پولیس آرڈر 2002ء غیر موثر ہوچکا، جعلی مقابلوں کی تحقیقات ہونی چاہئے: پلڈاٹ

30 جنوری 2015

اسلام آباد( صباح نیوز)پلڈاٹ کی طرف سے پاکستان میں پولیس کے نظام پر رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 18ویں تر میم کے بعد پولیس آرڈر پر عملدرآمد میں مزید مشکلات پیش آئیں، حکومتوں کو جعلی پولیس مقابلو ں کو نظرانداز یا معاف کرنے کی بجائے آزادانہ تحقیقات کرنی چاہیے، پاکستان میں پولیس کو زیادہ تر ریاست کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے پولیس اور سیاست کے ملاپ سے ملک کے بے بس عوام متاثر ہوتے ہیں، قانون میں ایسی ترامیم کی جائیں جن کے ذریعے تمام نااہل پولیس والوں کو نکالا جاسکے، اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پولیس کمانڈروں کی بار بار تبدیلی سے اسلام آباد پولیس کی صفوں میں ایڈہاک ازم اور غیر یقینی صورتحال کو فروغ ملا، سانحہ ماڈل ٹائون پنجاب پولیس کے چہرے پر بدنما داغ ہے، سیاسی قتل و غارت کے لئے پولیس کا وحشیانہ استعمال پنجاب حکومت کے لئے ناقابل فراموش رسوائی کا باعث بنا۔ سندھ پولیس میں بد قسمتی سے برے طرز حکمرانی اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے پولیس نظم و نسق کبھی بھی بہتر طریقے سے قائم نہ ہو سکا، بلوچستان حکومت نے ناکافی وسائل کے باوجود پولیس فورس کی موثر تعمیر نو کے لئے اربوں روپے مختص کیے جس سے امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے۔ سیاست اور پاکستانی عوام کے نام سے جاری رپورٹ سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور پولیس سروس کے سینئر آفیسر طارق کھوسہ نے تیار کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں پولیس کو اس کی نااہلیت اور بدعنوانیت کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ اس کا جانبدار ہونا ہے، پولیس اور عوام کے درمیان ایک لاتعلقی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1947ء سے لے کر اب تک پولیس میں اصلاحات کی کوئی کوشش نہیں کی گئی پولیس آرڈر 2002ء کا مقصد پولیس کو جوابدہ، خود مختار، پیشہ ور اور سیاسی مداخلت سے پاک بنانا تھا لیکن پولیس آرڈر2002ء غیر موثر ہوگیا۔ حقیقت میں یہ وفاقی حکومت کا فرض ہے وہ تمام صوبوں میں یکساں قانون اور حکمت عملی تیار کرے ۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام صوبے پولیس آرڈر2002ء عملدرآمد کے لئے پالیسیاں بناکر سنجیدگی سے اقدامات کریں۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپی کے میں غیرمعمولی صلاحیت کے حامل ایک پولیس آفیسر کو صوبے کا انسپکٹر جنرل پولیس مقرر کیا گیا جس سے بہت بہتری آئی۔ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا سیاستدان پولیس کو احکامات دیں گے تو رول آف لا کس طرح قائم ہوگا، انٹیلی جنس نہ ملنے کی وجہ سے عوام کا پولیس سے خوفزدہ ہونا اور عدم اعتماد کا فقدان ہے۔ پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی مداخلت نہ ہوتی تو سانحہ ماڈل ٹائون پیش آتا اور نہ ہی کراچی کے یہ حالات ہوتے۔ سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے کہا رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ ایک آمر کے دور میں بننے والا پولیس آرڈر 2002ء کس طرح عوام کی جمہوری خواہشات سے مطابقت رکھ سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ختم کرنے سے خرابیاں پیدا ہوئیں اس سے جرائم میں اضافہ ہوا جب کوئی جوابدہ ہی نہیں ہوگا تو جرائم میں کمی کیسے ممکن ہے۔