بجلی بحران ختم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات ناکافی، 11 منصوبوں پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی

30 جنوری 2015

لاہور (ندیم بسرا) ملک میں جاری بجلی کا بحران ختم کرنے کے لئے حکومتی اداروںکے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان اور پنجاب میں پہلے سے فزیبلٹی والے متبادل توانائی کے متعدد منصوبوں پر متعلقہ محکموں نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ محکمہ انرجی پنجاب، پی پی ڈی بی (PPDB) اور پی پی ڈی سی ایل (PPDCL) نے اعلان کیا تھا کہ غیر ملکی کوئلے سے پنجاب میں 9 ہزار میگاواٹ کے پراجیکٹ لگیں گے۔ ملائشیا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے کوئلے پر یہ منصوبے شروع ہونے تھے مگر اعلان کے 17 منصوبوں میں سے صرف 6 پر کام ہو رہا ہے اور کام کی رفتار بھی انتہائی سست ہے۔ کوئلے کے متعدد منصوبوں پر ریلوے ٹریک نہ ہونے اور پرانے ٹریک کو بحال نہ کرنے کے محکمہ ریلوے کے فیصلے کے بعد 11 منصوبوں پر کام ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ محکمہ ریلوے کے حکام نے مذکورہ محکموں کا آگاہ کیا ہے کہ 110 میگاواٹ کے 11پراجیکٹ کی بجائے 3پراجیکٹ راجہ جھنگ (قصور)، بھلوال، لوتھڑ (ملتان) پر کوئلہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ گوجرانوالہ، سرائے عالمگےر (گجرات)، سمبڑیال (سیالکوٹ)، جلوموڑ (لاہور)، بھکی (شیخوپورہ)، چک جھمرہ (فیصل آ باد) وہاڑی، خیرپور ٹامیوالی بہاول پور منصوبوں پر ریلوے ٹریک موجود نہیں اور پرانے ٹریک کو بحال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ 13، 13 سو میگاواٹ کے 6 منصوبے جن میں مظفر گڑھ، ساہیوال اور رحیم یار خان پر کوئلے کی سپلائی ٹریک کے ساتھ ہو سکتی ہے مگر بھکی (شیخوپورہ)، بلو کی، جھنگ میں ریلوے ٹریک موجود نہیں یا پرانا ٹریک بحال نہیںہوگا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت اب ان میں سے متعدد منصوبوں کو کوئلے کی بجائے ایل این جی پر منتقل کرنے کو سوچ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں محکمہ انرجی پنجاب، پی پی ڈی بی (PPDB) اور پی پی ڈی سی ایل (PPDCL) کی کاکردگی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ انجینئرز اور بیوروکریسی نے ان منصوبوں کی فزبیلٹی سے قبل ان سوالات کی طرف نشاندہی کیوں نہیں کی۔ واضح رہے کہ اگر ہم بہتر منصوبہ بندی کریں اور اپنے وسائل پر انحصار کریں تو ملک میں موجود 185بلین ٹن کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان یا حکومت پنجاب ملکی کوئلے سے بجلی کے مختلف پیداواری صلاحیت کے پراجیکٹ لگانا شروع کر دیں تو 52 ہزار میگاواٹ بجلی آئندہ 30 برس کے لئے اسی کوئلے سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی کوئلے میں 45 فیصد پانی ہے مگر اسے کول واٹر فلری کے پراجیکٹ کے ذریعے جلا کر مکمل قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ خیبر پی کے کے پاس پانی کے وسائل، سندھ اور بلوچستان کے پاس گیس کے وسائل موجود ہیں۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جس کے پاس پانی اور کوئلے سے بجلی بنانے کی صلاحیت نہیں ہے مگر تھر کول کے ذخائر تو ملک کے اندر ہی ہیں ان کو استعما ل کرکے آنی والی نسل کا مستقبل روشن کیا جا سکتا ہے۔
بجلی بحران/ ناکافی اقدامات