مشرف کیخلاف غداری کیس، حکومت کا سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنے کا فیصلہ

30 جون 2013

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) وفاقی حکومت نے سابق صدر مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کو سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف قانونی اور آئینی طریقے سے ڈیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آفس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل کوآرڈینیشن کے ساتھ اس کیس کی پیروی کریں۔ حکومت قانونی مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کیس میں سیاسی عنصر شامل ہونے سے ایک طرف اعلیٰ عدلیہ اور عوام میں حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی جبکہ کیس کے کسی بھی مرحلے پر پرویز مشرف کے وکلا کو یہ م¶قف اختیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے کہ حکومت ان کے م¶کل کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کےلئے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کسی بھی طرح کے ممکنہ بین لاقوامی دباﺅ کے جواب میں یہی کہے گی کہ آزاد عدلیہ کے ہر حکم کی تعمیل ان کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے پرویز مشرف کےلئے نرم گوشہ رکھنے والے سیاسی حلقوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ آئین اور قانون سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار نہیں کرے گی۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ ملزم کو فیئر ٹرائل کا بنیادی حق ضرور دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ آئینِ پاکستان میں آرٹیکل 6 دستورِ پاکستان 1973ءمیں ہی شامل گیا تھا اور اِس کا مقصد آئینِ پاکستان کو تحفظ فراہم کرنا تھا تاکہ متفقہ آئین کو توڑنے اور طاقت کے استعمال سے اس کو تبدیل کرنے کی کوئی ہمت نہ کر سکے۔ آرٹیکل 6 کے تین سیکشن ہیں۔ سیکشن ایک اس کی ساخت سے متعلق ہے۔ سیکشن 2 میں بغاوت کی سزا دی گئی ہے جو سزائے موت یا عمر قید ہے جبکہ سیکشن 3 کے مطابق کوئی بھی عدالت اِس جرم کے بارے میں دادرسی نہیں کر سکتی جب تک وفاقی حکومت کے نمائندہ کی طرف سے تحریری طور پر شکایت داخل نہ کی جائے۔ چونکہ یہ فوجداری جرم ہے اور ضابطہ فوجداری 154 کے تحت اندراج مقدمہ کے لئے ایک باقاعدہ درخواست دی جائیگی۔