کارکن کے قتل پر متحدہ کا یوم سوگ‘ کراچی میں ہڑتال ‘ اسٹیبلشمنٹ مجھے پسند نہیں کرتی : الطاف‘ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر کے واپس لے لیا

30 جنوری 2015
کارکن کے قتل پر متحدہ کا یوم سوگ‘ کراچی میں ہڑتال ‘ اسٹیبلشمنٹ مجھے پسند نہیں کرتی : الطاف‘ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر کے واپس لے لیا

کراچی (خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) الطاف حسین کی اپیل پر کارکن کی ہلاکت کے خلاف ایم کیو ایم نے کراچی سمیت سندھ بھر میں یوم سوگ منایا۔ کراچی میں تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز، پٹرول پمپ، سی این جی سٹیشن اور ٹرانسپورٹ بند رہی۔ کراچی میں پولیو مہم بھی ملتوی کر دی گئی۔کراچی کے علاوہ حیدر آباد، میرپور خاص، سکھر، ٹندو الہ یار سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں بھی کاروبار اور تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہی۔ دوسری جانب الطاف حسین نے 36 کارکنوں کا قاتل وزیراعلیٰ سندھ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سہیل احمد کی نعش پھینکی گئی وزیراعلیٰ لہک لہک کر اور ڈانس کر کے سوگواروں کو حملہ آور قرار دے رہے تھے۔ لندن سے جاری بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ وہ سہیل احمد سمیت 36 کارکنوں کا قاتل وزیراعلیٰ کو سمجھتے ہیں۔ سہیل کے قتل پر وزیراعلیٰ اور کابینہ کے وزرا نے مجھ سے تعزیت کرنا گوارا نہیں کیا۔ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم پر مظالم پر پرامن طریقے سے آواز بلند کریں گے اور وفاقی اور صوبائی ایجنسی یا کسی اہلکار نے غیر قانونی و غیر آئینی حرکت کی تو اپنے کئے کا خود جوابدہ ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے پسند نہیں کیا کیونکہ نہ تو میں کسی وڈیرے کا بیٹا ہوں اور نہ میرا کسی جاگیردار گھرانے سے تعلق ہے۔ ملک میں چار مارشل لاءلگ گئے لیکن عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ غریب اور متوسط طبقے کے افراد نے مل کر پاکستان کے لیے قربانیاں دیں لیکن ان کو حق نہیں مل سکا۔ میں نے غریبوں کی قسمت بدلنے کے لئے آواز اٹھائی جس کی وجہ سے میرے ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔ نائن زیرو پر آنے والے کارکنوں سے خطاب میں الطاف حسین نے کہاہے کہ کارکنوں کو حب الوطنی کا درس دیا مگر اسی طرح مہاجروں کی لاشیں گرائی جاتی رہیں تو رد عمل بھی آسکتا ہے، مہاجروں نے قیام پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور 30 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آصف زرداری پر جب بھی برا وقت آیا تو پیپلزپارٹی کی قیادت بلوں میں گھس گئی لیکن صرف میں نے برے وقت میں ان کا ساتھ دیا جب کہ آصف زرداری نے سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا سے لیاری میں پیپلز امن کمیٹی بنا کر ہمیں اس کا صلہ دیا۔ کوئی غریب اقتدار تو کیا انتخاب لڑ ہی نہیں سکتا۔ مجھے بریف کیس دیا گیا جس پر میں نے کہا کہ یہ پیسہ واپس لے جاﺅ، میں نے کہا کہ میں اس مٹی سے نہیں بنا جو اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہو، ایم کیو ایم کے غریب عوام کا جب پیغام پھیلنے لگا تو وفود ہمارے پاس آنے لگا۔ ولی خان کو ایم کیو ایم سے متعلق غلط باتیں بتائی گئیں، یہ کہا گیا کہ ایم کیو ایم پٹھانوں کی دشمن ہے، میں نے ولی خان کو جیل سے خط بھجوا کر سازش سے آگاہ کیا، میرے خط کے بعد اجمل خٹک اور غلام احمد بلور نائن زیرو آئے اور پٹھان مہاجروں کا ملاپ ہو گیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ جب میں نے کراچی میں طالبانائزیشن کی بات کی تو میری مخالفت کی گئی، وزیراعلیٰ سندھ اور ان کے وزراءنے میری باتوں کو رد کر دیا۔ کچھ لوگ کہتے رہے کہ ایم کیو ایم بہت اچھی ہے لیکن مائنس الطاف حسین کے ساتھ۔ شاہی سید کو اے این پی کے پرانے لوگ بھی نہیں جانتے۔ شاہی سید کا اے این پی کے دور دور تعلق نہیں۔ اسفندیار نے انہیں رشتہ داری کی بنیاد پر اے این پی سندھ کا صدر بنا دیا اور مہاجر پٹھان لڑائی شروع ہو گئی۔ آصف نواز نے کہا کہ ایم کیو ایم کے 2، 4 ٹکڑے کیوں نہیں ہوسکتے۔ میں نے فوجی جوانوں کو بار بار سلیوٹ پیش کیا۔ فوج کی حمایت میں لاکھوں لوگوں کا جلوس نکالا۔ الطاف حسین ملک کا دشمن نہیں بلکہ خیرخواہ ہے۔ الطاف نے گورنر پنجاب کے استعفے کے بارے میں کہا کہ گورنر کے پاس اختیارات نہیں ہیں، گورنر صرف استعفے دے سکتے ہیں۔ چودھری سرور کے جرات مندانہ فیصلے پر خوش آمدید کہتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بعدازاں الطاف حسین نے پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ انہوں نے آج پارٹی چھوڑنے اور کارکنوں سے آخری خطاب کا اعلان کیا تھا۔ الطاف حسین نے کارکنوں سے خطاب میں کہا ساتھیو! خوش ہو جاﺅ، میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔ کارکنوں کو بدلہ لینے کا درس آج تک نہیں دیا اور نہ دوں گا۔ آج کے بعد کوئی بھی کارکن مرا تو دوسرے دن پہیہ جام ہو گا۔ وزیراعلیٰ بہادر ہیں تو 100 گاڑیوں کے قافلے کی بجائے ایک میں سفر کریں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم آج ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے۔ وزیراعظم نے کراچی میں امن و امان کی صورت حال اور ٹارگٹڈ آپریشن کا جائزہ لینے کے لئے گورنر ہاو¿س میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔ نواز شریف نے جمعرات کو ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ایم کیو ایم کے تحفظات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ ایم کیو ایم کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ دورہ کراچی میں ایم کیو ایم کے مقتول کارکن سہیل احمد کے لواحقین سے بھی ملاقات کروں گا۔ ادھر زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ کوہدایت کی ہے کہ وہ گورنر سندھ کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم کے تحفظات دور کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست نہیں چھوڑے گی کیونکہ یہ بے نظیر بھٹو کی پالیسی تھی۔ سابق صدر نے گورنر سندھ سے ٹیلی فونک رابطے میں متحدہ کے تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے متحدہ کے کارکن کے قتل پر اظہار افسوس کیا۔