وزیرِ اعظم کے ’’تِین رتن؟‘‘

30 جنوری 2015
وزیرِ اعظم کے ’’تِین رتن؟‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر صُغریٰ امام کے سوال کے جواب میں چودھری نثار علی خان کی وزارتِ داخلہ نے جواب دِیا ہے کہ ’’سعودی عرب، یو اے ای، ایران، بحرین، آسٹریلیا، امریکہ اور ہالینڈ سے پاکستان کے کئی دِینی مدارس کو’’Funds‘‘ دئیے گئے ہیں۔
’’وَنڈ کھائِیے فَنڈ کھائِیے!‘‘
’’بیرونی مُلکوں سے فنڈز وصول کرنے والے مدرسوں میں مولانا سمیع اُلحق، مولانا فضل اُلرحمن، لال مسجد کے مولوی عبداُلعزیز اور علّامہ طاہر اُلقادری کی سرپرستی میں چلنے والے مدرسے بھی شامل ہیں‘‘۔ وزارتِ داخلہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ اِن مدرسوں کو غیر ممالک سے فنڈز کی وصول کرنے کی اجازت حکومت پاکستان نے دی تھی۔ مدرسوں کے لئے فنڈز دینا ٗ دِلوانا اور وصُول کرنا ٗ ثواب کا کام ہے۔ مسلم لیگ ضیاء کے صدر جناب اعجاز اُلحق ٗ صدر جنرل پرویز مشرف کے دَور میں وفاقی وزیرِ مذہبی امُور تھے ۔ جولائی 2007 ء کا اُن کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ۔’’ دِینی مدرسوں کے بہت سے مُنتظمِین اور اساتذہ نے غیر مُلکوں اور پاکستا ن سے فنڈز اکٹھے کرکے اپنی ذاتی جائیدادیں بنا لی ہیں‘‘۔ جناب اعجاز اُلحق کے اِس بیان کو مدرسے کے کسی بھی مُنتظم ٗ اُستاد  اور  سرپرست نے ابھی تک چیلنج نہیں کِیا۔ پنجابی زبان کا ایک اَکھان ہے کہ۔’’وَنڈ کھائِیے تے و کھنڈ کھائِیے‘‘۔ اِس اَکھان کی شکل اب یہ ہو گی ’’وَنڈ کھائِیے تے فنڈ کھائِیے‘‘۔
’’پنجاب پر پانی چوری کا الزام؟‘‘
27 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ سِندھ سیّد قائم علی شاہ نے وزیرِ اعلیٰ ہائوس کے باہر مُتحِدہ قومی موومنٹ کے قائدِین اور کارکنوں کے احتجاج اور دھرنے کو وزیرِ اعلیٰ ہائوس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا اور 2 دِن بعد کہا کہ ’’پنجاب ہمارا ہزاروں کِیوسک پانی چوری کررہا ہے‘‘۔ مُتحِدہ قومی موومنٹ کے ایک رہنما خواجہ اظہار اُلحسن نے سیّد قائم علی شاہ کو چیلنج کِیا تھا کہ ۔’’ اگر ہم نے وزیرِ اعلیٰ ہائوس پر حملہ کِیا ہے تو آپ ہمارے خلاف مقدمہ درج کرائیں!‘‘۔ لیکن معلوم ہُوا کہ پیپلز پارٹی کا کوئی بھی وکیل یہ مقدمہ لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ تین ہزار سال پہلے پنگھٹ پر پانی بھرتی ہُوئی برِندرا بن کی ایک گوپی نے ’’نند لعل‘‘ (شِری کرِشن) کے اُسے چھیڑنے ٗ کلائی مروڑنے اور کنکری مار کر اُس کی گاگر توڑنے کی شکایت کرتے ہُوئے کہا تھا؎
’’موہے پنگھٹ پہ نند لعل چھیڑ گئو رے
موری نازک کلّیا مروڑ گئو رے
کنکرِ یا موہے ماری ٗ گگرِ یا توڑ ڈاری‘‘
وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو مختلف شاعروں کا کلام ترنّم سے پڑھنے کا شوق ہے لیکن انہیں سیّد قائم علی شاہ کو چھیڑنے ٗ اُن کی نازک کلائی مروڑنے ٗ کنکری مارنے اور اُن کی گگریا توڑنے کا شوق نہیں ہے ٗ تو وہ  والی ٔ سِندھ کا پانی چوری کیسے کرلیں گے؟
