یہ اسیری.... آخر کب تک

30 جون 2013

ہم ایک آزاد، خودمختار مملکت خداداد ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے باسی ہیں.... موجودہ حکومت کیلئے اقتدار میں آنے کا یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے.... قبل ازیں ”کشکول توڑو“ اور ”خود انحصار کی پالیسی اپناﺅ“ جیسے نظریات کو پروان چڑھانے کا کریڈٹ میاں برادران کی حکومت کو ہی حاصل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باوقار ملک پاکستان کا خواب دیکھنے والے میاں برادران اپنے ہی نظریات سے منحرف کیسے ہو گئے یعنی پھر وہی ورلڈ بنک و آئی ایم ایف کے جوتے چاٹنے کا عمل شروع ہو چکا ہے؟ آئی ایم ایف کے حیفری فرینک Hafry Frank سے لیٹر آف کمفرٹ لینے کیلئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تمام شرائط ماننے کا اشارہ دے دیا ہے اور پانچ ارب ڈالر کے قرض کی درخواست بھی آئی ایم ایف والوں کے گوش گزار کر دی گئی ہے۔ لیٹر آف کمفرٹ کے مطابق رضا و یقین دیکر پاکستان دیگر عالمی مالیاتی اداروں جیسا کہ ورلڈ بنک اور اے ڈی بی پی سے بھی مزید قرضے لے سکے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کے پہلے جو قرضے لے رکھے تھے اسکی آخری قسط تین سو پچاس ملین ڈالر اسی ماہ جون میں ادا کر دی ہے مگر وزیر خزانہ کے قرض لینے کے صوابدیدی اختیار سے قرض کی ادائیگی کے بعد بھی ہمیں کوئی مُکتی حاصل نہ ہو گی۔ ادھر ننھی منی اپوزیشن نے بھی ایک تگڑا بیان گاڑھ دیا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس حکومت کا ”بیڑا تارنے“ کیلئے اسحاق ڈار ہی کافی ہے۔ پچھلے دنوں ہماری نئی حکومت اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے وفد کی مہمان نوازی میں مصروف رہی۔ ابھی آنیوالے وقت میں اے ڈی بی و ورلڈ بنک والے بھی اسلام آباد کی میزبانی کے مزے لوٹیں گے۔ ایسے ماحول کے نتیجے میں (1) یہ ہی مالیاتی قرض دینے والے ادارے ہر تین ماہ بعد پٹرولیم مصنوعات، گیس و بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے رہیں گے، (2) روپے کی قدر میں کمی ہوتی چلی جائیگی، (3) بین الاقوامی سطح پر پاکستانی انڈسٹریل ولایو سٹاک و دیگر نوع کی مجموعی سرمایہ کاری میں مندا چلتا رہے گا ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی ترقی پذیر ممالک کی معیشت پہ جو اجارہ داری قائم ہو چکی ہے اسکا راستہ ہی لامتناہی قرضوں کا ٹریپ ثابت ہوا ہے.... یورپ میں خود عالمی مالیاتی اداروں کے قائدین کے خلاف پوری دنیا میں مہنگائی، غربت، بیماری، اونچ نیچ بڑھانے پہ ایجی ٹیشن پائی جاتی ہے۔ ہماری وزارت خزانہ ذرا خود بیان فرما دے کہ کیا ہم غیر ملکی و مالیاتی اداروں سے قرضے و امدادیں مفت (Un conditional) میں لیتے ہیں.... بھلا یہ بھاری بھرکم قرضوں کی رقوم ہمیں واپس نہیں کرنا ہوتیں؟.... کیا یہ قرضے سود کی رقوم سے دگنا ہو کر وبال جان و بوجھ نہیں بن جاتے؟.... چلئے ہمیں بس اتنا ہی بتا دیجئے کہ ہمارے کون سے کالاباغ ڈیم جیسے خالص ترقی کے منصوبے عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت سے پایہ¿ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں؟ ہم 66 برس سے قرضوں سے ملک کی ترقی کی بات کرتے چلے آئے ہیں اور تسلسل سے ترقی پذیر و پسماندہ ملک بھی کہلاتے چلے جا رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی عالمی اقتصادی ترقی کے سٹرکچر کے خلاف جی ایٹ کی ایجی ٹیشن میں بھی 2008ءمیں یہی نکتہ ابھارا گیا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی گلوبل معاشی پالیسیوں سے ظلم، استحصال و قرضوں کی عفریت میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا میں غربت، مہنگائی و ماحولیات کے مسائل نے گھمبیر صورت اختیار کر لی ہے۔ یہی نہیں بلکہ تہذیبی و سیاسی کشمکش پیدا ہوئی جس سے عالمی امن کو بھی گزند پہنچی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قومی و بین الاقوامی تمام شعبوں پہ شعبہ مالیات و اقتصادیات غالب آ چکا ہے۔ سیاست میں تجارت ہے تو تمدن میں بھی تجارت، تعلیم میں تجارت ہے تو صحت عامہ میں تجارت، امن کی آشا تجارت تو دہشت گردی بھی سودے بازی.... یہی مالیاتی ادارے و ایجنسیز ڈالروں کے کاروبار کے گڑھ بن چکے ہیں، کیوں نہ ہم مغربی استعماری بزنس ٹُول (tool) بن کر رہ جانے کی بجائے اپنے ہی نظام معیشت کی گتھیاں سلجھائیں۔ اسلام کے معاشی نظام کے وقار و بلندی کا راستہ اپنائیں، خلافت راشدہ کے نظام اقتصادیات کے ثمرات سے فیض یاب ہو جائیں، حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ ”دریائے دجلہ پہ اگر ایک بکری بھی بھوک سے مر جاتی ہے تو مجھے اللہ تعالیٰ کو اسکا جواب دینا ہو گا“ .... اس پیرائے میں غربت، افلاس و مہنگائی کے ہاتھوں مجبور خودکشیوں کا کون جوابدہ ہو گا؟ موجودہ حکومت مخلص و محب وطن ہے، جیسا کہ میں اسے سمجھتی ہوں، تو پھر کشکول توڑ دے“ ہمارے مایہ ناز سائنسدان ثمر مبارک مند کیا کہتے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں، انہیں سہولت دے، ہم کیوں نہ برناڈ شاہ ہی سے سبق لیں جس نے کہا تھا کہ ”میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تہہ دل سے تعظیم کرتا ہوں، ان کا دین ہر دور اور تمام حالات کیلئے سرچشمہ¿ رہنمائی ہے۔ اگر محمد جیسا انساں ہمیں آج کے دور میں مل جاتا تو مجھے یقین ہے کہ عالمی امن و معاشی خوشحالی دنیا کا مقدر ہوتی“۔ .... پھر عالمی مالیاتی اداروں پہ انحصار کیوں؟