ایران گیس منصوبہ پر دباﺅ برداشت ہے نہ آئی ایم ایف کی مسائل پیدا کرنے والی شرائط مانیں گے : اسحق ڈار

30 جون 2013

لاہو (ملک ارشد عاصم / وقت نیوز) وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف ڈاکٹر مجید نظامی سے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحق ڈار نے ڈاکٹر مجید نظامی کو بتایا کہ حکومت شفافیت، گڈ گورننس اور ”زیرو ٹالرینس“ پر یقین رکھتی ہے۔ نوازشریف حکومت ملکی مسائل حل کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیگی۔ وزیر خزانہ نے بجٹ میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات سے بھی ڈاکٹر مجید نظامی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر مجید نظامی کے ساتھ نئے مالی سال کے بجٹ میں عائد کئے گئے ٹیکسوں اور معاشی پالیسیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے حکومت ڈاکٹر مجید نظامی کے قیمتی مشوروں سے استفادہ کریگی۔ اس ملاقات کے دوران دی نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری بھی موجود تھے۔ بعدازاں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے وقت نیوز کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا۔ بعدازاں وقت نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط مانی نہ اب مانیں گے، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ٹیکس بڑھائے جائیں لیکن حکومت تمام فیصلے قومی مفاد میں کریگی۔ انہوں نے کہا مالی ڈسپلن میں بے قاعدگی کی وجہ سے غیر ملکی قرضہ بڑھا، دو ہزار ارب قرض لیکر ملک چلایا جا رہا ہے۔ قرضے 52 سال میں صرف تین ہزار ارب رہے جبکہ صرف گذشتہ ساڑھے پانچ سال میں قرضوں کی سطح چودہ ہزار ارب تک پہنچ چکی ہے۔ ٹیکسوں کے ذریعے جی ڈی پی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اشیائے خوردنی پر ٹیکس نہیں لگایا لیکن بعض عناصر غلط پروپیگنڈا کے ذریعے حکومت کو بدنام کر رہے ہیں۔ بجلی کے یونٹ کی قیمت 14 روپے 90 پیسے اور وصولی 9 روپے ہے، باقی سبسڈی حکومت برداشت کررہی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، سب کچھ نیپرا کے ہاتھ میں ہے کیونکہ وہ خودمختار ادارہ ہے۔ اگر ڈاکٹر ثمر مبارک مند بجلی پیدا کرنے کی گارنٹی دیں تو پیسے دینے کیلئے تیار ہیں۔ گذشتہ حکومت نے بھی ڈ اکٹر ثمر مبارک مند کو مطلوبہ رقم دی مگر اس کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ پاکستان، ایران گیس پائپ لائن پر کسی کا دبا¶ برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان ایران پائپ لائن منصوبے کی فیزیبلٹی ہے اور نہ یہ اس حوالے سے کوئی جانتا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے مطلوبہ رقم کہاں سے ملے گی۔ وزیراعظم سمیت تمام وزرا کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دئیے ہیں۔ سپیکر اور چیئرمین سینٹ کے صوابدیدی فنڈز کا معاملہ بھی فنانس کمیٹی کے حوالے کردیا ہے۔ اپوزیشن نے بجٹ کے موقع پر جو رویہ اپنایا یہ ان کا حق تھا البتہ حکومت نے اپوزیشن اور سینٹ کی 21 تجاویز بجٹ میں شامل کیں۔ انہوں نے کہا جب تک کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہیں ہوتا کام شروع نہیں کرسکتے۔ وفاق کو خطرے میں ڈال کر کالا باغ ڈیم نہیں بنایا جاسکتا، حکومت بھاشا ڈیم کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریگی تاکہ پانی ذخیرہ اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔ کوئلے اور گیس سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائیگی، تیل سے مہنگی بجلی پیدا کرنے کے بجائے بجلی کے چار منصوبے کوئلے سے چلائے جائیں گے تاکہ 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے۔ بھارت سے گیس اور ایل این جی درآمد نہیں کی جائیگی جو ملک اپنی ضروریات پوری نہیں کرسکتا وہ ہمیں توانائی بحران میں مدد کیا دیگا۔ پندرہ سو سے دو ہزار میگاواٹ بجلی بھارت پاکستان کو دینے کی پوزیشن میں ضرور ہے لیکن بھارت سے بجلی لینے یا نہ لینے کا فیصلہ قومی مفاد کے پیش نظر کیا جایگا۔ ایل این جی کیلئے عالمی سطح پر ٹینڈر کھولے جائیں گے۔ اس سلسلے میں شفافیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائیگا۔ پرائس مانیٹری سسٹم کو مضبوط بنایا جائیگا۔ منافع خوروں کی سخت نگرانی ہوگی۔ اس سلسلے میں پرانا مجسٹریسی نظام دوبارہ فعال بنایا جائیگا۔ رمضان المبارک میں حکومت سپیشل پیکیج دیگی، اس سلسلے میں یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ چیزوں کی قیمتیں کم رکھنے میں کردار ادا کرے۔ وزیراعظم چین کے دورہ کے دوران چینی حکومت کو کاشغر سے گوادر تک اکنامک زون بنانے کی تجویز دیں گے تاکہ دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی لچاظ سے عالمی منڈیوں تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔ حکومت نے حاجیوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا بلکہ حج ٹور آپریٹرز کو حاصل ہونیوالی آمدن پر ٹیکس لگایا۔ پری پیڈ صارفین کو ٹیکس نیٹ میں آنا چاہئے، جو لوگ موبائل فون کے بیلنس کی شکل میں ایڈوانس ٹیکس دے رہے ہیں انہیں ٹیکس فارم میں اس کا واضح ذکر کرنا چاہئے تاکہ انہیں رعایت مل سکے۔لاہور (آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا‘ آئی ایم ایف کی کوئی ایسی شرائط تسلیم نہیں کریں گے جس سے ملک میں مسائل پیدا ہوں‘ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پرکسی کادباﺅبرداشت نہیں کرینگے‘ بھارت پاکستان کو1500سے 2000ہزار مےگاواٹ بجلی دےنے کےلئے تےار ہے مگر بجلی لےنے یانہ لےنے کا فےصلہ قومی مفاد پےش نظر رکھ کر کےا جا ئےگا ‘رمضان المبارک میں حکومت سپیشل پیکیج دےگی‘ حکومت کی اولین ترجیح معیشت کو مضبوط اور توانائی کے بحران کو ختم کرنا ہے‘ بجٹ میں غریب آدمی پر ٹیکس نہیں لگایا‘ ٹیکس اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ جو لوگ ٹیکس دے سکتے ہیں ان سے ضرور لیا جائےگا۔ وہ داتا دربار لاہور میں اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران داتا دربار میں سحری اور افطاری کے انتظامات سمیت مختلف امور پر مشاورت کے بعد حکمت عملی تیار کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک معاشی طور پر انتہائی کمزور اور مسائل کا شکارتھا لیکن ہم نے انتہائی تھوڑے عرصے میں ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے اور بجلی سمیت دیگر مسائل کے خاتمے کیلئے ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے نہ صرف عام آدمی کی مشکلات میں کمی ہوگی بلکہ یہ معاشی طور پر مضبوط ہو گا غیر ملکی سرمایہ کاری بھی آئیگی۔ ہم پاکستان کے قرضے کم کرنا چاہتے ہیں۔ حکو مت تمام فےصلے ملک اور قوم کے مفاد مےں کر ےگی ہم نے پہلے آئی اےم اےف کی کوئی شرط مانی ہے اور نہ آئندہ مانےں گے ۔ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا، حکومت کی اوّلین ترجیح ملک میں معیشت کو مضبوط اور توانائی کے بحران کو ختم کرنا ہے۔