دوراندیشی کی ضرورت

30 جون 2013

مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک حکایت بیان کرتے ہوئے دور اندیشی کی یوں نصیحت کرتے ہیں ”ایک بوڑھے میاں جو کوئی اسّی،نّوے کے پیٹے میں ہوں گے، ہاپنتے کانپتے ایک سنار کی دکان پر پہنچے اورکہنے لگے ،ارے میاں زرگر!تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنی ترازو دے دو ،مجھے یہ سونا تولنا ہے ۔ سنار نے جواب دیا :بڑے میاں میں معذرت خواہ ہوں ،میرے پاس چھلنی نہیں ہے۔
بڑے میاں نے حیرت سے کہا :یہ کیا مذاق ہے میں تجھ سے سونا تولنے والی ترازو مانگ رہا ہوں اور تو کہہ رہا ہے کہ میرے پاس چھلنی نہیں ہے۔واہ بھلے مانس! مجھے چھلنی نہیں ترازو درکار ہے، ترازو۔ سنار نے کہا : قبلہ وکعبہ میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں میری دکان میں جھاڑو بھی نہیں ہے۔بڑے میاں بھّنا کر بولے :لاحول ولاقوة ،یہ جھاڑو کہاں سے آگئی ،بھئی مجھے تو ترازو چاہیے ،اگر ممکن ہے تو مہربانی کرکے عنایت کردو خوامخواہ بہر ابن کر الٹی سیدھی مت ہانکو۔سنا ر نے کہا:مخدومی میںنے آپ کی بات بڑی اچھی طرح سنی ہے،خدانخواستہ میں بہرا ہوں نہ دیوانہ کہ آپ زمین کی پوچھیں اور میں آسمان کی کہوں۔اصل بات پر شاید آپ نے غور ہی نہیں فرمایا،بندہ پرور !آپ کے پاﺅں قبر میں لٹکے ہوئے ہیں ،آپ خود سوکھ کر لکڑی ہورہے ہیں ،ہاتھوں اور گردن میں ماشاءاللہ رعشہ بھی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے پاس جو سونا ہے ، وہ بھی کچھ برادہ ہے اورکچھ چورہ ہے،ٹھوس ڈھلی نہیں ہے اس لیے یہ ضرور ہوگا کہ تولتے ہوئے آپ کا ہاتھ کانپے گااورسونے کا برادا زمین پر گر جائے گا پھر آپ فرمائش کریں گے کہ بھائی ذرا جھاڑو عنایت فرماﺅ تاکہ میں برادا اکٹھا کروں۔جب جھاڑو سے دھو ل ،مٹی جمع کریں گے تب فرمائیں گے کہ اب چھلنی کی ضرورت ہے ،تاکہ خاک چھان کر سونا الگ کرسکوں۔ میری دکان میں نہ جھاڑو ہے اورنہ چھلنی ،اس لیے میں نے پہلے ہی آپ کے کام کا انجام دیکھ کر اپنا جواب آپ کی خدمت عالیہ میں عرض کردیا ہے ،بہتر ہے آپ کسی اور سے ترازو مانگ لیجئے ۔
اے عزیز! اس سنار سے دور اندیشی کا سبق حاصل کر جو شخص صرف آغاز پر نظر رکھتا ہے وہ بصارت سے محروم ہے اورجو انجام پر نگاہ رکھتا ہے وہ دوراندیش اوردانش مند ہے۔ایسا شخص آخر میں کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔
بدقسمتی سے ہماری قومی اورملی قیادتیں اسی المیے کا شکار ہیں۔ہمارے پالیسی ساز کوئی بھی منصوبہ بناتے وقت اس کے نتائج وعواقب پر بالکل غور نہیں کرتے ۔وقتی اورخودغرضانہ مفادات کو مدنظر رکھ کر اہداف تہہ کیے جاتے ہیں اورجلد ہی پوری قوم کو ان کے خوفناک نتائج سے عہدہ براہ ہونا پڑتا ہے۔