ویلکم بیک محمد سرور

30 جنوری 2015

لندن سے گزشتہ برس اگست میں یہ خبر مل گئی تھی، ایک ہفتہ پہلے کیپٹن شاہین سے ملاقات ہوئی تو انہوںنے بھی اس کی تصدیق کر دی کہ بس فیصلہ ہوا ہی چاہتا ہے۔اب یہ بحث فضول ہے کہ استعفی مانگا گیا یا دیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ ایک اصول پرست شخص پاکستان کے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ نہیں چل سکتا الا یہ کہ وہ بہت بڑا منافق ہو یا محض مفاد پرست۔میں جانتا تھا کہ محمد سرور نہ منافق ہے نہ مفاد پرست، اس لئے مجھے ان کے گورنر بننے پر حیرت ہوئی، میںنے کھل کر ان کے فیصلے کی مخالفت کی۔ محمد سرور میرے رویئے پر اس قدر سیخ پا ہوئے کہ میں آخری بار ان سے ملنے گیا تو باہرکھلے لان میں ہم دونوں بیٹھے ہوئے تھے، میں مسلسل بول رہا تھا اور وہ مسلسل ادھر ادھر ڈیلے گھما رہے تھے، میں وہاں سے اٹھا، پھر واپس نہیں گیا۔اب میں انہیں اپنی کتاب ضرب عضب پیش کرنے کے لئے جانا چا ہتا تھا مگر عجیب بات ہے کہ ان کے میڈیا ایڈوائزر مشہود شورش نے کہا کہ میں اپنی تحریری درخواست بھیج دوں ، مجھے یوں لگا کہ گورنر ہائوس کے ماحول کا اثر مشہود شورش کے اعصاب پر بھی ہو گیا ہے،۔ مشہود مجھے بچوں کی طرح عزیز ہے، میں تلخی سے بچنے کیلئے خاموش ہو رہا۔میں پینتیس برس سے گورنر ہائوس آ جا رہا ہوں، مجھے کبھی تحریری درخواست نہیں بھیجنا پڑی۔یہ بھی اللہ کا شکر ہے اورنئی صورت حال پر بھی میںنے سوچا کہ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ہو گی۔
اب محمد سرور گورنر ہائوس چھوڑ چکے ہیں۔سناہے انہوںنے لاہور میں نیا گھر بنا لیا ہے ۔ ممکن ہے اس کی دیواریں گورنر ہائوس کی طرح بلند اور خاردار تاروں سے بند نہ ہوں۔چلئے زمین گول ہے، کہیں نہ کہیں محمد سرور سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔
مجھے اپنے رویئے پر کوئی افسوس نہیں بلکہ یک گونہ خوشی ہے کہ میںنے محمد سرور کی بھلائی چاہی اور آخر کا محمد سرور کو میری با ت ماننا پڑی۔بالکل ا بتدا میں جب وہ لندن میں ہائی کمشنر قریب قریب لگ چکے تھے، صرف اعلان باقی تھا تو میری ان کی ایک ملاقات اواری ہوٹل میں ہوئی۔ میںنے انہیں سمجھایا کہ دوہری شہریت کی وجہ سے وہ اپنے فرائض دیانت داری سے ادا نہیں کر پائیں گے، اس لئے کہ جب بھی پاکستان ا ور برطانیہ کے مفادات کا ٹکرائو ہو گا تو انہیں لازمی طور پر اپنی برطانوی شہریت کی مجبوریوں کی وجہ سے ملکہ معظمہ کا حکم ماننا پڑے گا۔محمد سرور نے اس پر دوبارہ سوچنے کا وعدہ کیا، اگلے روز اتوار تھا، وہ پھر اواری کے چائے خانے میں بیٹھے تھے اورمیں بھی اتفاق سے وہیں کسی سے ملنے گیا ہوا تھا، ان کا فون آیا۔ میں نیچے لابی میں آ گیا، کہنے لگے ، آپ کا موقف درست ہے۔ مجھے جو کچھ دنیا میں ملا ہے دولت، عزت، شہرت، یہ سب برطانیہ سے ملا ہے۔ اس لئے میںنے ہائی کمشنربننے کا خیال دل سے نکال دیا ہے او ر میاں صاحبان کو اس کی اطلاع کر دی ہے۔مگر پھر ان کے گورنر بننے کی خبریں چلنے لگیں۔دوہری شہریت کی بنا پر میں نے ان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کازور لگایا اور میرا زور کام کر گیا ، انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑ دی، مگر میں جانتا تھا کہ یہ محض ایک فریب ہے، وہ کسی بھی وقت برطانوی شہریت واپس لے سکتے ہیں ، ان کا خاندان وہیں ہے، اور بہت بڑا کاروبار بھی وہیں ہے۔ میں سنتا رہتا ہوں کہ وہ پا کستان کے ساتھ بھی کاروبار کرتے ہیں یا یہاں کرنا چاہتے ہیں، مجھے اس کی تفصیل جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ ایک سرمایہ دار پہلے تھے ا ور میرے دوست بعد میں۔
