لوئر دیر: دھماکہ میں 4 سالہ بچی جاں بحق، صوابی: ایس ایچ او بم حملہ میں زخمی

30 جون 2013

صوابی+ لکی مروت+ لوئر دیر (ایجنسیاں) صوابی کے علاقے شیوہ میں امتحانی مرکز کے قریب نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شیوہ کے امتحانی مرکز میں ایف اے/ ایف ایس سی کے پرچہ دے کر واپس آنیوالے ایس ایچ او صوابی انسپکٹر اظہار خان کو نامعلوم افراد نے بم حملے کا نشانہ بنایا، ریموٹ کنٹرول بم سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، دھماکے میں ایس ایچ او کے ڈرائیور فرقان علی، گن مین بخت تاج اور ایک راہگیر خاتون زخمی ہوگئی۔ حملے میں ایس ایچ او حملے میں محفوظ رہے تاہم گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ دریں اثناءضلع لکی مروت میں ہفتہ کی صبح شدت پسندوں نے دو سرکاری پرائمری سکولوں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ واقعات پہاڑا خیل پکا اور کوٹاکا دیہات میں پیش آئے۔ دھماکے سے سکولوں کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تحصیل میدان لوئر دیر کے علاقہ شداس لیاکے میں ہونیوالے بم دھماکے میں 4 سالہ بچی جاںبحق جبکہ گھر کے دیگر پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے۔ میدان علاقہ شداس لیاکی کی تحصیل میدان لوئر دیر میں ایک بچی قریب پہاڑی سے کھلونا نما بم گھر لے آئی جو کھیلنے کے دوران اچانک پھٹ گیا جس سے ایک بچی جاںبحق جبکہ گھر کے دیگر پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق لیاکے شداس میں بچیاں قریبی پہاڑ پر سے ایک کھلونا نمابم اپنے ساتھ لے آئیں جو کھیل کے دوران اچانک پھٹ گیا۔ دھماکہ میں چار سالہ آمنہ دختر محمد عمر موقع پر جاںبحق ہوگئے جبکہ حمزہ، ناصر، خدیجہ، عائشہ اور شمیم شدید زخمیوں پر گیس زخمی ہوگئیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