کسان ملک کا سب سے بڑا ٹیکس گزار ہے

30 جون 2013

حاجی محمد شفیع میرے چھوٹے سے زرعی رقبہ کے سپروائزر ہیں۔ ماہر زراعت ہیں کیلیفورنیا سے ایم ایس سی ایگریکلچر اور کئی سال زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں کام کیا۔ مکئی کاشت کے ماہر ہیں۔حاجی صاحب ایک دن ملنے آئے تو بہت گھبرائے ہوئے تھے کہنے لگے ”نئی حکومت جو بنی ہے اس میں عوامی نمائندے عموماً تاجر، وکیل، صنعت کار، ٹرانسپورٹر، شہری رئیس یا سابق بیوروکریٹ ہیں جنہیں دیہاتی زندگی اور کسانوں کی تکلیفوں، پریشانیوں اور دشواریوں کا ذرا بھر ادراک نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ رئیس زادے خالی خزانہ کو بھرنے کیلئے زرعی ٹیکسوں میں مزید اضافہ کریں گے اور غریب کسان جو پہلے ہی زرعی ٹیکسوں، لگانوں اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے بھوک و ننگ کا شکار ہو جائے گا۔“میں نے جواب دیا کہ گھبرایئے نہیں ہمارے حکمرانوں کے اپنے زرعی فارمز ہیں بعض عوامی نمائندے زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کسان کے جائز حقوق کی حفاظت کریں گے۔ لیکن حاجی صاحب نے میری دلیل سے اتفاق نہ کیا اور باور کراتے رہے کہ آئندہ سال زرعی آمدن میں کمی آئے گی۔چند دنوں بعد ہی صوبائی بجٹ تقریر میں صوبائی وزیر خزانہ نے زرعی ٹیکسوں کو مزید بڑھانے اور ان کی حتمی ریکوری کا عندیہ دیا یہ اشارہ بھی دیا کہ زرعی ٹیکسوں میں اضافہ اور موثر طریق سے ان کا نفاذ اور وصولی کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔ میڈیا نے بھی بغیر تحقیق کئے آواز بلند کی کہ زمینداروں پر مزید زرعی انکم ٹیکس نافذ کیا جائے۔دیہاتی کسان چونکہ ان پڑھ اور بے سہارا ہوتا ہے اس لئے پنجابی کسان کو بالخصوص اور دوسرے صوبوں کے دہقانوں کو بالعموم ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ 23 اقسام کے لگان یا زرعی ٹیکسوں پر ششماہی ادا کر رہا ہے۔ اس لئے کہ 80 فیصد کاشتکار انگوٹھا لگاتے ہیں اور دستخط نہیں کرسکتے۔ اس ملک کا دہقان اس حقیقت سے لا علم اور بے نیاز ہے کہ وہ پچھلے 60 سالوں سے آدھی قیمت پر صنعت کو خام مال اور عوام کو سستا غلا فراہم کر رہا ہے۔ کسان یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ ملک کا سب سے بڑا ٹیکس گزار ہے۔ کسان کو کیا خبر کہ 1996ءکی ٹیکس کمیشن رپورٹ میں دیہاتی لوگ کل ٹیکس کا 65فیصد ادا کرتے ہیں جبکہ شہری آبادی باقی 35 فیصد ادا کرتی ہے۔یہ حقیقت بھی سوچ سے باہر ہے کہ 1993ءسے اب تک ہر سال 2000 کروڑ روپے زرعی شعبہ سے دوسرے شعبوں کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔ اگر یہ خطیر رقم دیہاتیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتی تو دیہاتی نوجوان لاکھوں کی تعداد میں شہروں کی سمت نقل مکانی نہ کرتے بلکہ زرعی زمینوں پر دن رات کام کرکے غلہ اور اناج پیدا کرتے۔وطن عزیز کا دہقان عموماً ان پڑھ، بے زبان، غریب، بے کس، کمزور اور لاچار ہے۔ یہ کسان تو اس دن بھی نہ جاگا جب حکومتوں نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ایما پر ان پر لگانوں کی بھرمار کردی۔ ان پر 23اقسام کے زرعی ٹیکس لگا دیئے گئے۔آبیانہ ٹیکس 1958ءسے آج مک 12 سو گنا بڑھایا جا چکا ہے۔ کسانوں نے حکمرانوں سے یہ بھی نہ پوچھا کہ آبیانہ ٹیکس کی وصولی صرف پنجاب کے کسانوں سے کیوں ہوتی ہے.... سندھ، بلوچستان اور دوسرے صوبوں سے کیوں نہیں کی جاتی۔ حالانکہ وہاں نہریں اور ٹیوب ویل ہیں، آبپاشی کا نظام ہے، اس کے علاوہ امپورٹڈ وزیراعظموں کے حکم پر ہر سال آبیانے پر ہر سال 25 فیصد کا اضافہ کیوں کر دیا جاتا ہے۔کسانوں اور ان کے متمول سیاسی نمائندوں نے اپنی حکومتوں سے یہ سوال بھی نہ کیا کہ مشرقی پنجاب (بھارت) میں لگانوں کی شرح مغربی پنجاب (پاکستان) سے آدھی کیوں ہے؟۔ وہاں ٹریکٹر، ڈیزل، ٹیوب ویل اور کھادیں اتنی سستی کیوں ہیں؟ بھارت میں فصلیں یہاں سے دوگنی کیوں ہوتی ہیں؟ بھارتی پنجاب کا کسان خوشحال اور یہاں کا مفلوک الحال کیوں ہے؟معزز قارئین! آج مغربی پنجاب کا کسان ایک مربعہ نہری زرعی اراضی پر 23اقسام کے زرعی ٹیکس یا لگان ادا کرنے کے علاوہ، نہری پانیوں میں کمی کی وجہ سے ہر سال فصلوں کی پیداوار کے لئے ایک ڈیزل ٹیوب ویل پر 2 سے اڑھائی لاکھ کا خرچہ کرتا ہے۔ کرم کش دواﺅں اور انتہائی مہنگی کھادوں کا خرچہ علیحدہ ہے۔ کرم کش دواﺅں کے چھڑکاﺅ نے 50 فیصد کسانوں کو ہیپاٹائٹس کا مریض بنا دیا ہے۔دیہاتیوں پر کتنے اقسام کے زرعی انکم ٹیکس نافذ ہیں؟ ملاحظہ ہو۔(1) مالیہ (2) آبیانہ (3) عشر (4) چولہا ٹیکس (5) لوکل ریٹ ٹیکس (6) ایڈیشنل لوکل ریٹ ٹیکس (7) پیشہ وارانہ ٹیکس (8) محصول ٹیکس (9) ٹال ٹیکس (10) ترقی ٹیکس (11) ضلع ٹیکس (12) میونسپل کمیٹی ٹیکس(13) چوکیدارا ٹیکس (14) زرعی مشینری ٹیکس (15) اقراءٹیوب ویل بجلی پر ایڈیشنل سرچارج (16) سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی (17) رجسٹری فیس اس کے ساتھ الگ ضلع ٹیکس (18) منڈی مویشیاں پر فی جانور ٹیکس (19) ملز ٹیکس۔ شوگر ملیں کسان سے ٹیکس وصول کرتی ہیں (21) زرعی ٹیکس جو معین قریشی دور سے ہر چھوٹے بڑے کاشتکار پر فلیٹ ریٹ پر نافذ کیا گیا ہے (22) مالکانہ ٹیکس(23) جگا ٹیکس جو محکمہ مال کے اہلکار کسانوں سے وصول کرتے ہیں۔اب شنید ہے کہ ساڑھے 12 ایکڑکے مالک اراضی پر بھی زرعی ٹیکسوں کا بم گرایا جائے گا۔ جس حکومت نے موبائل فون سننے پر اضافی ٹیکس لگا دیا اس کا چند ایکڑوں کے مالک پر اضافی ٹیکس عائد کرنا معمولی بات ہے۔ چند دن ہوئے میں نے ای ڈی او تعلیم سے کہا کہ میرے گاﺅں کا بوائے سکول 70 سال سے پانچویں جماعت تک ہے اسے براہ مہربانی مڈل یا آٹھویں تک کرا دیں اس نے جواب دیا کہ گاﺅں کے لوگ اتنے غریب ہیں کہ وہ بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے ان سے محنت مزدوری کرا کر پیٹ پالتے ہیں۔ اب شکایت ہے کہ سکول میں کوئی مرد ٹیچر پڑھانے نہیں آتا۔ ان اضافی زرعی ٹیکسوں کی وجہ سے کسان بھوک و ننگ سے تنگ آکر شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ کسانوں کے بعض بیٹے نشے، ڈکیتی، چورچکاری کی لت میں پڑ گئے۔ کسانوں کو کلیانوں میں کام کرنے کیلئے زرعی لیبر میسر نہیں ہے۔لاکھوں دیہاتی نوجوان دیہات چھوڑ کر شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئے، انہوں نے ملوں، فیکٹریوں، سرکاری دفتروں، دکانوں، ہوٹلوں، کلبوں اور ورکشاپوں میں نوکریاں کرلیں۔ اس طرح ملکی زراعت دن بدن تباہی کنارے جا رہی ہے۔سیاست دانوں، حکمرانوں سے التماس ہے کہ خدارا ملکی زراعت کی ڈوبتی نیا کو بھنور سے نکالیں اور کسانوں جن کی املاک اب ایکڑوں میں رہ گئی ہیں انہیں مزید زرعی ٹیکسوں کی چکی میں پیسنے کی بجائے انہیں بھارتی پنجاب کے کسانوں کی طرح سہولتیں فراہم کریں تاکہ زراعت جو ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے کہیں بجلی گیس بحران کی طرح کریک نہ کر جائے۔دیہاتوں میں مزید زرعی ٹیکس لگان نافذ کرنے یا ان میں اضافہ کرنے سے غربت اور جہالت میں مزید اضافہ ہوگا۔ دہشت گردی پروان چڑھے گی، امن و امان کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، دہشت گردی سکیورٹی ادارے کے ٹھگی راج کی یادیں تازہ کردے گی، پھر اس فتنے کو سکیورٹی ادارے بھی کنٹرول نہ کرسکیں گے۔ لگتا ہے بعض صوبوں میں ٹھگی راج شروع ہو چکاہے، کراچی سے نانگا پربت تک خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے خانہ جنگی کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حکمرانوں کو غریب عوام کے رستے ہوئے ناسوروں پر مرہم رکھنا ہوگا۔