’’عُلماء کو بِکتے دیکھا‘‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے زیرِ اہتمام ٗ اسلام آباد میں ’’عُلماء و مشائخ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہُوئے جناب عمران خان نے کہا کہ ’’مُلک کو موجودہ حالات میں پہنچانے کے ذمہ دار جرنیل ٗ جج ٗ سیاست دان اور عُلماء  سب شامل ہیں‘‘۔ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ ’’مَیں نے دِین کے نام پر سیاست کرتے ہُوئے عُلماء کو بِکتے دیکھا ہے‘‘۔ (مولانا فضل اُلرحمن کا نام لئے بغیر ) عمران خان نے کہا کہ ’’ایک مولانا ہر حکومت سے مُنسلِک ہوتے ہیں اور مُلک کو کوئی بھی لُوٹے انہیں  فرق نہیں پڑتا‘‘۔
میرا خیال تھا کہ ’’مولانا فضل اُلرحمن کی اِقتداء میں نماز پڑھنے کے بعد عمرا ن خان اُن پر اور دوسرے عُلماء پر تنقید کرتے ہُوئے ’’ہتّھ ہولا‘‘ رکھیں گے۔مجھے تو  ’’عُلماء و مشائخ کنونشن‘‘ کے شُرکاء پر بھی حیرت ہو رہی ہے کہ اُن کی موجودگی میں خان صاحب نے جب ’’دِین کی سیاست کرنے والے ’’عُلماء کو بِِکتے دیکھا‘‘ کا جملہ بولا تو وہ خاموش کیوں رہے؟۔ انہوں نے عمران خان سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ ’’ وہ بِکائو مال آپ نے کیوں نہ خرید لِیا؟۔ ساحر ؔلُدھیانوی نے کسی اور بازار میں بِکائو مال دیکھ کر کہا تھا؎
’’بازار سے گُزرا ہُوں ٗ خرِیدار نہیں ہُوں‘‘
دِین کی سیاست کرنے والے جو عُلماء پاکستان تحریکِ انصاف کے ’’عُلماء و مشائخ کنونشن‘‘ میں موجود نہیں تھے انہیں ایک دوسرے سے ضرور پوچھنا پڑے گا کہ؎
’’آدمی کوئی ہمارا ’’ دمِ تقریر‘‘ بھی تھا؟
’’وزیرِ خارجہ سپلائی سروِس؟‘‘
قاضی حسین احمد (مرحوم) جماعتِ اسلامی کے پہلے امِیر تھے اور جناب سراج اُلحق دوسرے کہ جِِنہوں نے ہزاروں لوگوں کے جلسوں / جلوسوں کے لئے ’’ملین مارچ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی اور اُن کے عقیدت مندوں نے بھی اپنے اِن دونوں اُمراء کی اِس ’’رُوحانی قوّت‘‘ کو تسلیم بھی کر لِیا۔ اوکاڑہ کے قصبہ حُجرہ شاہ مُقِیم میں خطاب کرتے ہُوئے جناب سراج اُلحق نے فرمایا کہ ’’ صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کے کام جنرل راحیل شریف کررہے ہیں۔ حکومت دو سال میں مُلک کو وزیرِ خارجہ نہیں دے سکی۔ جماعتِ اسلامی حکومت کو قابل وزیرِ خارجہ دینے کو تیار ہے‘‘۔ جناب سراج اُلحق نے گیند وزیرِ اعظم نواز شریف کے کورٹ میں ڈال دی ہے ’’اگّے تیرے بھاگ لچِھیّے؟‘‘۔
