اب عدلیہ کو فیصلوں سے ثابت کرنا ہے کہ وہ آزاد ہی نہیں غیر جانبدار بھی ہے: گورنر پنجاب

30 جون 2013

لاہور(خصوصی رپورٹر+وقائع نگار خصوصی) گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے استعفے کی منظوری کا نوٹیفکیشن منگل کو جاری ہوجائے گا۔اس بات کی تصدیق گورنرپنجاب احمد محمود نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید سے ملاقات کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔صدر آصف زرداری نے مشکل ترین حالات میں پانچ سال تک ملک میں جمہوریت کو قائم رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہوں تو جمہوریت کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگی،جس سے ملک مضبوط ہوگا۔محمود الرشید نے گورنر سے ملاقات میں اپنے وفد کے ہمراہ ایچی سن کالج سے فارغ کئے جانیوالے اساتذہ کا معاملہ اٹھایا۔نئی حکومت کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کیلئے اپوزیشن کو بھی اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔علاوہ ازیں ثناءنیوز کے مطابق مورطانیہ کے چیف جسٹس سے ملاقات میں گورنر احمدمحمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوئی ہے اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے تمام جماعتوں نے اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور سیاسی بالغ النظری کا ثبوت دیتے ہوئے اس چیلنج سے نبر آزما ہوئی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک کی عدلیہ مکمل آزاد ہے جسے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اب عدلیہ کو اپنے فیصلوں کے ذریعے ثابت کرنا ہے کہ وہ آزاد ہی نہیںبلکہ غیر جانبدار بھی ہے۔گورنر نے کہا کہ ملک اب صحیح سمت پر گامزن ہے اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان معاشی ترقی کی منازل طے کر کے نہ صرف خطے بلکہ مسلم امہ میں ایک کلیدی کردار ادا کریگا۔ اس موقع پرمورطانیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اُن کا دورہ¿ پاکستان بہت خوشگوار رہا اور اس ملک کی سرزمین اور عوام سے مل کر انہیں اپنایت کا احساس ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے۔موریطانیہ کی سپریم کورٹ کے ججوں کے وفد نے چیف جسٹس ہائی کورٹ عمر عطا بندیال سے ملاقات کی۔ وفد میں چیف جسٹس سیدی یحفظ اور موریطانیہ کی سپریم کورٹ کے دیگر دو ججز شامل تھے۔ چیف جسٹس نے معزز مہمانوں کو عدالت عالیہ کی شاندار عمارت کے مختلف حصوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ عمارت کی ساخت مسلم، ہندو اور مسیحی سمیت مختلف ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے ۔فاضل چیف جسٹس نے وفد کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔بعد ازاںوفد نے مزار اقبال ، شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد جیسے تاریخی مقامات کا دورہ بھی کیا۔