ایک اور بابائے قوم، ایمبولینس کی نذر

30 جون 2013

قائد اعظم کی ایمبولینس کی خرابی ہماری تاریخ کاا یک بدنما داغ ہے تو جنوبی افریقہ کے بابائے قوم نیلسن منڈیلا کے ساتھ بھی یہی سانحہ پیش آیا۔تین ہفتے قبل منڈیلا کی حالت بگڑی تو انہیں رات کے آخری لمحات میں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن کا عارضہ لاحق تھا ۔گھر اور ہسپتال کے درمیان فاصلہ صرف اکتیس میل کا ہے، رات کو خالی سڑکوں پر تیس منٹ میں انہیں منزل پر پہنچایا جا سکتا تھا لیکن راستے میں ان کی ایمبولینس خراب ہو گئی۔ ڈرائیور نے بڑی تگ و دو کی مگر انجن بے دم ہو چکا تھا اور ایمبولینس میں لیٹا ہوا مریض اس سے زیادہ بے دم ہو رہا تھا، آج تین ہفتے بعد صبح سویرے جنوبی افریقہ کے دارالحکومت کا درجہ حرارت صرف سات سنٹی گریڈ ہے۔ تین ہفتے قبل یخ بستہ رات کو جنوبی افریقہ کے بابائے قوم نیلسن منڈیلا کو چالیس منٹ تک سڑک کنارے بے یارو مددگار لیٹا رہنا پڑا۔دوسری ایمبولینس آئی تو اس کا اسٹریچر اٹھا کر اس میںمنتقل کیا گیا، ایک شخص جس کے پھیپھڑے پہلے ہی جواب دے چکے تھے، اس کا کھلی سردی میںکیا حال ہو ا ہو گا، اس کا اندازہ منڈیلا کی تیزی سے بگڑتی حالت سے کیا جا سکتا ہے۔پچھلے تین دن سے اس کے ہسپتال کے باہر سینکڑوں لوگ ہاتھوں میں پھول اٹھائے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ شاید یہ لمحہ ٹل جا تا اگر منڈیلا کے لئے بھیجی جانے والی ایمبو لینس کا اچھی طرح جائزہ لے لیا جاتا۔ مگر جنوبی افریقہ کے لوگوں نے بھی اپنے محسن سے وہی سلوک روا رکھا جو ہم پاکستانیوںنے اپنے قائداعظم کے ساتھ کیا۔نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کی آزادی کےلئے ربع صدی سے زاید عرصہ جیل میں بسر کیا۔اسے ایک جانگسل جدو جہد آزادی کے صلے میں نوبل امن انعام بھی عطا کیا گیا۔مگر زندگی کے آخری لمحات میں وہ ایک ایمبولینس کی بھینٹ چڑھ گیا، 8 جون سے وہ ہسپتال میں داخل ہے، اس کی صحت کی خبر صرف ایوان صدر سے جاری کی جاتی ہے،اور وہ بھی ایک سطری کہ ان کی حالت نازک ہے مگر وہ سنبھل رہے ہیں۔اب صرف اتنا ہی بتایا جا رہا ہے کہ حالت نازک ہے۔ان کی بیٹی کے حوالے سے دنیا کو پتہ چلا ہے کہ منڈیلا آکسیجن پر زندہ ہیں۔یہ چراغ سحری کسی وقت بھی بجھا چاہتا ہے۔ اس کی بیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے والدکی آنکھوں کا نور غائب ہے۔ایمبو لیس کی خرابی کی خبر بھی دو ہفتے تک دبائی گئی۔کیاجنوبی افریقہ میں کبھی ایسا کمیشن قائم ہو سکے گا جو اپنے بابائے قوم کے سانحے کے اسباب سے پردہ اٹھائے اور ان خفیہ چہروں کو بے نقاب کرے جنہوں نے اسے موت کی دہلیز تک پہنچایا۔ ایک زمانے میںمنڈیلا نے ٹروتھ کمیشن قائم کیا اور سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کیا۔ اس کی زندگی سے کھیلنے والے سانحے سے پردہ اٹھانے کے لئے ایک اور ٹروتھ کمیشن قائم کرناہوگا۔منڈیلا کے خاندان کو قیامت سے پہلے قیامت کا سامنا ہے۔میڈیا نے اس خاندان کا سکون چھین لیا ہے، ہسپتال کے باہر کیمرے ہی کیمرے ہیں اور وہ منڈیلا کے عزیزوں کی آمدو رفت کی ایک ایک حرکت کو نشر کر رہے ہیں۔منڈیلا کی بیٹی چیخ چیخ کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ کیا اتنے ہی کیمرے کبھی بکنگھم پیلیس یا نمبرٹین ڈاﺅننگ اسٹریٹ کے باہر نصب ہوئے ہیں ، اس نے یہاں تک کہا ہے کہ میڈیا، لالچی گدھ کی طرح جھپٹ رہا ہے جو کسی مردار کو نوچنے کے انتظار میں ہوتے ہیں۔پاکستانی قوم بھول گئی ہو گی کہ11 ستمبر 1948کو ہم نے بابائے قوم کا کیا حشر کیا۔ قائد کا وائیکنگ طیارہ اس روز بھی کراچی کے اسی ماڑی پور( مسرور)اڈے پر اترا تھا جہاں تیرہ ماہ پہلے قائداعظم دہلی سے تشریف لائے تو ان کے استقبال کے لئے چاروں طرف سر ہی سر تھے۔مگر 11 ستمبر کی شام کو ایئر پورٹ پر ان کی چھ رکنی مختصر سی کابینہ میں سے بھی کوئی اپنے قائد کا دیدار کرنے حاضر نہیں ہوا۔آج ہمارے صدر مملکت کسی صوبائی دارالحکومت اترتے ہیں تو پروٹوکو ل کے مطابق گورنر اور وزیر اعلی ان کا استقبال کرتے ہیں، مگر 11 ستمبر کو یہ پروٹوکول کہاں دھرا رہ گیا۔ قائد کی آمد کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا،انہیں ایک اسٹریچر پرایمبولینس میں ڈال دیا گیا۔ان کے پیچھے گورنر جنرل کی سرکاری کیڈلک کار تھی جس میں ان کا ڈاکٹر اور دوسرا سٹاف بیٹھ گیا اور پیچھے ایک ٹرک تھا جس میں قائد کا سامان رکھا گیا تھا۔راستے میں ایمبولینس یکا یک رک گئی، ڈرائیور نے اسے اسٹارٹ کرنے کے لئے بہت زور آزمائی کی۔یہ علاقہ کھلی دھوپ میں مچھلی خشک کرنے کی وجہ سے بدبو سے آلودہ تھا، چاروں طرف مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تازہ ہواکے لئے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھول دیا تھا۔قائد کی نرس ڈنھم نے کاغذ کے پنکھے سے مکھیاں اڑانے کی کوشش کی، قائد کا چہرہ پسینے سے شرابو ر تھا۔کرنل الہی بخش کیڈلک سے اتر کر قائد کے سرہانے پہنچے۔ نبض دیکھی،ٹمپریچر نوٹ کیا ، قائد کی حالت تسلی بخش تھی۔ یہی ڈاکٹر الہی بخش ایئر پورٹ پر اس وقت سخت حیران ہوئے تھے جب ایک فوجی دستے نے قائد کو سلامی دی تو نحیف و نزار اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے قائد نے ہاتھ اٹھا کر سلام کا جواب دیا تھا، ڈاکٹر کے مطابق قائد اپنا ہاتھ ہلانے کی سکت نہیں رکھتے تھے لیکن فولادی عزم کا انسان اپنے جوانوں کی طر ف سے سلامی پیش کرنے پر بے حس و حرکت نہیں رہ سکتا تھا۔نجانے ان کے اندر کہاں سے بجلیاں دوڑیںاور انہوں نے جوابی سلام کرنے میں ذرا تاخیر گوارا نہیں کی تھی۔قا ئد کا یہ سفر ان کی زندگی کا سفر آخرت بن گیا،چند گھنٹوں بعد ان کی نبض ڈوب گئی۔ کرنل الہی بخش نے انہیں دوائیں دیں اور قائد کے کان میں کہا : ہم نے آپ کو طاقت کا انجیکشن لگا دیا ہے ، آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ قائد کے ہونٹ پھڑ پھڑائے، آخری آواز نکلی: نہیں، اب میں زندہ نہیں رہ سکتا۔کیا راستے میں ایمبولینس خراب نہ ہوتی تو قائد اتنی جلد رخصت ہو جاتے۔یہی سوال جنوبی افریقہ میں بھی پوچھا جائے گا جب ان کے بابائے قوم ان کے درمیان نہیں ہوں گے۔کیا تین یا چار درجے سنٹی گریڈ میں منڈیلا کو نئی ایمبولینس کے لئے چالیس منٹ تک انتظار کرانا ضروری تھا۔ نہ قائد کے قافلے میں متبادل ایمبولینس اور نہ منڈیلا کے قافلے میں دوسری ایمبولینس کو شامل کرنا ضروری سمجھا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ قائد نہ ہوتے تو ہم آج بھی غلام ہوتے انگریز کے بعد ہندو لالے کے طوق غلامی میں ہماری گردنیں جکڑی ہوتیں اورمنڈیلا نہ ہوتاتو جنوبی افریقہ پر نسل پرست آج بھی حکمران ہوتے اور یہاںکے عوام کی قسمت میں محکومی کی ذلت لکھی ہوتی۔ہم سے زیادہ محسن کش اور کون ہو گا، شاید جنوبی افریقہ والے جو گدھ کی طرح مردار پر جھپٹنے کی کوشش میں ہیں۔منڈیلا کی آنکھیں ابھی بند نہیں ہوئیں، لیکن دنیا بھر کے کیمرے ان آنکھوں کے بند ہونے کامنظر دکھانے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ہمارے باتونی اور طوفانی میڈیا کے کیمروں کی آنکھ اس وقت کہاں سوئی ہوئی تھی جب قائد کی یادگار زیارت ریذیڈنسی کو شعلوں کی زبان چاٹ رہی تھی۔