غریبوں کے حقوق کیلئے جدوجہد، چودھری سرور کی طرف سے نئی سیاسی جماعت بنانے کا امکان

30 جنوری 2015

لاہور (فرخ سعید خواجہ) وزیراعظم محمد نواز شریف کی پسندیدہ شخصیت چودھری محمد سرور کا بحیثیت گورنر پنجاب ان کے ساتھ سیاسی سفر بالآخر اختتام کو پہنچا۔ الیکشن 2013ءکی انتخابی مہم کے دوران پاکستان میں چودھری محمد سرور کی میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کیلئے معاونت نے وزیراعظم کو چودھری محمد سرور کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی جانب راغب کیا۔ اس سلسلے میں شہباز شریف، چودھری نثار اور اسحاق ڈار نے بھی اہم کردار ادا کیا تاہم گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد چودھری محمد سرور کو اندازہ ہوا کہ ان جیسی متحرک شخصیت کیلئے گورنر کا آئینی عہدہ مناسب نہیں۔ پاکستان کے حالات کو تبدیل کرنے کیلئے ان کے اندر طوفان اٹھتے رہے لیکن وہ خود کو بے دست و پا پاتے۔ انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کیا اور خود کو پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس دلانے کیلئے جت گئے۔ انہوں نے گورنر ہاﺅس کو تقاریب کا مرکز بنا دیا بالخصوص ادبی تنظیموں اور این جی اوز کی تقریبات وہاں منعقد ہونے لگیں۔ انہوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی کوششیں کیں۔ صحت اور تعلیم کیلئے ان کی این جی او بھی کوشاں رہی۔ اس دوران اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں، پلاٹوں پر قبضے چھڑانے میں چودھری سرور کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے اندر گورنرشپ رکھنے یا چھوڑنے کی کشمکش کا ڈراپ سین ہو گیا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بیرون ملک دوستوں سے مشاورت کے بعد پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کرینگے جس کے ذریعے غریبوں کو امیروں کے برابر حقوق دلانے کیلئے جدوجہد کرینگے۔
چودھری سرور/ سیاسی جماعت