چین کے تجارتی روٹ میں ڈی آئی خان، بلوچستان کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دینگے: فضل الرحمان

30 جنوری 2015

ڈیرہ اسماعیل خان (نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاک چین تجارتی روٹ میں ڈی آئی  خان اور بلوچستان کے اضلاع کو نظرانداز کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اس مسئلے کے لئے میں خود چین کا دورہ کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عبدالخیل میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ فضل الرحمان نے مزید کہا پاک چین  تجارتی روٹ میں خیبر پی کے اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کو شامل کرنے سے نہ صرف ایک ہزار کلومیٹر فاصلہ کم ہو گا بلکہ ان دونوں صوبوں کی عوام کا احساس محرومی بھی ختم ہو گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک ہمیں نئے روٹ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا اور مجھے امید ہے کہ حکومت پاکستان ہمارے تجویز کردہ ملک کے لئے منافع بخش تجارتی روٹ کو تبدیل نہیں کریگی۔ انہوں نے کہ پاکستانی سیاست میں ہم نے اختلاف برائے اختلاف کا کلچر ختم کر کے ایک نیا کلچر متعارف کرایا، ہم حکومت میں رہ کر اچھے کاموں کی حمایت اور ان کے غلط کاموں کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں‘ دھرنے کے معاملے پر ہم نے جمہوریت کے مفاد کے لئے حکومت کا ساتھ دیا مگر 21 ویں ترمیم کے معاملے پر ہم نے اپنے تحفظات سے نہ صرف حکومت بلکہ پوری عوام کو آگاہ کر دیا ہے۔ دہشتگردی کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں مگر 21 ویں ترمیم کے ذریعے ملک میں سیکولر اور لبرل دہشتگردی کو راستہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ملک میں داڑھی اور پگڑی کو دہشت گردی کی علامت بنا کر پیش کرکے امریکی مفادات کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا 21 ویں آئینی ترمیم پر تمام مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتیں متحد ہیں، حکومت کسی ایک داڑھی والے کو بھی کوشش کے باوجود اپنا حامی نہیں بنا سکی۔