پولیس کا اب تیسرا شعبہ اصلاح طلب ہے

30 جون 2013

کچھ روز ہوئے، ہم لاہور کینٹ میں کیولری گراﺅنڈ کے ٹریفک اشارے پر رکے ہوئے تھے کہ پیچھے سے تیزی سے آتے ہوئے ایک صاحب نے اپنی گاڑی ہماری کھڑی گاڑی کو دھڑام سے دے ماری۔ اس سے نہ صرف ہماری گاڑی کا حشر نشر ہوا ہمارا اپنا سارا انجر پنجر بھی ہل کے رہ گیا کہ ہم گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور گاڑی ہمارا ڈرائیور چلا رہا تھا یہاں تک تو خیر گزری کہ ہم کسی بڑی چوٹ سے محفوظ رہے لیکن ہماری گاڑی کا بمپر اور پچھلا حصہ تباہ ہو کر رہ گیا۔ گاڑی مارنے والے کا استدلال یہ تھا کہ وہ کسی ایمرجنسی میں تیزی میں تھا اس کی بیوی کسی ہسپتال میں ایڈمٹ تھی اور وہاں جلد پہنچنا اس کا ضروری تھا اور پھر سڑک پر کچھ پھسلن تھی جس کی وجہ سے گاڑی سلپ ہو کر بے قابو ہو گئی یہاں تک تو جو ہوا، سو ہوا لیکن ہم اس دوران وہاں موجود ٹریفک وارڈن کے پیشہ وارانہ اور انسان دوست روئیے سے جس قدر متاثر ہوئے اس کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ حادثہ ہوتے ہی وہ دوڑ کر ہمارے پاس آیا۔ مجھے نہایت ہمدردانہ انداز میں تسلی دی اور کہا کہ جب تک آپ کی گاڑی کے نقصان کا ازالہ نہیں ہو جاتا وہ گاڑی مارنے والے کو جانے نہیں دے گا اور پھر نہایت مودبانہ انداز میں اس سے باز پرس کی کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اور اس کو اپنی غلطی کا شدید احساس دلایا تو اس شخص نے جو ایک پرائیویٹ کمپنی کا ایم ڈی تھا نہایت معذرت خواہانہ انداز میں اپنی غلطی کا اقرار کیا اور اپنی کمپنی کی ایک ورکشاپ میں میری گاڑی کی مکمل مرمت کا وعدہ کیا اور ضمانت میں اپنا شناختی کارڈ اور اپنی گاڑی کے کاغذات ہمارے حوالے کئے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اس سارے معاملے میں وارڈن کا رویہ خالصتاً مصالحانہ ہی رہا۔ کہیں کسی موقع پر اس نے ایسا کوئی رویہ اختیار نہ کیا جو ہماری پولیس کا انداز ہے بلکہ خاصہ ہے اور نہ ہی اس نے اپنا ایسا کوئی لچ تلنے کی کوشش کی جو ہماری پولیس کا رواج بلکہ طرہ امتیاز ہے۔ چنانچہ ہم یہاں یہ اعتراف کئے بغیر بھی نہ رہ سکے کہ چودھری پرویز الٰہی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے دور اقتدار میں ٹریفک وارڈنز کا یہ نظام نافذ کرکے عوام کو بہت بڑا ریلیف دیا ہے بلکہ احسان کیا ہے ورنہ اس سے پہلے سفید وردیوں میں ملبوس ٹریفک پولیس والوں کی شہر بھر میں سیاہ کاریاں کس کو یاد نہیں۔ ہمیں تو آج تک وہ واقعہ نہیں بھولا ہے یہ اسی زمانے ہی کی بات ہے کہ ایک دفعہ شہر سے گلبرگ آتے ہوئے ظفر علی روڈ کے اشارے پر رکے تو سامنے کھڑے سفید پوش ٹریفک پولیس والوں میں سے ایک باوردی سپاہی ہماری گاڑی کا اگلا دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا اور پھر نہایت مودبانہ انداز میں سلام کرکے کہنے لگا میں نہیں جانتا آپ کون ہیں آپ نے نہ کوئی ٹریفک کی خلاف ورزی کی ہے میری صرف یہ التجا ہے کہ صبح سے آج کوئی دیہاڑی نہیں لگی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا۔ آپ کی مہربانی ہو گی اگر کچھ دے جائیں تو ورنہ گاڑی سائیڈ پر لگائیں آپ کا چالان ہو گا۔ جس انداز میں اس نے یہ دھمکی آمیز ”التجا“ کی ہمیں بھی اس پر ترس آ گیا۔ جیب سے سو روپے کا ایک نوٹ نکال کر اسے دے دیا وہ خوشی خوشی میری گاڑی سے اتر گیا اور ہم دیر تک یہی سوچتے رہے کہ پولیس والے کو دی ہوئی ہماری یہ رقم رشوت تھی یا خیرات۔ جس کا جواب آج تک ہمیں نہ مل سکا۔اب جبکہ پوری قوم اس امر کی معترف ہو چکی ہے کہ ہماری پولیس کے دو شعبے، ایک موٹر وے پولیس، دوسرے یہ ٹریفک پولیس، کم از کم رشوت ستانی جیسی بدعنوانی سے پاک ہو چکی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسکے تیسرے اور اہم شعبے یعنی تھانہ پولیس کو بھی انہی تجربات کو بنیاد بنا کر، انہی خطوط پر استوار اور منظم کیا جائے تو وہ بھی ایسی خرابیوں سے پاک صاف نہ ہو سکے۔ہم سمجھتے ہیں پہل کے طور پر ایسا کرنا کم از کم پنجاب کی حد تک تو ممکن ہے کہ میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب ایسا کچھ کرنے کی مہارت اور شہرت رکھتے ہیں اور ہر وہ کام جو ان کی نظر میں عوام کی فلاح کے لئے ہو اسے کر گزرنے سے کسی طور دریغ نہیں کرتے۔ وہ تیسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں ایسے بہت سے تجربات ان کے سامنے ہیں یا وہ کر گزرے ہیں اور اب کے ایک بار پھر وفاقی حکومت بھی ان کی اپنی ہے کہ ان کے بھائی ایک بڑی اکثریت کے ساتھ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ایسے میں اب کی بار وہ اس بدنام زمانہ راندہ روزگار پولیس کو وہی شان اور پہچان دلا سکیں جو آج ہماری موٹر وے پولیس اور ٹریفک وارڈن سسٹم والوں کو مل چکی ہے تو ان کا نام ہمیشہ کے لئے ہماری تاریخ میں زندہ رہے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