”پاکستان ‘ افغانستان ‘ مصر میں ڈرونز سے لوگ مر رہے ہیں‘ اوباما تم ہٹلر اور قاتل ہو“ دورہ جنوبی افریقہ کے دوران مظاہرے

30 جون 2013

کیپ ٹاون (آن لائن+نوائے وقت رپورٹ+بی بی سی)جنوبی افریقہ کے سابق صدرنیلسن منڈیلا کی حالت میں معمولی بہتری آئی ہے لیکن ان کی حالت اب بھی خطرے سے باہر نہیں۔لوگ اپنے محبوب لیڈر کومختلف اندازخراج تحسین پیش کررہے ہیں۔نیلسن منڈیلا کی سابق اہلیہ اوربیٹی نے ان کی عیادت کی۔ان کاکہناہے کہ دعائیں رنگ لے آئیں منڈیلا کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب روزانہ سینکڑوں افراد پریٹوریا میں ہسپتال کے باہر جمع ہوکر اپنے محبوب رہنما کی صحت یابی کے لئے دعائیں مانگتے نظرآتے ہیں، کوئی گلدستے رکھ رہا ہے تو کوئی موم بتیاں جلا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدرباراک اوباما پریٹوریا پہنچ گئے ہیں ان کی آمد سے قبل شہر میں امریکی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ اوباما اور ان کی اہلیہ میشل اوباما نے جوہانسبرگ میں سابق جنوبی افریقن صدر نیلسن منڈیلا کی فیملی سے ملاقات کی۔ برطانوی ٹی کے مطابق اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ کی اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جاتا ہے اوباما نے نیلسن منڈیلا کی اہلیہ سے فون پر بات کی۔ سینی گال سے جنوبی افریقہ پہنچنے پر صدر باراک اوباما نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا ’اصولوں کی طاقت‘ اور صیح مقصد کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کی ایک ایسی مثال ہیں جس نے دنیا کو حوصلہ دیا ہے۔ نیلسن مینڈیلا اب بھی پریٹوریا کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ صدر اوباما نیلسن مینڈیلا سے ملاقات کے لیے ہپستال کا دورہ نہیں کریں گا۔ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے اس موقع پر کہا کہ صدر باراک اوباما اور نیلسن مینڈیلا دونوں تاریخی طور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ’نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے جبکہ باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما مناسب وقت پر براعظم کا دورہ کر رہے ہیں اور امریکہ افریقہ میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔150مظاہرین اس یونیورسٹی کے سامنے جمع ہو گئے جہاں اوباما نے خطاب کرنا تھا۔ بعض نے گوانتا موکے قیدیوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا لوگ لیبیا، شام میں مر رہے ہیں۔ مصر، افغانستان اور پاکستان میں ڈرونز سے شہری مارے جا رہے ہیں اس لئے ہم تمہیں ہٹلر کہتے ہیں، تم قاتل ہو۔