کوئٹہ میں 20 فیصد کٹوتی برقرار‘ 5 لٹر آب زم زم واپسی پر ملے گا’ حج معاہدہ ہو گیا

30 جنوری 2015

جدہ (امیر محمد خان) اس سال  تمام پاکستانی عازمین حج  ای  سسٹم کے تحت  فریضہ حج ادا کریں گے  اور مشین ریڈایبل پاسپورٹ، وبائی امراض سے بچائو کے  ٹیکے لگوانے کی شرط  کے ساتھ 45 سال  سے کم عمر خواتین  کیلئے محرم کی قید لگا دی  گئی ہے۔ سعودی  وزارت حج کے  دفتر میں  وفاقی  وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی   وزیر حج ڈاکٹر بندر بن حجار کے درمیان  طے پانے والے معاہدے کے دوران سعودی عرب   میں پاکستانی  سفیر منظورالحق، قائم  مقام قونصل  جنرل آصف میمن  کے  علاوہ   ڈائریکٹر جنرل  حج اور ڈائریکٹر جنرل  حج مکہ مکرمہ پاکستان حج مشن بھی موجود تھے۔ معاہدے میں طے پایا   کہ اس سال   پاکستان  سے  کل ایک لاکھ 44 ہزار عازمین حج  فریضہ ادا کریں گے جن میں سرکاری  انتظامات کے تحت جانے والے  حجاج کی تعداد 71684 ہے  توسیع حرم کی وجہ سے اس سال بھی بیرون ملک سے آنے والے عازمین  حج کے کوٹے میں 20 فیصد کٹوتی برقرار رہے گی۔ معاہدے  کے مطابق حجاج  کرام کو  دوران حج  منیٰ میں خیمے، فائر پروف اور مشاعر ریلوے  سٹیشن  کے قریب دیئے جائیں گے  جبکہ  دوران حج کھانے کی فراہمی بھی معاہدے کے مطابق حج انتظامیہ کے ذمے  ہوگی۔ معاہدے میں  حج کے بعد واپسی پر آب   زم زم کسی  بھی حاجی کو ساتھ لے جانے  کی  ممانعت ہے اس کے لئے  تمام  ممالک  سے آنے  والی حج پروازوں کو پابند بنایا جارہا ہے  وہ خالی جہاز پر پانچ لٹر آب  زم  زم کے کین پہلے  سے ان کی واپسی  کے وقت ایئرپورٹ پر پہنچائیں۔ تقریب میں سیکرٹری  مذہبی امور عامر سہیل اور جوائنٹ   سیکرٹری  بھی موجود تھے معاہدے  میں پرائیویٹ  ٹور آپریٹرز کو مملکت میں اپنے بینک اکائونٹ کھولنے  کا پابند بنایا گیا ہے اس کے بغیر ان کو بارکوڈ جاری نہیں کئے  جائیں گے۔ آن لائن کے مطابق  وزیر مذہبی امور آج مدینہ منورہ،  2  جنوری ی کو وطن واپس پہنچیں گے۔  باوثوق  ذرائع نے بتایا کہ  پاکستان نے حرم کی توسیع  کے باعث کوٹہ  پر لگائے جانے والے کٹ کو ختم کرنے کی درخواست کی جس پر سعودی  حکومت  نے واضح  کیا تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک  ہو گا اس لئے یہ کٹ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پچاس  فیصد سرکاری اور پچاس فیصد پرائیویٹ  ٹورز آپریٹرز  کے ذریعے فریضہ  حج ادا کرینگے۔  گزشتہ سال  حج کرنیوالے  امیدواروں  کو اس سال سرکاری  طور پر حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