خواتین پر تشدد کے حوالے سے قانون میں سخت سزائیں موجود ہیں: میرا فیلبوس

30 جون 2013

لاہور (لیڈی رپورٹر) ساشے پاکستان نے عورت فا¶نڈیشن کے صنفی مساوات کے پروگرام کے تحت یو ایس ایڈ کے تعاون سے لاہور پریس کلب میں ایک کمیونٹی میٹنگ کا انعقاد کیا ۔میٹنگ کے انعقاد کا بنیادی مقصد خواتین سے متعلق قوانین کے بارے میں آگاہی دینا اور تشدد زدہ خواتین کےلئے صنفی مساوات پروگرام کے قائم کردہ شیلٹر اور ہیلپ لائنز کی اشاعت کرنا تھا۔ کمیونٹی مینٹنگ میں وفاقی محتسب پنجاب برائے خواتین میرا فیلبوس نے بطور مہمان خصوصی جبکہ ساشے پاکستان کی جانب سے محمد اسفر، ڈی ٹو ڈبلیو پاکستان کی جانب سے ماہر ماحولیات صائمہ اصغر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد نے شرکت کی۔ میرافیلبوس نے صنفی مساوات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عورت کا معاشرے میں اہم کردار ہے۔ گھروں، دفاتر یا کہیں بھی کام کرتی ہیں اور محنت مزدوری کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں یا ان پر تشدد کے حوالے سے ہمارے قانون میں کڑی سزائیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات پروگرام کے تحت کام کرنے والی ہیلپ لائنز اور شیلٹرزکا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ تشدد سے متاثرہ خواتین ان شیلٹرز اور ہیلپ لائن پر فون کر کے تشدد کی وجہ سے ہونے والے نفسیاتی، سماجی اور قانونی مسائل کے حوالے سے رہنمائی اور مشورہ بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ میٹنگ سے اپنے خطاب میں صائمہ اصغر نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے پاکستان میں اس حوالے سے مثبت پہلو سامنے آ رہے ہیں۔