سعودی نظام کی موجودگی میں کشکول کبھی نہیں ٹوٹ سکتا: ڈاکٹر رخسانہ جبیں

30 جون 2013

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رخسانہ جبین نے کہا ہے کہ مشرف جمہوریت پر شب خون مارنے اور ملکی قانون توڑنے کے مجرم ہیں، بجٹ میں نئی حکومت کے وعدوں کا پول کھل گےا ہے، جب تک اسلامی نظام کی بجائے سودی نظام کو ترجےح دےں گے کشکول نہیں ٹوٹے گا، بلوچستان کے حالات درست کرنے کیلئے بلوچوں کی محرومی دور کی جائے، پاکستانی خواتےن کی حالت زار کی اصل وجوہات سرماےہ دارانہ نظام کی تباہ کارےاں، مفاد پرست حکمرانوں کی کرپشن اور جاگےر دارنہ اور وڈےرہ ازم کی رسومات ہےں، خواتین ارکان اسمبلی مغربی این جی اوز کے اےجنڈے کی پےروی کی بجائے عورت کے ان حقوق کے لےے آواز بلند کریں۔ انہوں نے ان خیالات گزشتہ روز نوائے وقت سے انٹرویومیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مےں 1989 مےں جماعت اسلامی مےں شامل ہوئی، اس سے قبل اسلامی جمعےت طالبات کی رکن تھی۔ الیکشن میں جماعت اسلامی کی کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اس کے ارکان و کار کنان نے اپنی محنت کی حد تک کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہم نے گھر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاےا لےکن افسوس کہ قوم نے چند اےک کے سوا، جعلی ڈگرےوں والے، کرپٹ افراد پر ہی اعتماد کےاتاہم ہم اپنی کمزورےوں کو دور کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہےں۔ قوم کے گرد امرےکی غلامی کے شکنجے مضبوط کئے، دہشت گردی کی جنگ اپنے اوپر مسلّط کر کے نہ انہوں نے کہا جامعہ حفصّہ اور لال مسجد کے معصوم بے گناہ بچوں کا خون مشرف کے کندھوں پر ہے۔ مشرف نے روشن خےالی کے نام پر قوم کے سروں پر بے حےائی کا طوفان مسلّط کےا۔ نئی حکومت کے آئی ایم ایف کے سامنے دوبارہ کشکول لے جانے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب آپ اسلامی نظام کی بجائے سودی نظام کو ترجےح دےں گے اللہ کی بجائے غےروں کی غلامی پسند کرےںگے، اللہ والوں کی بجائے مفاد پرستوں کو منتخب کرےں گے تو ےہ کشکول نہےں ٹوٹ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی مےں جرائم کی سرپرستی کرنے والی تنظےموں کا نےٹ ورک توڑا جائے اورغےر جانبداری سے مجرموں کو پکڑا کر قرار واقعی سزائےں دی جائےں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے خراب حالات کی اصل جڑوں کو تلاش کر کے ان کا حل کےا جائے، بلوچوں کی محرومی دور کی جائے اور وہ تمام جواز ختم کےے جائےں جن کی وجہ سے نوجوان غےر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتے ہےں۔ خلاف اےکشن لےا جائے تو عوام ان کی پشت پر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار مےں مسلم کش فسادات پر مسلمان حکمرانوں کی بے حسی انتہائی افسوسناک ہے۔ سوائے اسلامی تحرےکوں کے کسی نے ان کے حق مےں آواز تک نہےں اٹھائی۔ خواتین ارکان اسمبلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بعض خواتےن ارکان نے عام عورت کے حقوق کے لےے محنت کی ہے لےکن اطمےنان تو تب ہو گا۔ جب اتنی بڑی تعداد مےں اسمبلی مےں موجود خواتےن جاگےردارانہ نظام کو تحفظ دےنے کی بجائے عام غرےب خواتےن اور خاندانوں کے تحفظ اور بہتری کے لئے کچھ کر سکےں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عورت کے مسائل کا حل مغربی تہذےب کی پےروی مےں نہےں جو خود راہ راست سے بھٹک کر دور نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی مغربی این جی اوز کے اےجنڈے کی پےروی کی بجائے عورت کے ان حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کرےمﷺ نےبےٹی کو داخلہ جنت کا سرٹےفکےٹ بنا کر معزز کےا اور بےوی کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے شخص کو سب سے بہترےن فرد قرار دےا۔