طالبان سے مذاکرات کی کوشش ایک دہائی قبل کرنی چاہئے تھی : نائب نیٹو کمانڈر

30 جون 2013

لندن (آن لائن )برطانیہ کے جنرل نِک کارٹر نے کہا ہے کہ مغرب کو طالبان کے ساتھ ایک دہائی قبل ہی مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جب ان کی حکومت افغانستان میں ختم کی تھی۔نیٹو کی اتحادی فوج کے نائب کمانڈر جنرل نِک کارٹر نے کہا کہ اس وقت سیاسی حل نکالنا آسان تھا کیونکہ طالبان کو ا±س وقت شکست کا سامنا تھا۔یہ بات انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو ایک انٹرویو میں کہی۔ برطانوی جنرل کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔جنرل کارٹر نے مزید کہا کہ 2014 ءمیں اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج کو فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج کے انخلائ کے بعد کابل حکومت کو صرف چند ہی علاقوں میں جزوی کنٹرول حاصل ہو گا۔جنرل کارٹر نے مزید کہا کہ پچھلی ایک دہائی سے ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے وہ سیاسی ہیں اور سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت ہی سے نکلتا ہے۔انٹرویو میں جنرل کارٹر نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ نیٹو کی جانب سے ملک کی سکیورٹی افغان فوج کے حوالے کرنے کے بعد طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہو جائیں گے۔
نائب نیٹو کمانڈر