اور ایک جیسے مسائل کی وجہ سے بھارت بھی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی تربیت میں بہت مدد دے سکتا ہے۔ ملاقات میں بلاامتیاز منڈی تک رسائی کے بارے میں بات چیت کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے صنعت کاروںکو یکساں مواقع ملنے چاہئے۔ ملاقات میں اطلاعات ونشریات، پانی و بجلی کے وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔ مشترکہ بزنس فورم نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا۔دی نیشن کے مطابق وزیراعظم نے بھارتی سرمایہ کاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بجلی کے سنگین بحران کا شکار ہیں اور بجلی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی مدد ہمیں مسئلہ پر قابو پانے میں مدد دے گی۔