آئی ایم ایف، پاکستان اور امریکہ

30 جون 2013

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے سونے کی زبردست قلت کی بنا پر دوران جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کو باہمی کرنسیوں کے تبادلے کی شرح کو متعین کرنے والے 1880 سے جاری گولڈ سٹینڈرڈ کے نظام کو خیرآباد کہنا پڑا۔ امریکہ اور یورپ 1929-34 میں زائد پیداوار کی وجہ سے عظیم ترین کسادی بازاری کا شکار ہونے کا مزہ چکھ چکے تھے اور رسد کے طلب سے زیادہ بڑھنے پر اشیا صرف کی قیمتیں اس قدر گر گئیں کہ کارخانے داروں کے پیداواری مصارف بھی اس سے پورے نہیں ہو رہے تھے جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں تقریباً تین کروڑ افراد کارخانے فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے تھے۔ چنانچہ نئی نئی منڈیاں تلاش کرنے کی وجہ سے جرمنی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے خلاف شدید لڑائی میں الجھ گئے چنانچہ تیسری جنگ عظیم سے بچنے کیلئے امریکہ اور یورپ کے فیصلہ سازوں نے یہ راستہ اختیار کیا کہ نہ تو دوبارہ گولڈ سٹینڈرڈ کا نظام اختیار کیا جائے اور نہ ہی آزادانہ شرح تبادلہ کا نظام اپنایا جائے اور ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بین الاقوامی تجارت سے صنعتی ترقی یافتہ ممالک کو مساوی فائدہ حاصل ہو اور وہ ترقی پذیر ممالک میں اپنی اشیاءبیچنے کیلئے قبضے کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ نہ الجھیں بلکہ مسابقت کی بنیاد پر ان ممالک کی منڈیوں میں اشیا بیچیں اور اس مقصد کیلئے وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے وجود میں لائے تاکہ قرضے فراہم کرکے ان ممالک کی معیشتوں میں قوت خرید بحال رکھی جائے۔ دنیا کے 44 ممالک کے نمائندوں کی منظوری سے آئی ایم ایف کا ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ ایک خود مختار ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا اور اس کا الحاق اقوام متحدہ سے ہے۔ وہ تمام ممالک جو فنڈز آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت اس کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں انہیں اسکی ممبر شپ آفر کی جاتی ہے۔ آج اسکے ممبرز ممالک کی تعداد 44 سے بڑھ کر 183 ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف میں ہر ممبر ملک کو اسکی قومی آمدنی اور بین الاقوامی تجارت میں شرح تناسب کی بنیاد پر ایک کوٹہ الاٹ کیا جاتا ہے اور ہر ممبر ملک اس کوٹے کا 75 فیصد اپنی کرنسی میں ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے اور 25 فیصد گولڈ کی صورت میں جمع کرایا جاتا ہے تاہم 1967ءمیں آئی ایم ایف نے مختلف حکومتوں کے مابین قرضوں کے معاملات طے کرنے کے SDRs (Special Drawing Rights) متعارف کرائے۔ یہ گولڈ کے متبادل کے طور پر آئی ایم ایف کی متعارف کردہ اور گارٹنڈ کاغذی کرنسی ہے اور یہ گولڈ کے مساوی بین الاقوامی ریزرو کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ شروع شروع میں ایک ایس ڈی آر کی قدر ایک ڈالر کے برابر رکھی گئی مگر اب اسکی شرح مبادلہ پانچ ترقی یافتہ ممالک کی کرنسیوں کی مشترکہ نسبت کے ساتھ طے کی جاتی ہے مثلاً اگر امریکہ نے برطانیہ کا قرض ادا کرنا ہے اور وہ براہ راست یہ قرض ادا کرنے سے قاصر ہے تو وہ اپنا یہ قرض آئی ایم ایف میں اسکے تفویض کردہ SDRs کے کوٹے کی اس قرض کے برابر حقدار برطانیہ کو منتقل کر سکتا ہے چونکہ اس وقت امریکہ آئی ایم ایف کے پاس SDRs کا 16 فیصد کوٹا ہے اور ا کی یورپین اتحادی ممالک اور جاپان کو ساتھ ملایا جائے تو آئی ایم ایف کے فنڈز کے 80 فیصد پر امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی اجارہ داری ہے۔ چین کی یہ بڑی زبردست خواہش ہے کہ امریکہ اور جاپان جو اسکی تقریباً 1500 ارب ڈالرز کے مقروض ہیں وہ آئی ایم ایف میں اسے SDRs منتقل کر دیں یا آئی ایم ایف اپنا فنڈ بڑھا لے اور چین اس میں حیران کن حد تک کوٹہ حاصل کرے مگر مغربی ممالک چین کی یہ خواہش پوری ہونے میں زبردستی رکاوٹ ہیں حالانکہ چین نے کھلی مارکیٹ سے لاکھوں ٹن سونا خرید رکھا ہے اور وہ اسکے عوض آئی ایم ایف کا سب سے بڑا سبکرائبر بننا چاہتا ہے مگر امریکہ، جاپان، مشرق وسطیٰ اور یورپی یونین کے ممالک کا مشترکہ اتحاد کیسے یہ گوارا کر سکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں معاشی نوآبادی کا پھندا جو سامراجی ممالک نے امریکہ کے ساتھ مل کر قائم کیا ہے وہ کسی اور ملک کے کنٹرول میں آ جائے۔
