بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ پر لوگ عاجز آ گئے‘ احتجاج جاری

30 جنوری 2015

لاہور (نامہ نگاران) صوبائی دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں گزشتہ روز بھی بجلی اور گیس کا شدید بحران جاری رہا اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث لوگ عاجز آ گئے اور سراپا احتجاج بنے رہے۔ شہروں میں 12 اور دیہات میں بدستور 18 گھنٹے تک کی بدترین لوڈشیڈنگ پر لوگ بلبلا اٹھے جبکہ کئی شہروں میں پانی کی بھی شدید قلت رہی۔ گیس کی طویل بندش پر مظاہرے جاری رہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ سے گھروں میں چولہے ٹھنڈے رہے اور خواتین کو کھانا تیار کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ کھانا بازار سے لا کر کھانے پر مجبور ہو گئے۔ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے کاروبار شدید متاثر ہوئے۔ کسوووال سے نامہ نگار کے مطابق شہر اور گرد و نواح میں بجلی اور گیس کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر دیا۔ بجلی کی طویل بندش کی وجہ سے کاروباری برادری اور خواتین شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بچوں کا سکول وقت پر پہنچنا مشکل ہو گیا اور لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاءبازار سے خرید کر استعمال کرنا پڑ رہی ہیں۔ اس صورتحال پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ چنیوٹ سے نامہ نگار کے مطابق لاہور روڈ فیڈر سے ملحقہ رہائشی آبادیوں میں 17 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے۔ چنیوٹ میں جاری بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جس پر لاہور روڈ کے علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا اور بتایا کہ ہمارے علاقوں میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہنے سے ہم پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ وہاڑی سے نامہ نگار کے مطابق بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دن بدن بڑھنے لگا جس کے باعث گھریلو اور کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہونے لگی اور صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر طبقہ انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہو گیا۔ شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے صارفین کو پریشان کررکھا تھا اب رہی سہی کسر محکمہ سوئی گیس والوں نے پوری کر دی ہے۔
بجلی گیس/ لوڈشیڈنگ