تحقیقات مکمل ہونے تک الطاف کو عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے: رانا ثناءاللہ

30 جون 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر قانون و بلدیات رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ کراچی کے ابتر حالات کی ذمہ دار پچھلے پانچ سال سندھ میں برسراقتدار رہنے والی جماعتیں ہیں۔ کراچی کے حالات بارے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سندھ میں پچھلے پانچ سال جو جماعتیں برسراقتدار رہیں ان کے عسکری ونگز ہیں جبکہ انہیں بھتہ خوروں کے بارے میں بھی علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن قائم نہ کرنا سندھ حکومت کی نااہلی ہے وفاقی حکومت از خود سندھ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ پولیس بھتہ خوروں سے ملی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں الطاف حسین پاکستان نہیں برطانیہ کے شہری ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا تاہم آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کے لئے کچھ تو کرنا ہوگا۔ آئی این پی کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ جب تک برطانوی پولیس تحقیقات مکمل نہیںکرتی ہم الطاف حسین کو عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، قوم کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے امیروں پر ٹیکس لگائے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال عیاشی کے زمرے میں آتا ہے اس لئے موبائل کارڈ پر ٹیکس کوئی بُری بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرز سندھ وفاق نہیں سندھ حکومت کے ماتحت ہیں اور وہاں پر امن وامان کو یقینی بنانا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ رات،رات بھر موبائل فون پر بات کرنے پر ٹیکس لگاناچاہئے۔