جنرل ضیاء اُلحق نے جولائی 1977 ء میں اقتدار پر قبضہ کِیا تو جماعت اسلامی کے بانی امِیر مولانا مودُودی سے وفاق کے لئے تین وزیر مانگے جو اُنہوں نے دے دیئے ۔ وزیرِ اعظم نواز شریف  نے جناب سراج اُلحق سے وزیرِ خارجہ نہیں مانگا لیکن انہوں نے خود ہی کوئی قابل وزیرِ خارجہ دینے کی پیشکش کر دی جِس سے اُن کا خلُوص اور پاکستان سے پیار جھلکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جناب سراج اُلحق نے یہ پیشکش ’’حُجرہ شاہ مُقِیم ‘‘ میں ہی کیوں کی؟ کیا موصُوف حضرت شاہ مُقِیمؒ کی وساطت سے اپنی ’’خلافت کے قیام‘‘ کے لئے اللہ تعالی سے دُعا مانگنے گئے تھے؟۔ممکن ہے جناب سراج اُلحق نے پنجاب کی لوک داستان ’’مِرزا صاحباں‘‘ کا اُردُو یا پشتو میں ترجمہ پڑھا ہو؟۔مِرزا صاحباں کی منظوم کہانی کا ایک بند ہے؎
’’حُجرے شاہ مُقِیم دے ٗ اِک جٹّی عرض کرے
کُتّی مرے کراڑ دی ٗ جیہڑی چَوں چَوں نِتّ کرے
پنج ستّ مرن گوانڈھناں ٗ تے رہندِیاں نُوں تاپ چڑھے
گلِیاں ہوون سُنجِیاں ٗ وِچ مِرزاؔ یار پِھرے‘‘
وزیرِ اعظم نواز شریف کو خوش ہونا چاہیے کہ  اُن کے کندھوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے جناب سراج اُلحق نے ’’وزیرِ خارجہ سپلائی سروِس‘‘ کھول دی ہے۔ اب امیر ِ جماعت اسلامی کے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ وزیراعظم ہائوس کے آس پاس آواز لگاتے  پھریں کہ ’’خوچے وزیرِ خارجہ لے لو! ٗ نہیں لینا تو نہ لو!جب میں خلیفہ بن جائوں گا تو جماعت کے قابل شخص کو خُود وزیرِ خارجہ مقرر کردُوں گا‘‘۔
’’وزیرِ اعظم کے تِین رَتن؟‘‘
’’نوائے وقت‘‘ اسلام آباد کے وقائع نگار خصوصی محمد نواز رضا کے مطابق۔وزیرِ اعظم نے اپنی کِچن کیبنٹ بحال کردی ہے جو اہم امُور پر حتمی فیصلے کرے گی۔(گویاکِچن کیبنٹ پہلے معطل تھی)۔ بحال کی گئی کَچن کیبنٹ کے میں صِرف تین ارکان وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ٗوزیرِ خزانہ جناب محمد اسحاق ڈار اور چودھری نثار علی خان ہیں۔ قبل ازیں خواجہ محمد آصف ٗ خواجہ سعد رفیق اور چودھری احسن اقبال بھی کِچن کیبنٹ میں شامل تھے۔ لغوی معنوں میں با اثر غیر سرکاری افراد کے گروہ کو ’’Kitchen Cabinet ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن وزیرِ اعظم کی کِچن کیبنٹ پہلے بھی سرکاری افراد (وزرائ) کے گروہ پر مشتمل تھی اور اب بھی اُس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور دو وفاقی وزراء ہیں۔قبل از مسیح ہِندُوستان کے مہاراجا بِکرم آدِتّیہ المعرُوف بِکرماجیت (جِس کے نام سے بِکرمی سال جاری ہُوا) کی کِچن کیبنٹ کے 9 ارکان تھے جنہیں ’’9 رَتن‘‘ (جواہر) کہا جاتا تھا۔  بعد ازاں مُغل بادشاہ اکبرؔ کے 9 رَتن مشہُور ہُوئے۔درباریوں میں سے کون  ’’رَتن‘‘ ہو؟ یہ فیصلہ بادشاہ ہی کرتا تھا یعنی ’’جِسے پِیا چاہے، وہی سُہاگن‘‘۔ فاتح سومنات محمود غزنوی کے 8 غُلام اُس کے ’’رَتن‘‘ تھے۔ اُن میں سے ملک ایازؔ سب سے محبوب رَتن تھا۔ علّامہ اقبالؒ نے اپنے دَور کے غزنویؔ اور ایّازؔ کے بارے کہا تھا؎
’’نہ وہ غزنوی ؔ میں تڑپ رہی
نہ وہ خَم ہے زُلفِ ایّازؔ میں‘‘
شاید خواجہ محمد آصف ٗ خواجہ سعد رفیق اور چودھری احسن اقبال اب ’’ خَمِ ایّازؔ‘‘ کے وصف سے محروم ہو گئے ہیں۔کوئی بات نہیں کِچن کیبنٹ  میں ’’تِین رَتن‘‘ بھی ہوں تو کام چلایا جا سکتا ہے۔