مشرف کیخلاف غداری کے مقدمے

30 جون 2013

وزیر اعظم میاںمحمدنواز شریف نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور غداری کا مقدمہ 12 اکتوبر 1999ءکی بجائے۳ نومبر 2007ءکو کئے جانیوالے غیر آئینی اقدامات کی بنا پر چلایا جائے گاتاکہ یہ بات ثابت کی جا سکے کہ اس میں انکے ذاتی انتقام کا عنصرشامل نہیں ہے۔ دراصل یہ فیصلہ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے جمہوریت کی کوئی خدمت ہوگی البتہ اس سے ان کرداروں کو ضرورتحفظ ملے گا جوماضی میں فوجی آمروں کے ساتھ تعاون کرکے حکومت میں شامل رہے ہیں۔ ہمیں اپنے عوام اور جمہوریت سے مخلص ہونے کاثبوت دیتے ہوئے سول‘ ملٹری تعلقات کو صحیح ڈگر پر لانے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنے سے میری مراد یہ ہے کہ جنرل ایوب خان‘ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاءالحق‘ جنرل پرویز مشرف اور ان سے تعاون کرنے والے عدلیہ کے معزز ججوں‘ سیاستدانوں‘ بیوروکریسی‘ موقع پرستوں‘ آئین توڑنے پر اکسانے والوں اور معاونت کرنے والوں کیخلاف تحقیقات لازم ہیں۔
سپریم کورٹ کے موجودہ معززجج حضرات چونکہ 3 نومبر 2007ءکی کارروائی کا خود ہدف تھے لہذا بہتریہی ہوگا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت سے اپنے آپ کو الگ کرلیں۔ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ”حقائق جاننے اور مصلحت پسندی“ (Truth and Reconciliation Commission) کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو 1958 ‘ 1977, 1968 اور 1999 کی فوجی مداخلت کی آزادانہ تحقیقات کرے اور آئین توڑنے والوں‘ انہیں اس جرم پر اکسانے والوں اوران کے شریک جرم چہروں سے نقاب اٹھائے اور ملک نے ان کو جن اعزازات سے نوازا ہے ان سے واپس لئے جائیں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں سیاہ وسفید میں تمیز کر سکیں۔ ہماری یادداشت ابھی تازہ ہے یہ جاننے کیلئے کہ بارہ اکتوبر 1999ءکو رونما ہونیوالے واقعات کی صحیح تفصیل کیا ہے۔جب جنرل مشرف بیرون ملک دورے سے پی آئی اے کے جہاز PK-805 پر وطن واپس آرہے تھے اور ان کا جہاز ابھی پاکستان سے کافی فاصلے پر تھااور ملک میں موجوداپنی فوجی قیادت سے ان کا کوئی رابطہ نہ تھا‘ تو اس وقت اندرون ملک کیا عمل جاری تھا:
٭بارہ اکتوبر دن چار بجے وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین‘ اپنے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال اور پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کی موجودگی میں جنرل پرویز مشرف کا ریٹائرمنٹ آرڈر تیار کیا اور ایوان صدر کی جانب روانہ ہوئے اور ریٹائرمنٹ آرڈر صدر مملکت کو دکھایا جنہوں نے اس پر دستخط نہیں کئے بلکہ اسے ”صرف دیکھا“۔ وزیراعظم واپس آئے اور تقریباً ساڑھے پانچ بجے قومی ٹیلیویژن پر جنرل مشرف کی برطرفی اور نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کااعلان کیا۔
٭ تھوڑی دیر بعد وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کوخبر ملی کہ 111 بریگیڈ حرکت میں آگیا ہے اور اسلام آباد ٹیلیویژن اسٹیشن پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنا اسلحہ اٹھایا اور ٹیلیویژن اسٹیشن کی جانب لپکے لیکن جلد ہی واپس لوٹ آئے اور وزیراعظم کو مطلع کیاکہ ”گیم ختم ہوچکی ہے“۔ وزیراعظم ہاﺅس میں تعینات گارڈ بٹالین چونکہ 111 بریگیڈ کا حصہ تھی لہذا اس نے پہلے ہی وزیراعظم ہاﺅس کو حفاظت میں لے لیا تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف کی غیرموجودگی میں ان کے ساتھیوں نے اپنے طور پر کارروائی کرتے ہوئے فوجی کنٹرول حاصل کرلیا اور وزیراعظم اور صدر مملکت کو اپنے اپنے گھروں میں نظر بندکر دیا۔
٭ جب جنرل مشرف کا طیارہ ملکی سرحدوں سے کچھ دوری پر تھا تو انہیں طیارے کے پائلٹ نے اطلاع دی کہ اسے گراﺅنڈ کنٹرول سے جہاز کا رخ ایک مخصوص ایئر فیلڈ کی طرف موڑنے کی ہدایات ملی ہیں لیکن انہوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ مشرف کے طیارے نے شام تقریباً سات بج کر پچاس منٹ پر لینڈ کیا تو کراچی کے کور کمانڈر نے انہیں حالات سے آگاہ کیا اورمشرف نے رات کراچی میںہی قیام کرنے کو ترجیح دی۔ اپنے چیف کو بچانے کی یہ ساری کارروائی انکے ساتھیوں نے کی تھی اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کے فیصلے کورد کرنے کی بجائے اس پر عمل کو ترجیح دی اور عنان حکومت سنبھال لی جس کی معزز عدلیہ نے تائید کی اور سیاست دانوں اورموقع پرستوںکے گروہ انکے ارد گرد جمع ہونے شروع ہوگئے۔
