جب سمجھا حکمران جوڈیشل کمشن سے پیچھے ہٹ گئے دوبارہ سڑکوں پر آ جائیں گے : عمران خان

30 جنوری 2015

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے کہا ہے ملک میں قبضہ گروپ زیادہ طاقتور ہے ملک میں ساری سہولتیں امیر طبقے کیلئے ہیں اسی کی جانب گورنر پنجاب چودھری سرور نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا ہے، ہمیں دو سال سے انصاف نہیں مل رہا حکومت الیکشن میں دھاندلی کی تفیش کیلئے بااختیار جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے سنجیدہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی پوری طرح ہمیں اس سلسلے میں نہ کر رہی ہے۔ ہمارے اس مطالبے پر جوڈیشل کمشن نہ بنایا گیا اور ہمارے مطالبے پر حکومت پیچھے ہٹی تو پھر ہم دوبارہ سڑکوں پر آجائیں گے اور حکومت اس دفعہ ہمارا احتجاج برداشت نہیں کر سکے گی۔ مجھے تو 126 دن کے دھرنے میں تقریر کرنے کی اس قدر عادت ہوگئی ہے کہ مجھے کوئی ہاتھ لگا دے تو اس پر تقریر کر سکتا ہوں۔کل پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں پٹرول اور بجلی کے بحران پر اجلاس طلب کیا ہے جس کے بعد پریس کانفرنس کروں گا۔ بنی گالہ میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا لاہور میں جو باتیں گورنر پنجاب نے کیں وہ میں کئی برسوں سے کرتا چلا آرہا ہوں، میں بار بار کہہ چکا ہوں اس وقت ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کا آپس میں اقتدار کیلئے مک مکا ہے جس کی وجہ سے سب سے طاقتور قبضہ مافیا ہے جس کے کہنے پر ہر کام ہوتا ہے اور یہی قبضہ مافیا یہاں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کرتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا مسلم لیگ ن کے حکمرانوں نے پورے پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے حکمرانوں کو صرف اپنی بادشاہت کا تجربہ ہے پنجاب میں سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پورے پاکستان نے ٹی وی چینلز پر فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے غنڈوں کو گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا وہاں تحریک انصاف کے کارکن حق نواز کو قتل کردیا گیا اس پاکستانی کو انصاف کون دے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان میں ٹیکس وصولی کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے، جمہوریت کا تو اصل حسن ہی اس میں ہے کہ اس میں حکومت پیسہ جمع کرکے اپنے عوام پر خرچ کرتی ہے لیکن شریف برادران نے اپنے اثاثے اس لئے ظاہر نہیں کئے کیونکہ وہ ٹیکس سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے 18کروڑ روپیہ پاکستان سے باہر ہیں۔ آج میں یہ دوبارہ مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت فوری جوڈیشل کمشن بنائے اور حکومت عدالت پر اعتماد کرے اور جج سے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرا لے۔ ٹربیونل کے فیصلے جلد کرانے کیلئے میں آج جمعہ کو الیکشن کمشن جا?ں گا۔ الیکشن کمشن سے کہوں گا کہ ہمارے کیسوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرائی جائے۔ انہوں نے کہا میں پوچھتا ہوںکس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ جہاں پولیس آدمی کو ہی غائب کر دے، حکومت نے پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنایا ہوا ہے، ہمیں بتایا جائے کس کے کہنے پر چنیوٹ کی چار بچوں کی ماں آمنہ کوجیل میں ڈالا گیا۔ خاتون کا شوہرکئی روز سے لاپتہ تھا اوراس کے شوہر کا قصور صرف یہ تھا وہ رمضان شوگرملز میں ملازم تھا اور اسے دھمکانے کیلئے اس کی بیوی کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔ اسی شوگر مل کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرکے دریا پر پل بھی مسلم لیگ ن نے بنوایا تھا۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف نے ملٹری کورٹس کی حمایت کی ہے۔ اس معاملے پر حامد خان تحریک انصاف کا موقف نہیں دے رہے۔ 21ویں ترمیم کیخلاف تحریک انصاف سپریم کورٹ نہیں گئی۔ آئی این پی کے مطابق عمران خان نے کہا جب سمجھا حکمران دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں تو دوبارہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کریں گے‘ اب سڑکوں پر آگئے تو حکمران برداشت نہیں کر سکیں گے‘ نواز شریف کے اثاثوں میں چار سال کے دوران 12 فیصد اضافہ کس طرح ہوا۔ آئی جی عباس خان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے نواز شریف نے میرٹ کے بغیر بھرتیاں کیں۔ پولیس اور عدلیہ نوازشریف دور میں تباہ ہوئیں۔ اعجاز چودھری پر پانی چوری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ نواز شریف کے بیٹے کے 200 ارب کے اثاثے بیرون ملک ہیں۔ ان کے بیٹے کے پاس پیسہ کہاں سے آیا۔ حکمرانوں کی دولت پر انگلی اٹھانا ذاتیات نہیں جمہوری حق ہے۔ نواز شریف کے رہن سہن اور آمدن میں فرق ہے۔ حکمران ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اینکرز ان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں اب مزید وقت نہیں دے سکتے۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد عوام پر ظلم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خیبر پی کے میں پولیس غیر سیاسی ہوگئی ہے اور وہاں کوئی جھوٹا کیس درج نہیں ہو رہا۔ پنجاب اور سندھ میں پولیس سیاسی ہے اسی لئے کسی کو اس پولیس پر اعتماد نہیں۔
عمران خان