قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان

30 جون 2013

نظریہ پاکستان کی علامت بانی پاکستان محمد علی جناح کی زیارت میں رہائش پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا گیا ہے معلوم نہےں کہ ہمارا میڈیا اور حکومت پاکستان بانی پاکستان کی رہائش گاہ کو کیا اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک قائد اعظم ریزیڈنسی کی اہمیت ایک قدیم عمارت جتنی تھی۔ اگر بھارت مےں گاندھی یا نہرو کو رہائش گاہ کو اس طرح تباہ کرلیا گیا ہوتا تو پورا بھارتی میڈیا اور حکمران پاکستان کے خلاف راگ الاپ رہے ہوتے۔ ہمارے میڈیا میں کہیں کہیں سے بانی پاکستان کی رہائش گاہ اور قومی ورثے کی آوازیں بھی آرہی ہیں لیکن حکمران اور میڈیا اب تک یہ طے نہیں کرسکے کہ الزام کس پر لگانا ہے۔ کہےں سے بھارت کی دبی دبی آوازیں بھی آرہی ہےں کوئی بیرونی ہاتھ کہہ رہا ہے اور کوئی ناراض بلوچوں پر الزام لگارہا ہے سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ٹھیکیدار کہاں ہیں دوقومی نظریہ کے نام پر بننے والے ملک میں کوئی ملک نظریہ پاکستان کی آبیاری کیلئے کام نہےں کررہے ایک ادارہ مجید نظامی کی قیادت مےں نظریہ پاکستان فاﺅنڈیشن آواز بلند کررہا ہے۔ قائداعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پوری دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی آج بھی ہندوستان کے بعض دانشور سیاستدان ناچاہتے ہوئے بھی انہےں اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہےں۔ پاکستان کی عوام اور حکمران قائداعظم کے احسان کا بدلہ صدیوں نہےں اتار سکتے ۔ قائداعظم کو بھی انگریزوں اور ہندوﺅں نے لامحدود اختیارات مال و دولت حکمرانی اور کوئی قسم کے لالچ دے کر اپنی قوم سے بے وفائی کا تقاضا کیا مگر اس عظیم قائد نے اپنے انفرادی فائدے کی بجائے پاکستان بنانے کو ترجیح دی کیونکہ مسلمانوں کی حیثیت ہندوستان میں ایک غلام سے بھی بدتر تھی اس وقت ہمارا ملک بد ترین حالات کا شکار ہے جو جذبہ قیام پاکستان میں ہمارے آباﺅ اجداد میں تھا آج اس کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔ آج ہمارا دشمن انگریز، ہندو او رسکھ مہاراجا نہےں بلکہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں اور مسلمان بھائیوں کو قتل کرکے جشن منارہے ہےں کو ئی سمجھ نہےں آرہی کہ کون کس کو ماررہا ہے اور کیوں ماررہا ہے ہر کوئی دوسرے کی موت کو اسلام کی فتح قراردیتا ہے اور ہر کوئی اپنے مرنے والے کو شہادت کا اعزازدے کر اسلام کے لئے قربانی دینے کا دعویٰ کررہا ہے یہ قوم شاید مرنے اور مارنے سے خود ہی ختم ہوجائیگی ہمارا دشمن ہمارا تماشہ دیکھ رہا ہے کیونکہ اس کا کام ہم خود سرانجام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کی لہر میں گلگت بلتستان ، خیبر پختونخواہ ، سند ھ، بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں بڑی بڑی شخصیات کو ماردیا گیا کتنے خاندان اجڑ گئے حالیہ سانحہ نانگا پربت جس مےں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بے دردی سے ماردیا گیا یہ واقعہ معمولی نہےں ہے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے اس میں غیر ملکی ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔کوئی پاکستانی دشمن قوت یا قوتیں ضرور ہےں جو ہمےں لڑا کر ختم کررہی ہیں اس وقت نظریہ پاکستان کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہےں تھیں ہم سے ہماری حکومتوں نے قائداعظم کی وفات کے بعد نظریہ پاکستان کو فراموش کردیا جس کی ہمیں سزا مل رہی ہے۔ حکومت نے اصل مسائل بجلی، دہشت گردی، بے روزگاری اور مہنگائی پر توجہ کرنے کی بجائے مشکل راستہ اختیار کرلیا ہے نا جانے کس نے جنرل پرویز مشرف کا پنڈورہ بکس کھولنے کا مشورہ حالانکہ ماضی کی تلخیوں کو بھلانا چاہئے کہیں ہم پھر غلط سمت نہ چلے جائیں۔ تمام مشکلات اور چیلنجر سے نپٹنے کے لئے پوری قوم کو سخت محنت کرنا ہوگی اور ایک سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگانظریہ پاکستان اور قائداعظم سنہری اصولوں اخلاق اور ایمانداری سے عمل کرکے آگے بڑھنا ہوگا پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ہر آنے والا دن پاکستان کے خلاف دشمن کی نئی سازش لے کر آتا ہے۔ ان حالات میں ہمارے حکمرانوں کو اپنے طرز حکمرانی کوبدلنا ہوگا کرپشن میرٹ کی پامالی کا راستہ اور بے روزگاری کو ترک کرنا ہوگا، دیانتداری آئین و قانون کی بالادستی عدل وانصاف کی حکمرانی کویقینی بنانا ہوگا مہنگائی بے روزگاری اور غریب کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے دوسری جانب پاکستانی عوام کو صوبائی، لسانی تعصبات کو ختم کرکے ایک مسلمان اور پاکستان کی حیثیت سے ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا ہوگا یہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا پیغام اور ان کی جدوجہد کا مقصد تھا۔