روس کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات مزید بہتر ہونگے: سرتاج عزیز

30 جنوری 2015
روس کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات مزید بہتر ہونگے: سرتاج عزیز

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر، نوائے وقت رپورٹ) مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کیلئے پرعزم ہیں۔ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت کے ثبوت امریکہ کے حوالے کر دیئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نیشنل ایکشن پلان کو حتمی شکل دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ وہ ایک سیمینار سے خطاب اور امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دے رہے تھے۔ سیمینار سے خطاب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ گذشتہ 18 برس کے دوران پاکستان امریکہ تعلقات میں کافی بہتری آئی۔ 2011ء  میں دونوں ممالک کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے۔ افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کے برسر اقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات بہتر ہو گئے ہیں۔ پرامن اور مستحکم افغانستان پا کستان کے مفاد میں ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے اقتصادی، دفاعی اور سکیورٹی کے لحاظ سے تعلقات بہت بہتر ہو رہے ہیں، کافی رابطے ہیں، بہت سے دورے ہوئے ہیں۔ آگے چل کر ان میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں توسیع غیرجمہوری ہو گی۔ دریں اثنا سیمینار سے خطاب میں سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کے عدم توازن سے خطے کے حالات خراب ہونگے۔ ہم عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ کنٹرول لائن سمیت مختلف مسائل کے باعث پاکستان اور بھارت میں کشیدگی رہتی ہے۔  پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کے عدم توازن سے خطے کے حالات خراب ہونگے۔ اوباما کے دورہ بھارت کا میڈیا پر بہت چرچا رہا ہے۔ امریکی صدر کا دورہ بھارت اس وقت ہوا جب پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ اوباما کے بھارت کے دورہ سے قبل جان کیری سٹرٹیجک مذاکرات کیلئے پاکستان آئے تھے۔وی او اے سے گفتگو میں مشاہد حسین نے  روس کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور روس میں 47 سال بعد وزارت دفاع کی طرف سے تعاون کا آغاز ہوا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت پر رضامندی روس کی سوچ میں تبدیلی کا مثبت ثبوت ہے۔