ہا ئیکورٹ: مختلف مقدمات میں اپیلیں خارج، 3 مجرموں کی سزائے موت برقرار

30 جنوری 2015

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے مختلف مقدمات میں تین اپیلیں خارج کرتے ہوئے 3 مجرموں کو دہشتگردی عدالتوں کی طرف سے دی گئی 13 بار سزائے موت، 10 سال قید بامشقت اور36 لاکھ جرمانے کی سزا کو برقرار رکھا۔ جسٹس قاضی محمد امین اور مسٹر جسٹس چوہدری مشتاق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے12اگست 2007ء کو لودھراں کی تحصیل دنیا پور میں 4پولیس اہلکاروں کو قتل اور 1کو زخمی کرنے والے مجرم محمد شفیع کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی ملتانIکی سزا برقرار رکھی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت ملتانI  کے جج محمد تنویر اکبر نے 22ستمبر 2012ء کو فیصلہ سناتے ہوئے سب انسپکٹرامیر حمزہ، کانسٹیبلز دوست محمد، ضیاء اللہ اور محمد ابراہیم کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے محمد شفیع کو دفعہ 302،7ATAاور 324کے تحت 5بار سزائے موت، 10سال قید بامشقت اور 20لاکھ50ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ مجرم نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی جو خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ فاضل بنچ نے دوسرے مقدمے میں 4 نومبر 2005ء کو بروز عید جھگڑے کی بناء پر 4بھائیوں اللہ دتہ، مظہر، ظفر اور اظہر کو قتل کرنے والے مجرم محمد شریف کی اپیل خارج کرتے ہوئے ملتان انسداد دہشت گردی عدالت II کی سزا برقرار رکھی ہے۔ دہشتگردی عدالت نے 30 مئی 2007ء کو فیصلہ سناتے ہوئے چار بھائیوں کے قاتل محمد شریف کو دفعہ 302اور 7ATAکے تحت 5بار سزائے موت اور 8لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ فاضل بنچ نے ایک اور مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے 4سالہ معصوم بچے طلحہ کو بوہڑ گیٹ ملتان سے اغوا کر کے قتل کرنے والے مجرم تصدق حسین کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی ہے۔ مجرم تصدق حسین کو ATA ملتان II کے جج امیر محمد خان نے 15مئی 2009ء کو دفعہ 302 اور 7ATA کے تحت3بار سزائے موت اور 8لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تینوں مقدمات میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالودود اور ملک ریاض نے ریاست کی نمائندگی کی۔