غریبوں کو سستا آٹا پورا سال سپلائی کیا جائے

30 جون 2013

ڈاکٹر بلال اسلم صوفی پاکستان فلورملنگ ایسوسی ایشن کے پرانے لیڈر ہیں آج کل فلور ملنگ کے فاو¿نڈر گروپ کو چیئرمین اور FPCCI کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فلور ملنگ کے چیئرمین ہیں۔ وزیراعلیٰ نے رمضان المبارک کا پانچ ارب روپے کا پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق چار ارب روپے سستے آٹے کی فراہمی اور ایک ارب روپے دوسری سہولتوں کی فراہمی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس مقصد کیلئے ماضی کی طرح اتوار اور منگل بازار لگائے جائینگے اور مختلف پوائنٹس پر بھی سستا آٹا فراہم کیا جائیگا۔ گزشتہ سال کی طرح غریبوں کی افطاریوں کیلئے دستر خوان بھی سجائے جائیں گے۔ڈاکٹر بلال اسلم صوفی نے وزیراعلیٰ کے پانچ ارب کے رمضان پیکج کو پنجاب عوام کی خوش قسمتی قرار دیتے ہوئے نوائے وقت کو بتایا ”وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کے دل میں غریبوں اور پنجاب کے محروم طبقات کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ کوئی انہیں الہٰ دین کا چراغ لا دے اور وہ جن حاضر ہونے پر حکم دیں کہ پنجاب کے تمام محروموں اور غریبوں کو امیر کر دو لیکن صاف ظاہر ہے کہ عملی طور پر راتوں رات غریبوں کی تکلیفیں ختم ہونا ممکن نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پنجاب کے بجٹ اور رمضان المبارک کے پیکج سے غریبوں کو کچھ تو آرام ملے گا اور مہنگائی کم محسوس ہوتی نظر آئیگی۔ اتوار اور منگل بازار غریبوں کیلئے بہت مفید ہے کیونکہ ان کے ذریعہ سے مڈل مین کا منافع ختم ہو جاتا ہے جس سے سبزیاں پھل اور کھجوریں سستی ہو جاتی ہیں۔اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی کمی ہے اور اقوام متحدہ بار بار انتباہ کر رہا ہے کہ دنیا کو غذا کی کمی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ پنجاب کی فعال اور مستعد قیادت اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ اس نے غذا، پھلوں، سبزیوں اور گندم کی مسلسل سپلائی پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے چن دکاندار مہنگی مصنوعات تو ضروری بیچ لیتے ہیں لیکن پورے پنجاب میں کسی جگہ بھی گندم سمیت اشیائے خوردونوش کی کوئی کمی نہیں ہے یہاں ہم صرف گندم اور آٹے کی بات کرینگے اور میاںمحمد شہبازشریف کی خدمت میں ”پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم“ رائج کرنے کی تجویز دیں گے۔ گندم کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے پاس بیالیس لاکھ اسی ہزار من گندم موجود ہے جو ہر لحاظ سے پنجاب کی ضرورت پوری کرنے کے بعد بھی فاضل ہے اور اگرچہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال سیلابوں کی وجہ سے کسی سنجیدہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑیگا اور ایمرجنسی میں گندم فراہم کرنے کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔ پنجاب میں غریبوں کو آٹے کے مسئلہ پرصرف رمضان المبارک کے مہینے میں ہی رعایت نہیں ملنی چاہیے بلکہ سارا سال غریبوں کو سستا آٹا فراہم کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ صرف دو تین روز پہلے وفاقی بجٹ کی منظوری کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 60 فیصد ہو چکی ہے اب غربت کی لکیر کا معیار مغربی انداز سے دو ڈالر یومیہ کے حساب سے لگایا گیا ہے جبکہ پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے وہ افراد آتے ہیں جن کی یومیہ آمدنی پنچاب روپے سے کم ہو کیونکہ جس طرح مغرب میں دوڈالر کے اندر برگر آ جاتا ہے اسی طرح پاکستان میں پچاس روپے کے اندر روٹی آ جاتی ہے۔غریبوں کی مردم شماری اور مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو صرف یہ کرنا ہے کہ انڈیا کی طرز پر غریبوں کیلئے ”پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم“ کا نفاذ کیا جائے جس کے تحت غریبوںکو تمام پوائنٹس پر آٹے کی خریداری کیلئے خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں اور جتنی رعایت رمضان المبارک کے پیکیج میں دی ہے اتنی رعایت یا کوشش کی جائے کہ اس سے زیادہ رعایت فراہم کر دی جائے تاکہ پنجاب کے غیور غریب عوام اپنی روٹی تو پیٹ بھر کر کھانے کے قابل ہو سکیں۔