امن اور معاشی ترقی کا خواب

30 جون 2013

بھارت کے ساتھ دوستی کا تعلق قائم کرنے کی موجودہ حکومت کی پالیسی کا ایک جواز یہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنی مشرقی سرحد کو اس لئے پرامن رکھنا چاہتا ہے کہ اسے معاشی ترقی پر توجہ دینی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم کے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے لئے مشیر جناب سرتاج عزیز سے گفتگو میں یہی تاثر ملا کہ ہماری اولین ترجیح معاشی ترقی ہے۔جس کے لئے ہمیں امن درکار ہے۔یہ ایک جاندار دلیل ہے۔ یہ بات تو کم سے کم دو دہائیاں پہلے ایک سابق چینی صدر نے اپنے دورہ پاکستان میں پاکستانی قیادت کو سمجھائی تھی۔چین کی اپنی پالیسی بھی یہی ہے۔Peace within and Peace without
چین نے 1979 میں دینگ سیا¶پنگ کی قیادت میں مارکیٹ اکانومی کی بنیاد پر ترقی کا جو سفر شروع کیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ چین علاقائی اور عالمی جھگڑوں سے دامن بچا کر اپنی توجہ معاشی ترقی پر مرکوز رکھے تاکہ اس کی شاندار اقتصادی ترقی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔چین کی یہ پالیسی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور عسکری طاقت اور اس کے اثر و رسوخ میں پھیلا¶ کی وجہ ہے ہانگ کانگ کو برطانیہ نے قبل از وقت چین کے حوالے کردیا۔چین نے بغیر گولی چلائے جزیرہ میکا¶ واپس لے لیا۔عام خیال یہ ہے کہ چین تائیوان کو کسی تصادم کے بغیر مین لینڈ کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
چین کی مثال یقیناً قابل تقلید ہے لیکن برصغیر کا معاملہ دوسرا ہے۔پاکستان کو ایک ایسے حریف کا سامنا ہے جس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ جنوبی ایشیاءمیں ایک بالادست طاقت بن کر ابھرے جس کے سامنے باقی ممالک سرنگوں ہوجائیں۔بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ نیپال‘ بھوٹان‘ مالدیپ پر بھارت اپنی بالادستی قائم کرچکا ہے۔ وہ ان ملکوں کو اپنے ”چھوٹے“ سمجھتا ہے۔سری لنکا اور مالدیپ میں تو بھارت فوجی مداخلت بھی کرچکا ہے۔
علاقائی اور پھر عالمی بالادستی حاصل کرنے کے بھارتی خواب کو اگر شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے رہا تو وہ پاکستان ہے۔پاکستان اگر بھارت کے ساتھ ”امن کی آشا“ کے پروگرام پر عمل درآمد کرتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ پاکستان کو بلا رکاوٹ معاشی ترقی کا سفر طے کرنے دے گا۔ بھارت یہ جانتا ہے کہ اگر پاکستان خطے کی معاشی قوت بنتا ہے تو عسکری اعتبار سے تو وہ پہلے ہی اس کے لئے پریشانی کا سبب ہے پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اگروہ اقتصادی طور پر بھی مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر وہ بھارت کو علاقے کا ”کھڑ پینچ“ ماننے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوگا۔
بھارت کے مستقبل کے عزائم پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکانے کا منصوبہ رکھتا ہے پاکستان کے کئی علاقوں میں اس وقت بدامنی ہے اس کے پیچھے کون ہے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2009 میں شرم الشیخ میں جب وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے بھارتی ہم منصب کو ایک فائل دی تھی جس میں بلوچستان میں جاری بدامنی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود تھے من موہن سنگھ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر تحقیقات کرائیں گے۔
بھارت اس حد تک تو معاشی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی منڈی بنالے۔ لیکن وہ پاکستان کی تیز رفتار معاشی ترقی کو مشکل سے برداشت کر سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال بھارت کی طرف سے پاکستان کے حصے کے دریا¶ں پر پاکستان کے اعتراضات کے باوجود ڈیموں کی تعمیر ہے کیا وہ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم رکھ کر اسے زراعت کے شعبہ میں پسماندہ رکھنے کی کوششیں نہیں کر رہا؟ وہ پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فروخت کے لئے تیار ہے لیکن وہ اسے اپنے حصہ کا پانی دینے کے لئے تیار نہیں پاکستان اس پانی کو ذخیرہ کرکے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرے گا جو اس کی صنعتی اور تجارتی ترقی کے لئے ناگزیر ہے پاکستان میں بدامنی بھی اسے سوٹ کرتی ہے کیونکہ یہاں بدامنی ہوگی تو پھر سرمایہ کاری نہیں ہوگی‘ سرمایہ کاروں کو پاکستان سے بھگانا بھی اس کا ایک سٹریجک مقصد ہو سکتا ہے۔ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جہاں حریفانہ کشمکش ہوگی وہاں”اکنامک سبوتاژ“ کا حربہ حریف کو مات دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
خدا کرے کہ موجودہ حکومت کی بھارت سے دوستی اور قیام امن کی کوششیں وہ مقاصد حاصل کر لیں جو پالیسی سازوں کے ذہن میں ہیں لیکن زمینی حقائق اور ماضی کے تجربات تو کچھ اور ہی نقشہ پیش کر رہے ہیں۔جنرل مشرف نے تو ”آ¶ٹ آف دی باکس“ حل تلاش کرنے کے لئے بھارت کو کیا کیا پیشکشیں نہیں کیں لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا۔