جنرل مشرف کو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا جب دو سال قبل وزیراعظم نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو فوج کی قیادت سے محض اس لئے ہٹا دیا تھا کہ سکیورٹی کونسل کی تشکیل اور کرادرکے حوالے سے انکی رائے مختلف تھی۔ اسی طرح کارگل کے معاملے پر وزیراعظم جنرل مشرف سے خوش نہیں تھے لیکن انہوں نے آرمی چیف کوقیادت سے برطرف کرنے کیلئے جو طریقہ اختیار کیا اس سے سویلین حکومت کی جانب سے ”چیف آف آرمی سٹاف کیخلاف سازش“ کا تاثر قائم ہوا اور عسکری قیادت نے اپنے چیف کی آبرو قائم رکھنے کیلئے اپنے طور پر کاروائی کی کیونکہ بحیثیت ادارہ‘ ہماری فوج ایک خاندان کی مانند ہے اور اپنے خاندان کی آبرو کو ایسے نامناسب انداز سے ”بے آبرو“ ہونے سے بچانا خاندان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عرف عام میں ایسی انتقامی کارروائی کو Honour Killing کہا جاتا ہے۔
ہمارا ملک گونا گوں مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ حکومت اور عوام مکمل تعاون سے ان مسائل سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کریں۔ اس وقت مشرف کیخلاف مقدمات قائم کرنا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اسکی آڑ میں بدعنوان اوروطن دشمن عناصر کو کھلی چھٹی مل جائیگی کہ وہ اپنے مکروہ ارادوں کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کر دیں۔ ہماری عدالتوں میں اس وقت ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں لہذا بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ حقائق کومنظر عام پر لانے کیلئے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے جو ماضی میں آئین توڑنے کے ذمہ دار تمام عناصر کیخلاف منصفانہ تحقیقات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو اورسول ملٹری تعلقات کو مستحکم بنایا جاسکے۔ہماری ماضی کی قومی تاریخ کوئی اچھا منظر نامہ پیش نہیں کرتی جسے درست کرنا ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔
آخر وزیر اعظم کو جنرل مشرف کا ٹرائل کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے جبکہ عوام کیلئے زندگی کی سانسیں لینابھی دشوار ہو چکا ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں انتہائی بے تابی سے منتظر ہیں کہ وزیراعظم اپنے حلف کے مطابق ذاتی عناد سے بالاتر ہو کرشفاف اور غیرجانبدار انداز سے قوم کی خدمت کا وعدہ پوراکریں؟ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اتنی عجلت میں کیوں ہے کہ انہوں نے اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 6 کے تحت جنرل مشرف کے ٹرائل کیلئے حکومت سے ہدایت حاصل کرنے کیلئے صرف تین دن کی مہلت دی ہے؟ سپریم کورٹ کے معزز جج حضرات بذات خود اس مقدمے کے حوالے سے ایک متاثرہ پارٹی ہےں لہذا انہیں خود کواس مقدمے کی سماعت سے الگ کر لےنا چاہئیے۔
 پاکستانی قوم این آر او اور سوئس بینک کیس Soap Opera ڈراموںکے حوالے سے بہت لطف اندوز ہوتی رہی ہے۔ اور خوش قسمتی سے ایک بار پھر قوم کی تفریح طبع کیلئے سوئس بینک کا ڈرامہ زندہ ہو گیا ہے جس میں وضاحت طلب کئے جانے کے معاملے پر خود سوئس عدالت نے سپریم کورٹ کے خط کی بجائے حکومت کے جعلی خط کو ترجیح دی ہے۔ انشاءاللہ ہمارا سوشل میڈیا اور سوئس کورٹ اس ڈرامے کے حوالے سے قوم کو بھر پور طریقے سے لطف اندوز کرتے رہیں گے۔ دراصل یہ مشکل حالات جناب نواز شریف کیلئے بڑا چیلنج ہیں جس کے سبب آج وہ تاریخ کے دوراہے پر ہیں اور وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ عام سوچ سے ہٹ کر مضبوط فیصلے کریں اور وہ وعدے پورے کریں کہ عوام جس کے منتظر ہیں اور انتظار کی یہ گھڑیاں زیادہ لمبی نہیں ہونی چاہئیں۔