پنجاب اسمبلی : ضمنی بجٹ منظور‘ اپوزیشن کا واک آﺅٹ‘ احتجاج‘ وزرا نے سپیکر کو ”پریشان“ کردیا

30 جون 2013
پنجاب اسمبلی : ضمنی بجٹ منظور‘ اپوزیشن کا واک آﺅٹ‘ احتجاج‘ وزرا نے سپیکر کو ”پریشان“ کردیا

لاہور (کلچرل رپورٹر + کامرس رپورٹر + سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے 82 ارب 20 کروڑ 73 لاکھ 52 ہزار روپے کے 42 ضمنی مطالبات زر منظور کر لئے۔ اپوزیشن کی کٹوتی کی 5 تحریکیں مسترد کر دی گئیں۔ مطالبات زرکی منظوری کے لئے رائے شماری شروع کی گئی تو اپوزیشن یہ کہہ کر کہ ”ہم اس ظلم میں شریک نہیں ہونا چاہتے“ واک آﺅٹ کر گئی جس کے بعد حکومت نے اپوزیشن کی ایوان میں عدم موجودگی میں ضمنی بجٹ کے لئے 42 مطالبات زر کو منظور کر لیا جس کے بعد سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔ واک آ¶ٹ کے بعد اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کے باہر کھڑے ہو کر نعرے لگائے مغلیہ اخراجات نامنظور، ضمنی بجٹ نامنظور۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں تحریک انصاف ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ نے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی قیادت میں احتجاج کیا۔ محمود الرشید نے میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہا کہ مغل بادشاہوں کی طرح کے کئے گئے اخراجات کو زبردستی پاس کروایا جا رہا ہے جس میں اپنی الیکشن مہم کے لئے سرکاری خزانہ سے اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں اس لئے اپوزیشن نے بائیکاٹ کر دیا ہے۔ قبل ازیں کٹوتی کی تحاریک پر خطاب میں احمد شاہ نے کہا کہ نہروں میں فیکٹریوں کا آلودہ پانی شامل ہونے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ راحیلہ انور نے کہا کہ ہمارے دریا خشک ہو رہے ہیں بھارت ڈیم بنا رہا ہے۔ سردار آصف نکئی نے کہا کہ حکومت 2010ءکے فلڈ پر کمشن بنائے کیونکہ جسٹس منصور کمشن نے جس سیکرٹری کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا حکومت نے اس کو سیکرٹری انرجی تعینات کر دیا ہے۔ فائزہ ملک نے کہا کہ لاہور نہر میں فیکٹریوں اور سیوریج کا گندا پانی شامل ہونے سے روکا جائے۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ اری گیشن سسٹم کی لمبائی پنجاب میں 25 ہزار کلومیٹر ہے اورنظام ایک سو سال سے پرانا ہے اس لئے اس کی دیکھ بحال پر ہر سال خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ شوگر مافیا ملک کو لوٹ رہا ہے۔ ثمینہ خاور حیات نے کہا کہ محکمہ خوراک سرکاری قیمتوں پر گندم خریدنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ سبطین خان نے کہا کہ جیل میں وزیر کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے وہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ کٹوتی تحریک پر اسمبلی میں وزیروں کی بوکھلاہٹ کی وجہ سے سپیکر پنجاب اسمبلی کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبائی وزیر بلال یاسین نے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریک پر سپیکر کو کہا کہ اس کو منظور کر لیں جس پر اپوزیشن کی طرف سے ڈیسک بجائے گئے کہ وزیر نے کٹوتی کا مان لیا ہے جس پر ساتھ بیٹھے ایک وزیر نے بلال یاسین کو چٹ دی کہ وہ کہیں کہ اس کٹوتی کی تحریک کو مسترد کر دیں اس دوران سپیکر ان کو بار بار پوچھتے رہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اپ کٹوتی کو مان رہے ہیں تاہم اپوزیشن کے ارکان اس دوران ڈیسک بجا کر خوشیاں مناتے رہے۔ اری گیشن کے حوالے سے کٹوتی کی تحریک پر وزیر نے غیر متعلقہ گفتگو شروع کر دی تو سپیکر نے ان کو پہلے کہا کہ بتائیں کہ آپ چاہتے کیاہیںوہ پھر بھی بولتے رہے۔ سپیکر نے کہا کہ آپ اس کو منظور یا نامنظور کروانا چاہتے ہیں۔ تیسری بار سپیکر نے غصہ میں کہا کہ باتیں چھوڑیں تحریک کے متعلق بتائیں کیا چاہتے ہیں تاہم وزیر بار بار کہنے کے باوجود محکمے کا لمبا جواب پڑھتے رہے۔ تحریک پیش ہوئی تو حکومتی ارکان نے ہلکی آواز میں کہا ہے کہ نامنظور تاہم اپوزیشن ارکان نے اونچی آواز میں کہا کہ منظور جس پر تحریک انصاف کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اب اس تحریک پر ووٹنگ کروا لیں، سپیکر نے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ سپیکر بار بار وزیروں کو آپس میں باتیں کرنے سے روکتے رہے۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی فائزہ ملک نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے بجلی کا بحران ختم کرنے کیلئے حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے بھارت سے بجلی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے مگر عوام میں اس فیصلے پر تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ بھارت پہلے ہی کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے۔ سپیکر رانا محمد اقبال نے انہیں مزید بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ یہ معاملہ وفاقی حکومت سے متعلق ہے آپ اپنی پارٹی سے کہیں کہ معاملہ وفاق میں اٹھائیں۔ حکومتی رکن شیخ اعجاز نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے شہباز شریف کے نقش قدم پر چلنے کے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ (ق) لیگ کی ثمینہ خاور نے رمضان المبارک سے قبل ذخیرہ اندوزی اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تحریک التوائے کار اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی۔