پاکستان بھارت جامع مذاکرات

30 جون 2013

کشمیر اندرونی معاملہ ہے، جامع مذاکرات کیلئے پاکستان کو ہمارے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ سربجیت سنگھ کی ہلاکت، بھارتی فوجیوں کے سر قلم کرنے پر تحفظات کے باوجود نوازشریف کے وعدوں کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کے خواہاں ہے اور ماحول بہتر ہے، سلمان خورشید۔
ہمارے حکمرانوں سے کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت سے دوستی اور تجارت کا جنون دیکھئے اور بھارتی حکومت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید کا بیان پڑھیے تو عقل پریشان ہو جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازعہ کو بھارتی وزیر خارجہ کس ڈھٹائی سے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہے ہیں جبکہ اصل میں یہی مسئلہ تمام اختلافات کی جڑ ہے۔ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہوتا وہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری نہیں کراتا ہمارے حکمرانوں کو بھارت سے دوستی اور تجارت کیلئے اتنا بے چین ہونا درست نہیں۔ پاکستان کو بھی بھارت سے مذاکرات کیلئے بے شمار تحفظات ہیں اس کو مدنظر رکھ کر قومی وقار اور مفاد کو سامنے رکھ کر بھارت سے مذاکرات میں سب سے پہلے اولیت کشمیر کو دی جائے۔ کیونکہ جس نے آپ کی شہ رگ دبا رکھی ہو اس سے محبت و تجارت کی باتیں تب ہی ممکن ہو سکتی ہیں جب وہ آپکی گردن سے پا¶ں اٹھا لے۔
وزیراعظم پاکستان کی بھارت سے دوستی کی خواہش اور انکے وعدوں پر سلمان خورشید کی طرف سے ماحول بہتر ہونے اور پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کا بیان بظاہر بہت خوش کن ہے مگر یہ سب صرف بیان بازی کی حد تک متاثر کن ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت جب تک ”اٹوٹ انگ“ کا راگ الاپتا رہے گا‘ کشمیر میں آگ و خون کا کھیل جاری رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال نہیں ہو سکیں گے۔