مانچسٹر: آٹھ سالہ بچی نے ڈائننگ ٹیبل پر والدین سے مختصر گفتگو میں ”کینسر کا سستا علاج“ تلاش کرلیا

30 جنوری 2015

مانچسٹر (آئی این پی )8سالہ بچی نے ڈائننگ ٹیبل پر والدین کے ساتھ مختصر سی گفتگو میں 'کینسر کا علاج' تلاش کر لیا۔ کمیلا لیسانٹی کینسر پر ریسرچ کررہے اپنے والد کے ساتھ رات کا کھانا کھارہی تھی کہ ان کے والد نے بچی سے پوچھا کے وہ کینسر کا کس طرح علاج کریں گی۔ آٹھ سالہ بچی نے جواب دیا کہ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کروں گی۔
پروفیسر لیسانتی اور انکی بیوی فیڈریکا سوتگیا جو خود بھی کینسر ریسرچ پر کام کر رہے ہیں، نے بیٹی کی تھیوری کا لیب میں ٹیسٹ کیا اور جو نتیجے ان کے سامنے آئے انہوں نے جوڑے کو حیران کردیا۔ تجربے کے دوران نسبتاً سستی اینٹی بائیوٹکس نے بھی کینسر سیلز کو ختم کرنا شروع کردیا، ان ادویات کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹیومر تخلیق کرنے اور انہیں زندہ رکھنے کا کام کرنے والے کینسر سٹیم سیلز میں بھی میٹوکونڈریا بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ ریسرچ کے دوران مہنگی اور سستی اینٹی بائیوٹکس کو بریسٹ، پروسٹیٹ، لنگز، اووارین، پینکریاٹک، سکن اور برین ٹیمور کے سٹیم سیلز کے خلاف استعمال کیا گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ان دواو¿ں نے صحت مند سیلز کو نقصان نہیں پہنچایا۔ پروفیسر لیسانتی کا ماننا ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال سستا اور محفوظ طریقہ علاج ثابت ہو سکتا ہے۔