اب وہ اگلے لائحہ عمل کے بارے میں صلاح مشورے کے لئے واپس لندن جا رہے ہیں، اور وہ کہاں جا سکتے تھے، وہیں ان کا گھر ہے ا ور کھربوں کا کاروبار بھی، ان کے بیٹے کو بھی برطانیہ نے عزت اور دولت سے نواز اہے، پہلے وہ اسکاٹش پارٹی کا ڈپٹی لیڈر تھا، اب اسے ترقی مل گئی ہے اور وہ پارٹی کا لیڈر ہے، اسکاٹش ووٹ میںاچھی کارکردگی دکھانے پر محمد سرور کے بیٹے پر مزید نوازشات ہوئی ہیں، شاید وہ ڈپٹی منسٹر بھی بنا دیا گیا ہے۔اسکاٹ لینڈ ایک آزاد ملک تھا، اس کی روایات اور تاریخ مختلف ہے، میںنے اسکاٹ لینڈ کے پہاڑوں پر آزادی کا نعرہ کھدا ہوا دیکھا، یہ تیس برس پہلے کی بات ہے، اس قوم کو برطانیہ کا غلام بنائے رکھنے میں جو بھی مدد گار ہو گا ، وہ تخت لندن کا چہیتا تو ہو گا۔اس لئے انس سرور پر نوازشات کی بارش بلا وجہ نہیں۔
محمد سرور نے کہا تو یہی ہے کہ وہ معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح نہ تو ایک بیگ  کے ساتھ یہاں آیا اور نہ ان کی طرح یہی بیگ اٹھا کر واپس چلا جائوں گا، میںیہیں رہوں گا، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔یہ ایک اچھا اعلان ہے اور امید ہے کہ محمد سرور اس کو سچ ثابت کر دکھائیں گے۔
ان کے ساتھ آخرہوا کیا۔صرف یہ کہ وہ دریا میں رہنا بھی چاہتے تھے اور مگر مچھ سے بیر بھی مول لینا چاہتے تھے۔ پاکستان تو کیا، فطرت کے ماحول میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا ہے، جنگل کا بادشاہ شیر ہے اور اسی کی مرضی وہاں چلتی ہے۔ن لیگ میںنواز شریف کا حکم چلے گا، پیپلز پارٹی میں زرداری کا، متحدہ میں الطاف حسین کا، پی ٹی آئی میں عمران کا، منہاج میں قادری کا، جماعت میں سراج الحق کا۔یہی جنگل کا قانون ہے، اسے نہیںمانو گے تو شیر چیر پھاڑ کر رکھ دے گا۔
میری دعائیںمحمد سرور کے ساتھ ہیں۔ وہ ایک ا نسان کے طور پر بھلا آدمی ہے، دیانت دار ہے، بالکل کھراا ور سچا اور محنتی، اس نے انڈے بیچے ، وہ ہر انٹرویو میں مانتا ہے کہ گلاسگو میں لوگ اسے سرور آنڈے والا کہتے تھے۔میں اسی سرور کا مداح ہوں اور دل سے ہوں، باقی رہے اس کے سیاسی فیصلے تو وہ غلط ہو سکتے ہیں اور غلط ثابت بھی ہوئے ہیں، اس کی الوداعی پریس کانفرنس حکومت کے خلاف تو ایک چارج شیٹ ہے ہی، مگر یہ اس کے اپنے خلاف بھی کھلی چارج شیٹ ہے، غلط سیاسی فیصلے، غلط ہی ہوتے ہیں۔مگر مجھے غلط سیاسی فیصلے کرنے والا محمد سرور برا نہیں لگتا ، اس لئے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہا ہے۔ یہ ایک بڑے انسان کی نشانی ہے۔ اپنے آپ کو غلط ماننا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں اس غلط انسان کو سینے سے لگانے کے لئے بے تاب ہوں، محمد سرور جب تک گورنر رہا ، مجھے اچھا نہیں لگا، اب وہ اس منصب سے ہٹ گیا ہے تو میں اس کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ، اس کی عظمت کے سامنے سر جھکاتا ہوں، ویلکم بیک محمد سرور!!