اتوار‘ 20 شعبان المعظم1434ھ ‘ 30 جون2013 ئ

30 جون 2013

سپاٹ فکسنگ کا اعتراف، کرکٹر سلمان بٹ نے قوم سے معافی مانگ لی۔
جھوٹ بولا ہے تو اس پر قائم بھی رہو سلمان
کرکٹر کو صاحبِ کردار ہونا چاہئے
سلمان بٹ نے بالآخر سچ اُگل ہی دیا۔ شاید آئی پی ایل کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر وہ زیادہ دیر جھوٹ پر قائم نہ رہ سکے یا پھر سچ میں ہی انہوں نے خلاصی سمجھی ہے۔ محمد عامر کی وجہ سے سچ کو زیادہ دیر پیٹ میں نہ چھپا سکے۔ اگر سلمان بھی اس وقت پاکستانی کھلاڑیوں کیخلاف ”سازش“ کا نعرہ اپنانے کی بجائے سچ سچ جرم مان لیتے اور قوم سے معافی مانگ لیتے تو یہی مردانگی کا تقاضا تھا۔ سلمان بٹ نے قوم سے اب ہاتھ جوڑ کر معافی تو مانگی ہے اگر یہ ہاتھ پہلے جوڑ لیتے اور قوم کو ”سازش“ کے ابہام میں مبتلا نہ کرتے تو شاید ان کے کیرئر کے ساتھ کردار تباہ نہ ہوتا۔ اب کیرئر بھی تباہ اور کردار بھی داغدار ہو گیا ہے۔
 دیکھیں محمد آصف کب تک جھوٹ پر قائم رہتے ہیں۔ اگر آصف نے بھی چوری تسلیم کر لی تو پھر وینا ملک کے ہاتھ ایک اور سکینڈل آ جائے گا، بعض لوگ تو وینا ملک کو حاجن اور پہنچی ہوئی سرکار تسلیم کرنا شروع کر دیں گے کیونکہ وہ پہلے ہی سب کچھ بتا چکی ہے۔
سلمان بٹ کو پورا سچ اُگل دینا چاہئے کہ ڈوریاں کہاں سے ہلائی گئی تھیں اور کرکٹ میں جوا¿ مافیا کس قدر طاقتور ہے تاکہ نئے کرکٹر اس سے بچے رہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ریاض حسین پیرزادہ بین الصوبائی رابطے کے وزیر مقرر، نوٹیفکیشن جاری !
شاعر نے کہا تھا ....
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
”لوٹوں“ کا مگر طرزِ تجارت ہے نرالا
چپ چاپ بِکا کرتے ہیں بولا نہیں کرتے
10 مئی 2011ءکی بات ہے ریاض حسین پیرزادہ مسلم لیگ (ق) کی طرف سے پیپلز پارٹی کابینہ میں وزیر بنے۔ اس سے قبل یہ مشرف کے بھی چہیتے رہے ہیں لیکن اب موقع ملتے ہی انہوں نے اپنی قیمت لگوا لی ہے۔ میاں صاحب کم از کم ان افراد کو وزیر تو مت بنائیں جنہوں نے 3 نومبر 2007ءمیں مشرف کا ساتھ دیکر ججز کو بند کیا۔
ایک طرف مشرف کیخلاف پنڈورا بکس کھولا جا رہا ہے دوسری طرف اس کے مددگاروں کو نوازا جا رہا ہے۔ جناب بین الصوبائی کی بجائے آپ کو ریاض حسین پیرزادہ کو ”حلالہ وزارت“ دینی چاہئے تھی، زاہد حامد بھی اسی کے لائق تھے۔ جناب ریاض پیرزادہ کو سینے سے لگایا جا سکتا ہے تو گجراتیوں کا کیا قصور ہے؟
اب ان میں ڈنک مارنے کی طاقت نہیں، قومی اسمبلی کی 2 سیٹوں نے سارا زہر نکال دیا ہے۔ آپ نے اگر حرام کو حلال کرنا شروع کر دیا ہے تو پھر انہیں بھی تطہیر والے دروازے سے گزار کر سینے سے لگا لیں اس سے جمہوریت مستحکم ہو گی اور لوٹا ساز فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔
 لگتا ہے جس طرح گجرات کے باسیوں پر جوتا چوری کا دھبہ لگ چکا ہے ایسے ہی چوہدریوں پر بے وفائی کی مہر لگ گئی ہے ورنہ مشرف کے رازدان قانون دان زاہد حامد کی توبہ قبول ہو گئی ہے تو چوہدریوں نے اس سے بڑا جرم تو نہیں کیا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پشاور کی ترقی کیلئے شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلوں گا : پرویز خٹک
جناب شہباز شریف کے نقشِ قدم پر کیا چلنا ہے آپ مہینہ بھر بطور وزیر اعلیٰ خیبر پی کے انہیں لگا لیں، جس تبدیلی کے آپ نے نعرے لگائے تھے وہ حقیقت میں لا کر آپ کو دکھا دیں گے، ویسے یہ بیان جاری کرنے سے پہلے آپ نے عمران خان سے کچھ پوچھا تھا؟
 جناب مشورہ کر لینا تھا ورنہ جاوید ہاشمی کی طرح آپ کو بھی بیان واپس لینا پڑ جائے گا۔ پی ٹی آئی کے صدر جاوید ہاشمی نواز شریف کو لیڈر مانتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلنے کا اعلان کر رہے ہیں، جناب پھر پی ٹی آئی بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ تبدیلی تبدیلی کے نعرے کہاں گئے؟
کل تک تو آپ کے چیئرمین عمران خان کہتے تھے کہ شریف برادران نے ملک لوٹ لیا ہے اب آپ انہیں لیڈر بھی مان رہے ہیں اور ترقی کیلئے انہیں کی تقلید کر رہے ہیں، خان صاحب اگر یہی تبدیلی ہے تو پھر مبارک ہو!
جناب ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایمبولینس اور پولیس سے پہلے پیزا آپ کے گھر پہنچ جاتا ہے، جہاں سبزیاں تو فٹ پاتھ پر بکتی ہیں مگر پاﺅں میں پہننے والی جوتیاں ائر کنڈیشنر والی دکانوں میں سجی ہوتی ہیں، جہاں ایم اے پاس بیروزگار جبکہ اَن پڑھ ایم این بنے ہوئے ہیں۔ جناب ان چیزوں کو تبدیل کریں۔
خیبر پی کے میں آپ کو حکومت ملی ہے آپ اسے بہتر سے بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کریں، چاہے شہباز شریف کی پیروی کریں یا گامے مصلی کی۔ لیکن تبدیلی لائیں تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ تبدیلی یہ ہوتی ہے۔ تھانہ کلچر اور پٹواری سسٹم کو تبدیل کرنا آپ کا منشور تھا۔ امیر اور غریب کے بچے کیلئے تعلیم ایک چھت کے نیچے یہ بھی آپ کا منشور تھا لہٰذا اس پر عمل کر کے عوام کو دکھائیں۔
٭۔٭۔٭