”بدقسمتی سے پاکستان میں سچ کا قحط ہے‘ انصاف پر مبنی نظام ہونا چاہیے“ گورنر پنجاب چودھری سرور مستعفی

30 جنوری 2015

لاہور + اسلام آباد (خصوصی رپورٹر + سپیشل رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ گورنر پنجاب نے استعفیٰ بدھ کی رات وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا۔ وہ 17 ماہ گورنر رہے۔ چودھری سرور نے مستعفی ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سچ کا قحط ہے۔ ایک مشہور فلاسفر کا قول ہے کہ سچ کہو چاہے آسمان سر پر گر جائے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سچ بولنا گناہ ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی خود کو جھوٹا کہلوانے کو تیار نہیں میں نے سچ بولنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ استعفے کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ملک میں رہ رہا ہوں جہاں سچ کو گالی سمجھا جاتا ہے۔ چار ماہ پہلے رانا ثناءاللہ سے کہہ دیا تھا کہ اس عہدے پر کام نہیں کرنا چاہتا۔ چند ہفتے پہلے شہباز شریف سے بھی درخواست کی کہ عہدہ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ چلا گیا۔ برطانیہ کی تاریخ میں پہلا مسلمان اور پاکستانی ہوں جسے ممبر آف پارلیمنٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے قرآن پر حلف لیا۔ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ ہمیشہ پاکستان اور مسلمان کی جنگ لڑی۔ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ میڈیا میں چلایا گیا کہ مجھ سے استعفٰی مانگا گیا۔ وزیراعظم اور صدر کسی نے بھی مجھ سے استعفٰی نہیں مانگا۔ اگر یہ جھوٹ ثابت ہو جائے تو جو چاہے مجھے سزا دیں۔ میں نے خود وزیراعظم اور وزیراعلی سے استعفٰی کی بات کی تھی۔ دکھ سے کہہ رہا ہوں پاکستان کے مسائل گھٹنے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ملک میں ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کروں گا کہ ورکرز کی عزت کریں یہ ان کا اثاثہ ہیں۔ ملک میں زنا بالجبر جیسے واقعات بڑھ گئے ہیں مظلوموں کے رشتے دار انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ بطور گورنر میں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے معذرت کرتا ہوں۔ میں ایسا ملک چاہتا تھا جس میں برابری کا نظام ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ایک وقت ضرور آئے گا جب لوگوں کو انصاف ملے گا۔ حکمرانی کا حق صرف ایک طبقے کو ہی حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں گورنر ہاﺅس سے نکل کر اچھے طریقے سے کام کر سکتا ہوں۔ شریف برادران سے کوئی اختلافات نہیں۔ ملک میں قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا گورنر سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کے دورہ بھارت پر اعتراض نہیں۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بڑی قربانیاں دیں۔ صدر اوباما کو پاکستان کا دورہ بھی کرنا چاہئے تھا۔ گورنر ہاﺅس کے دروازے عام آدمیوں کے لئے کھلنے چاہئیں۔ لوکل گورنمنٹ کے بغیر حقیقی جمہوریت نہیں آ سکتی۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں۔ میں ملک چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا۔ سلامتی کونسل میں مسلمانوں کی نمائندگی ضرور ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے میں جن مقاصد کے لئے گورنر بنا تھا وہ پورے نہیں ہو سکے اور بحیثیت گورنر عوام کو انصاف دلانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اوباماکے منتخب ہونے پر پوری دنیا میں خوشیاں منائی گئیں مگر انہوں نے ان ممالک کے عوام کو مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بنانے میں امریکی تعاون کی یقین دہانی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پا¶ں تلے روندنے والے ملک کو سکیورٹی کونسل کا رکن کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا عہدہ چھوڑ چکا ہوں لیکن شوکت عزیز یا معین قریشی کی طرح ٹکٹ کٹا کر بیرون ملک نہیں جا¶ں گا پاکستان میں ہی رہ کر قوم کی خدمت اور عوام کی مشکلات دور کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھوں گا۔ چودھری محمد سرور نے کہا کہ بعض چینلز کی جانب سے یہ خبر درست نہیں کہ میں نے گورنرکے عہدہ سے استعفٰی کسی دبا¶ کے تحت دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں خود اپنی بطور گورنر کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا۔ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے متعدد بار حکومتی ذمہ داران سے کہا کہ میں اس عہدہ سے الگ ہونا چاہتا ہوں ۔ چار ماہ قبل رانا ثناءاللہ سے ملاقات کے دوران بھی میں نے انہیں کہا کہ میں گورنر کا عہدہ چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لئے آپ استعفٰی نہ دیں بلکہ چند ماہ قبل میں نے وزیر اعلی شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بھی اس عہدہ سے الگ ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سمندر پار پاکستانی ہر سال پاکستان میں 25 بلین ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں جبکہ یہاں ان کی زمینوں اور جائیداد پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔ اوباما کے بھارتی دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کے بھارتی دورہ پر اعتراض نہیں ہے ۔ لیکن پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں 55 ہزار افراد کی قربانیاں دیں جبکہ ایک بلین ڈالر سے زائد نقصان بھی برداشت کیا۔ اگر صدر اوباما کو بہتر طور پر بریف کیا جاتا تو وہ پاکستان ضرور آتے۔ نجی ٹی وی کے مطابق گورنر پنجاب سے کہا گیا تھا کہ خارجہ پالیسی پر بیان ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا ملک میں جمہوریت سیاسی ورکروں کی جدوجہد کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا میں نے ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کی جنگ لڑی۔ حکمرانی کا حق صرف ایک طبقے کو ہی حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ یورپ میں سیاسی ورکر اثاثہ ہوتے ہیں اس ملک میں جتنا حق بڑے لوگوں کا ہے اتنا غریبوں کا بھی ہے عوام کے مسائل حل نہ ہونے پر معافی چاہتا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ غریب کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو امیروں کو حاصل ہیں لیکن پاکستان میں لینڈ مافیا گورنر سے زیادہ طاقتور ہے۔ چودھری سرور نے کہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ ملک میں نظام انصاف پر مبنی ہونا چاہئے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا نظام دیکھنے کا خواہشمند ہوں جہاں طبقاتی تفریق نہ ہو۔ یورپ میں لوگوں کو انصاف ملتا ہے چاہتا ہوں پاکستان میں بھی انصاف ملے۔ آئی اےن پی کے مطابق انہوں نے کہا ظلم ناانصافی ‘بچوں ‘خواتےن کے ساتھ زےادتی اور انکے قاتل کے واقعات مےں اضافہ ہو رہا ہے اور قاتل دندتاتے پھرتے ہےں جبکہ مدعی انصاف کےلئے دربدر ہے ‘وفاقی اور پنجاب حکومت کی کارکردگی بھی پوری قوم کے سامنے ہے‘ شر ےف برادران اور چودھری نثار علی خان کا ممنون ہوں جنہوں نے مجھ پر گورنر کے عہدے کےلئے اعتماد کےا۔ مسئلہ کشمےر کے حل کے بغےر بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے کی ہر فورم پر سخت مخالفت کرونگا۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے گورنر کا استعفٰی منظور کر لیا ہے۔ صدر نے استعفٰی وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظور کیا اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ گورنر پریس کانفرنس میں تلخ باتیں کرنے والے تھے تاہم رانا ثناءاللہ کی قیادت کی ہدایت پر ان سے ملاقات کے بعد ایسا نہیں ہوا۔ پریس کانفرنس کے بعد گورنر سابق وزیر قانون رانا ثناءکے ساتھ بغیر پروٹوکول روانہ ہو گئے اس سے قبل انہوں نے گورنر ہا¶س کے سٹاف سے الوداعی ملاقاتیں کیں۔ چودھری سرور نے فیس بک پروفائل میں اپنے دوست و احباب کے نام پیغام دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے مستعفی ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یقین ہے کہ گورنر کے منصب سمیت تمام سرکاری عہدے صرف اور صرف عوامی خدمت کیلئے وقف ہیں اگر میں سمجھتا ہوں کہ میں اس منصب پر رہ کر اپنی ارض وطن، عوام اور قوم کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے پا رہا تو اس منصب پر فائز رہنے کا میرے پاس کوئی جواز نہیں۔ بعدازاں اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے چودھری محمد سرور نے بتایا کہ وہ 2 فروری کو برطانیہ جا رہے جہاں چند روز قیام کرنے کے بعد وطن واپس لوٹ آئیں گے۔ بیرون ملک اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے مشاورت کر کے پاکستان میں اپنے نئے سیاسی لائحہ عمل کو طے کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو امیروں کے برابر حقوق دلانا، پاکستان میں میرٹ نافذ کرنا اور عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ان کی خواہش ہے۔
گورنر مستعفی