سیاحت کو ترقی دے کرمعےشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے: رانا مشہود

30 جون 2013
سیاحت کو ترقی دے کرمعےشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے: رانا مشہود

لاہور ( اپنے نامہ نگار سے)ہم نے امریکہ کو فالو کرنا ہے نہ طالبان کو ہم نے اپنے آپ کو فالو کرنا ہے۔طالبان اپنے اپنے ممالک میں جا کر تجربات کریں پاکستان میں نہیں۔ ہم سیاحت کے شعبے میں انقلاب کے لئے کئی پروگرام لا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر اعظم نواز شریف ذاتی طور پر سیاحت کی ترقی کے حوالے سے بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔بچوں کو ٹورازم کے حوالے سے آگاہی پروگرام ترتیب دئیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار سیاحت، تعلیم، آثار قدیمہ، کھیل کے وزیر رانا مشہود احمد خان نے حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوآف پاکستان میں ” پاکستان میں سیاحت کا فروغ، صورتحال اور امکانات“ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کی صدرات صوبائی وزیررانا مشہود نے کی، مہمان خصوصی اوریا مقبول جان اور سلیم بخاری تھے۔سیمینار میں سینئر صحافی فضل حسین اعوان، ٹی ڈی سی پی کے جی ایم تنویر جبار اور حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے بھی خطاب کیا۔ ابصار عبدالعلی نے سپاس نامہ پیش کیا اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض سنبھالے۔ صوبائی وزیر رانا مشہود احمد خان نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سیاحت ایک برننگ ایشو ہے۔سیاحت کو ترقی دیکر ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ہم سیاحت میں انقلابی پروگرام لائیں گے۔بچوں کو ٹورزم کی طرف راغب کرنے کے لئے خصوصی پیکج دیں گے۔سیاحت کے شعبے کو فنڈ نہیں دیئے جاتے جس وجہ سے یہ شعبہ ترقی نہیں کر رہا ۔جاپان کی طرف سے دی جانے والی ٹیکسلا لائبریری بند پڑی ہے۔ٹورازم کو مضبوط کر دیا جائے تو پورے پاکستان کا خرچہ اس سے نکل سکتا ہے۔شاہی قلعہ میں شاہی چوب دار کی طرز پر گارڈ تعینات کئے جائیں گے تاکہ ہماری روایات کی عکاسی ہو اور لوگ تاریخی ورثہ دیکھنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر ترکی اور بھارتی ڈرامے دکھائے جاتے ہیں ملکی ثقافت کو نہیں دکھایا جاتا۔ٹورزم کی انڈسٹری میں انویسٹمنٹ کر کے اسے آگے لے جایا جائے گا۔ اوریا مقبول جان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاحت ہمارے معاشرے کا حسن ہے۔ ہم آگے کی بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔ نور جہاں کے مقبرے سے جان بوجھ کر ریلوے لائین نکالی گئی۔ ہمارے نوادرات برطانیہ لے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ٹورازم کی بات کرتے ہیں ہمارا تو پورامعاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔زیارت میں قائد اعظم کی ریزیڈنسی پر حملہ ہوا۔ ہماری نو جوان نسل کو پتہ ہی نہیں کہ قائد کی ریزیڈنسی کیا ہے۔ انہیں اے لیول او لیول پر لگا دیا گیا ہے۔ میں نے کہانی پڑھی تھی حضرت عبدالقادر جیلانی کی جنہوں نے ڈاکوﺅں سے کہا کہ” میرے پاس دینار ہیں، میری ماں نے کہا تھا کہ جھوٹ نہ بولنا “اور آج ہم اپنے بچوں کو سنڈریلا کی کہانی پڑھا رہے ہیں ۔ شاہی قلعہ لاہور کو کوئی حکومت own ہی نہیں کرتی تھی۔ دی نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری نے کہا کہ انہیںپہلے ملکی ٹورازم کو بہتر کیا جائے پھر انٹر نیشنل ٹورازم پر توجہ دی جائے۔سکردو سے تقریبا 2 گھنٹے کی مسافت پر ایک علاقہ ہے جہاں جھیلیں ہی جھیلیں ہیں۔ہمارے پاس بہت بڑی کوسٹل لائین ہے۔ہمارے ملک میں 26 جھیلیں ایسی ہیںجن پر دنیا نے پی ایچ ڈی کر لی ہے لیکن ہم انہیں ابھی تک دیکھ بھی نہیں سکے۔ہم اگر اپنی سیاحت کے شعبے کو ٹھیک کر لیں تو ہمیں آئی ایم ایف یا امریکہ سے قرضہ لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔سینئر صحافی فضل حسین اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، سوٹزر لینڈ سمیت متعدد ملکوں کی معیشت کا دارو مدار سیاحت پر ہے۔جنرل مینیجر ٹورزم تنویر جبار نے کہا کہ ٹورازم کے شعبے میں ترقی کے لئے ملک میں تعلیم، بجلی کا ہونا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے لئے مختلف پیکج ترتیب دے دئیے گئے ہیں۔مختلف زبانوں میں پمفلٹ بھی بن گئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو سہولت مل سکے۔