آئی ایم ایف اپنے ممالک کو اپنے کوٹے کا 25 فیصد انتہائی کم شرح سود پر قرض دیتا ہے مگر اس سے زائد رقم پر شرح سود بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے اہم مقاصد میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنے ممبرز ممالک کو کرنسیوں کی شرح مبادلہ کو مستحکم رکھے اور ممبرز ممالک کے توازن اور ادائیگیوں کو بہتر بنانے کیلئے انہیں فنڈز آسان شرائط پر مہیا کرے اور مفت ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرے مگر ترقی پذیر ممالک (پاکستان) کے سلسلے میں آئی ایم ایف قرضے فراہم کرنے میں ان کے مالیاتی معاملات میں مداخلت بھی کرتا ہے جو اسکے مینڈیٹ کیخلاف ہے مگر چونکہ یہ امیر ممالک کا ایک کلب ہے اس میں دوست ممالک پر پالیسی سازی نہیں ہوتی ہے بلکہ 1 لاکھ ڈالر کے عوض ایک ووٹ کا حق تفویض ہوتا ہے لہٰذا جن ممالک کا کوٹہ زیادہ ہوتا ہے انکی مرضی کے فیصلے آئی ایم ایف میں ہوتے ہیںمثلاً آئی ایم ایف میں امریکہ 16.75 فیصد‘ چین 3.81 فیصد‘ جاپان 6.23 فیصد‘ بھارت 2.34 فیصد‘ پاکستان 0.44 فیصداور ایران 0.62 فیصدکوٹہ رکھتے ہیں۔ پاکستان 1952ءسے لیکر اب تک آئی ایم ایف سے 18 بلین ڈالر کے 18 پروگرام لے چکا ہے جن میں سے محض 70 فیصد فنڈز استعمال ہوئے۔ 1988ءسے لیکر اب تک پاکستان نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت قرضے کے 12 پروگرام حاصل کئے جن میں 11 درمیان میں ہی چھوڑ دئیے گئے۔ اگر کسی ترقی پذیر ممالک کی اشیاءکی طلب بڑھنے سے اسکی کرنسی کی طلب بڑھ جائے تو آئی ایم ایف اس ملک کی کرنسی مارکیٹ سے خرید لیتا ہے اور مرضی سے ان ممالک کو فراہم کرتا ہے جو امریکہ کے اتحادی ہوتے ہیں۔ تاہم جب پاکستان امریکی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے تو آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور اسلامی ترقیاتی بنک ہماری تمام تر خامیوں کو نظرانداز کر کے امداد فراہم کرتے رہتے ہیں وگرنہ جونہی ہم امریکہ کے برعکس ایران اور چین کے ساتھ تجارتی تعلق کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو آئی ایم ایف ہمیں قرضہ جات کی فراہمی کیلئے کڑی سے کڑی شرائط عائد کرتا ہے۔ ....11.3 ملین ڈالرز کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت 9 فیصدشرح سود پر قرض حاصل کیا مگر جب ہم نے امریکہ کے برخلاف ایران سے گیس پائپ لائن اور چین کے ساتھ گوادر پورٹ کے معاملات طے کرنے کی کوشش کی تو امریکی اشارے پر آئی ایم ایف نے ہمیں 11.3 بلین ڈالرز میں سے صرف 7.6 بلین ڈالرز دے کر پروگرام ختم کر دیا اور 11.3 ملین ڈالرز کی بنیاد پر جرمانے اور سود کے ساتھ 8 ملین ڈالرز 2015 ءتک واپس کرنے کا حکم دے دیا اور آج اگر ہم امریکی ایجنڈے کی افغانستان میں تکمیل جاری رکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پورے کئے بغیر 4 بلین ڈالرز کا پیکیج مل جائے جس کے تحت ہمیں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کم از کم چھ روپے اضافہ کرنا ہے اور تمام اشیاءپر سبسڈی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔ ہم ایک پروگرام شروع کرتے ہیں درمیان میں کبھی افغانستان جہاد آ جاتا ہے تو کبھی 9/11 کا واقعہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں ڈالرز کی دھڑا دھڑ سپلائی شروع ہو جاتی ہے اور آئی ایم ایف اپنے آقا کے مفاد کی خاطر چپ کر جاتا ہے۔جب ہم یہ قرضے ادا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پلان B اسحاق ڈار پیش کر دیتے ہیں پلان B میں امریکہ اور دوست ممالک سے پیسے ملیں گے مگر امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے محفوظ زمینی راستہ دیں اور ہندوستان کو سنٹرل ایشیاءکی ریاستوں تک رسائی دیں اور چین، ایران سے فاصلے پر رہیں اور افغانستان میں امریکہ کی خواہش کے مطابق معاملات حل ہونے دیں۔