حکومت بجلی چوری روکنے میں بری طرح ناکام، لائن لاسز 18.6 فیصد ہوگئے

30 جنوری 2015

اسلام آباد (عثمان چیمہ/ نیشن رپورٹ) بجلی کے بحران کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود مسلم لیگ ن کی حکومت بجلی چوری روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ حکومت کی نااہلی کے باعث بجلی چوری کے رجحان میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ ”دی نیشن“ کو ملنے والی دستاویز کے مطابق مالی سال 2014-15 کے پہلے 5 ماہ کے دوران لائن لاسز 18.6 فیصد رہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے لائن لاسز 17.8 فیصد تھے۔ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث پیدا ہونے والی اس صورتحال سے بجلی کا بحران جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے بجلی چوری کے خلاف ٹھوس اقدامات کے بجائے مختلف اوقات میں نیپرا کو قابل قبول لائن لاسز کی حد بڑھانے کی ہدایت کی۔ نیپرا نے حال ہی میں قابل توجیہہ لائن لاسز کی اوسط حد 13.5 فیصد منظور کی ہے۔ اس حد سے زیادہ بڑھنے والی بجلی کو چوری شدہ بجلی تصور کیا جائے گا۔ تاہم تقسیم کار کمپنی کے انفرا سٹرکچر کی بنیاد پر یہ حد مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ قانون کے مطابق قابل قبول لائن لاسز کو بجلی کی قیمت میں شامل کردیا جاتا ہے جبکہ اس حد سے زیادہ لائن لاسز کو بچلی چوری شمار کرکے اس کی ریکوری تقسیم کار کمپنی یا حکومت نے کرنا ہوتی ہے۔ تاہم اصل میں حد سے زیادہ لائن لاسز کی قیمت ادا کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں اور آخرکار پاور سیکٹر کی ادائیگیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپرا بڑھتی ہوئی بجلی چوری کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی مگر آخرکار یہ بوجھ عوام کے ٹیکسوں سے جمع رقوم کو آئندہ بجٹ میں ان ادائیگیوں کیلئے مختص کرے گی۔ پاور سیکٹر کی ادائیگیاں ایک بار پھر 237 ارب تک پہنچ گئی ہیں جن کا بڑا حصہ قابل قبول کی حد سے بڑھے ہوئے لائن لاسز یا بجلی چوری کے باعث لازم ہونے والی ادائیگیاں ہیں۔ ان حالات میں حکومت کو پھر بجٹ سے ہی یہ ادائیگیاں کرنا ہونگی اور ایک بار پھر بے گناہ صارفین ناکردہ جرم کی قیمت ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق قابل قبول لائن لاسز کی حد ایک فیصد بڑھانے سے 10 ارب روپے بجلی کی قیمت میںشامل ہوجاتے ہیں۔ اس وقت حد سے تجاوز کرنے والے لائن لاسز 5.1 فیصد ہیں اگر سال کے آخر تک صورتحال یہی رہی تو بچلی چوری سے 50 ارب سے زائد کا نقصان ہوچکا ہو گا۔