چودھری سرور نے استعفیٰ دیا نہیں‘ ان سے لیا گیا: وفاقی وزیر

30 جنوری 2015

اسلام آباد (محمد نواز رضا/وقائع نگارخصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور سے استعفیٰ ان کے امریکی صدر بارک اوباما کے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کو حکومت کی سفارتی ناکامی  قرار دینے  پر طلب کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اپنی ’’ڈومین‘‘ سے باہر کھیلتے رہے تھے جس کے باعث وہ گورنر کی حیثیت سے اپنے آپ کو غیر مطمئن سمجھتے تھے جمعرات کی شام ایک وفاقی وزیر نے نوائے وقت کے استفسار پر بتایا کہ گورنر نے استعفیٰ دیا نہیں ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ وزیراعظم نے گورنر پنجاب  چودھری محمد سرور کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کرنے کی صدر کو ایڈوائس جاری کردی اور صدر مملکت نے بھی منظوری میں دیر نہیں لگائی۔ یہ بات قابل ذکر ہے محمد سرور 12اکتوبر 1999ء کو نوازشریف حکومت کا تختہ الٹنے   کے بعد حکومت برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے میاں نوازشریف سے  ’’چھاؤنی‘‘ میں ملاقات کرنے والے پہلے برطانوی شہری تھے انہوں نے ہی ملاقات کے بعد نوازشریف کے بخیریت ہونے کی نوید سنائی۔ نوازشریف سے ان کی قربت اس ملاقات کے بعد شروع ہوئی چودھری محمد سرور نے نوازشریف کی رہائی کے لئے مغربی ممالک کی قیادت سے رابطے قائم کئے جب میاں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو انہوں نے ان کے ’’احسانات‘‘ کا صلہ گورنری کی صورت میں دیا لیکن اگست 2013ء کو گورنری کا منصب سنبھالنے کے بعد انہیں جلد اپنے بے اختیار ہونے کا احساس ہوگیا تھا وہ اپنے بے اختیار ہونے پر مستعفی ہونے کے لئے احباب سے مشاورت کرتے رہے تاہم انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔چودھری محمد سرور اس بات کے بھی شاکی تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ان سے کم کم ہی ملاقات  کرتے تھے گورنر اپنے منصب کی وجہ سے ان سے ملاقات کے لئے نہیں جاسکتے تھے۔ دھرنے کے دوران بھی چودھری محمد سرور مفاہمت کے لئے خاصے سرگرم رہے لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت سے وفاداری کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے چودھری محمد سرور 17ماہ کی گورنری کے بعد عملی سیاست میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں لیکن انہیں اپنے لئے پارٹی کے انتخاب میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔تحریک انصاف ’’جوائن‘‘ کرنے سے ان کے سیاسی عزائم کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