نواز حکومت کے تین ہفتے ....ایک تجزیہ

30 جون 2013

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میاں نواز شریف یا مسلم لیگ ن کی حکومت کا قیام کوئی نئی بات نہیں، نواز شریف صاحب اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وزیرا عظم رہ چکے ہیں۔اور پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت کئی بار رہی ہے، قابل تجزیہ بات یہ ہے کہ اس بار وفاقی حکومت کا انداز حکمرانی پاکستان کے روایتی طرز سے خاصہ مختلف نظر آ رہا ہے ۔
گزشتہ ہفتے پاکستان میں متعین برطانیہ کے ہائی کمشنر ایڈم تھامسن سے ایک غیر رسمی ملاقات ہوئی، اس گفتگو سے بھی میں نے یہ تاثر لیا کہ مغربی قوتوں کو بہت عرصے بعد یہ احساس ہو رہا ہے کہ نواز شریف حکومت، پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی طرح"سب سے پہلے پاکستان" کا نعرہ نہیں لگا رہی بلکہ وہ عملاً ہر فیصلہ کرتے ہوئے "سب سے پہلے پاکستان" کے مفاد کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔اسی پس منظر میں حالیہ ڈرون حملوں کی بناءپر امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو حیران کن طور پر پہلے سے طے شدہ پروگرام ملتوی کرنا پڑا کیونکہ موجودہ حکومت امریکی پالیسی پر آنکھ بند کر کے عمل کرنے کی بجائے قومی مفادات کو سامنے رکھ کرباہمی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
وزیر اعظم اس ہفتے چین کا سرکاری دورہ بھی کر رہے ہیں، روایتی اعتبار سے پاکستان کی ہر نئی حکومت اپنا پہلا دورہ چین ہی کا کرتی رہی ہے لیکن وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے چند دن پہلے چینی وزیر اعظم سے میاں نواز شریف اور ان کے رفقاءکی ملاقاتوں کے دوران جن امور پر بات چیت ہوئی انہیںعملی شکل دینے میں اس دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے جس دن قطر میں امریکہ طالبان مذاکرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اسی دن انہوں نے ڈیورنڈ لائن(پاک افغان سرحد) کے حوالے پر تو پاکستانی موقف کو نہ مانا لیکن میاں نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے نجی ٹی وی کے انٹر ویو میںجس طرح نواز شریف کی حب الوطنی اور ان کی شخصیت اور کردار کو سراہا ۔ بھارتی قیادت اور مجموعی طور پر بھارتی رائے عامہ نے بھی نواز شریف صاحب کے وزیر اعظم بننے پر جس خوش دلی اور اعتماد کا اظہار کیا وہ پاک بھارت تنازعات کے حل کی جانب پرُ اعتماد فضا کے قیام کی معاون ہو گا۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں رکن اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بعد تقریر کے آغاز میں کہا کہ میں آج حزب اختلاف کے لیڈر کی بجائے ایک درد مند پاکستانی کے طور پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ملک کو درپیش مسائل کو بڑے مدلل انداز میںپیش کیا۔تقریر کے دوران انہوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ(جہاں ان کی حکومت بھی ہے) کے بارے میں کہا کہ اس صوبے میں صرف ایک ہی کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے اور وہ ہے "اغوا برائے تاوان" انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخواہ کے حالات وفاق کی مدد کے بغیر صوبائی حکومت ٹھیک نہیںکر سکتی۔انہوں نے بڑی ذہانت اور تیکنیک سے الیکشن کمیشن ، انتخابی نتائج اور نیب کو نشانہ بنایا، لیکن کمال ہے نواز شریف صاحب کے اوپنگ بیٹسمین چوہدری نثار کا کہ جنہوں نے عمران خان کی جانب سے پھینکی گئی ہر فاسٹ بال، گگلی اور بانسرز پر اس طرح چوکے اور چھکے مارے کہ عمران خان کو پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھ کر وضاحت کرنی پڑی ۔چوہدری نثا رنے الیکشن کمیشن اور انتخابی نتائج پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے جب یہ انکشاف کیا کہ چیف الیکشن کمیشنر کے لیے فخرو بھائی کا نام عمران خان نے غیر رسمی مشارورت کے دوران تجویز کیا تھا تو ایوان کی اکثریت کے لیے یہ ایک خبر تھی۔اسی طرح نیب کے نئے چیئرمین کے لیے بھی چوہدری نثار نے عمران خان کو کھلے عام دعوت دی کہ وہ اس کے لیے بھی نام تجویز کریں ۔اسی طرح انتخابی نتائج کے حوالے سے جب چوہدری نثار نے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ عمران خان چیف جسٹس کو سوموٹو نوٹس کا کہنے کی بجائے خود تجویز کریں کہ وہ کن کن اور کون کون سے حلقوں میں دوبار گنتی کروانا چاہتے ہیں حکومت سب کے لیے تیار ہے اور ان حلقوں کی سکرونٹی کے بعد اگر میرے سمیت کوئی ممبر دھاندلی سے منتخب ہو کر ایوان میں آیا ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کی ممبر شپ ختم کر دی جائے بلکہ اسے آئندہ تین انتخابات کے لیے بھی نا اہل قرار دینے کے لیے حکومت تیار ہے۔ چوہدری صاحب نے عمران خان کی پر اثر تقریر کا جس انداز میں جواب دیا اس نے ایوان میںموجود ہر فرد کو حیران کر دیا۔
اب کی بار میاں صاحب نے ملک کے مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر پارٹی افراد کو تعینات نہ کرنے کے دباﺅ کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔ بلا شبہ اس وقت پاکستانی معیشت کی زبوں حالی،لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی اور مہنگائی نے عوام اور حکومت کے اوسان خطا کئے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ زندگی دشوارضرور ہیں لیکن تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود ہم دنیا کے بہت سے ملکوں سے اب بھی بہترہیں۔گردشی قرضہ ختم ہونے سے لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ کمی کی توقع ہے اس سے ملکی صنعت کا پہیہ چلے گا، روز گار کے مواقع حاصل ہونگے اور جب معیشت بہتر ہو گی تو عام آدمی کے حالات میں بتدریج تبدیلی آئے گی۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حکومت پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔ حکومت فیصلہ سازی انتہائی سوچ بچار کے بعد کرے اور پھر فیصلے پر نظر ثانی صرف اور صرف قومی مفاد میں کی جائے نہ کہ ذاتی اور سیاسی مفاد میں۔