اوور سیز کمیشن کا خواب تارکین وطن کی ضرورت!

30 جنوری 2015
اوور سیز کمیشن کا خواب تارکین وطن کی ضرورت!

وقار ملک
یورپ و برطانیہ میں تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لئے علیحدہ علیحدہ دفاتر قائم ہیں جہاں ان کی داد رسی کے لئے مکمل انتظامات اور انتظامیہ موجود ہوتی ہے۔ برطانیہ نے تارکین وطن کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کے لئے مسلم سنٹرز قائم کر رکھے ہیں۔ جہاں ہر مسلمانوں کو ان کے عقائد قاعدے خواتین کے تحت مشکلات کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ جو ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو بنے 67 سال کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کے لئے ان کے اپنے ملک پاکستان نے اپنوں کے لئے نہ تو کوئی پالیسی بنائی اور نہ ہی کوئی ادارہ بنایا لیکن موجودہ حکومت نے جمہوری حکومت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے وہ کارنامہ سر انجام دے ریا جس کی سوچ تمام حکومتوں کے ادوار میں رہی لیکن کسی نے بھی اس پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا وزیراعلیٰ پنجاب چونکہ یورپ و برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ہمیشہ گہرے رابطے میں رہے جس کی وجہ سے وہ بذات خود پردیسیوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی لیتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی کاوشوں سے ان کے مسائل کے حل کے لئے اوورسیز کمیشن کی بنیاد رکھی اور سیز کمیشن باقاعدہ صوبائی پنجاب سے منظوری کے بعد قانونی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ جس کی تقرریاں بھی باقاعدہ میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں کمشنر کی تعینانی کے لئے 20 رکنی تجربہ کار بیوروکریٹ نہ درخواستوں پر غور و غوض کے بعد اپنا فیصلہ دیا اور پھر وزیراعلیٰ کی منظوری لی گئی اس طرح قرعہ فال افضال بھٹی کے نام نکلا افضال بھٹی ایک تجربہ کار تعلیم یافتہ انسانیت کی محبت سے سرشار کھلے اور سچے دل کے مالک وسیع وژن اور سوچ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ جنہوں نے اپنی ساری زندگی خدمت کے جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے گزاری افضال بھٹی نے اپنا وقت یورپ و برطانیہ میں بھی گزارا جہاں ان کے اورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی ہیں اور ان کے مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کیپٹن خالد شاہین کو اپنا وائس چیئرمین مقرر کیا۔ کیپٹن خالد شاہین اپنی حیثیت میں ایک ادارہ میں ہنس مکھ تعلیم یافتہ اور دوسروں کے درد کو اپنا درد محسوس کرنے والے شاہین امریکہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سرگرداں رہے آج آپ دونوں شخصیات اورسیز کمیشن کے مضبوط بازو بن چکے ہیں اورسیز پاکستانیوں کو ان سے امید ہے کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں وہ تمام تر اہداف حاصل کر لیں گے جس کی توقع ہے جہاں قارئین کے لئے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خدا کی خوشنودگی کے لئے کہیں نہ کہیں انداز میں خدمت کے تحت جدوجہد جاری رکھتے ہیں اور انسانیت کی خدمت اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں میں ذکر کرنا چاہتا ہوں گاﺅں کہ ڈی سی او جہلم جناب ذوالفقار گھمن کا جنہوں نے اپنی اور آپ کے تحت باقاعدہ ایک دفتر بنا لیا جس میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کئے جاتے ہیں راقم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے عزیز و اقارب بیرون ممالک مقیم ہیں میرے اپنے ہیں جہلم کا ہر شہری اور انی زندگی میری ذمہ داری ہے اگر اورسیز پاکستانی خوشحال ہو گا تو ان کے عزیز و اقارب خوش ہوں گے۔ جس سے ضلع جہلم میں ترقی اور خوشحال زندگی اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری مرکز میں مدد ملے گی۔ ڈی سی او جہلم .... کمشنر اورسیز افضال بھٹی اور کیپٹن شاہیں کی سربراہی میں ضلعی افسران پر مشتمل ایک اجلاس طلب کیا جس میں اورسیز کمیشن کے مقاصد سے افسران کو آگاہ کیا گیا جو ایک اہم پیش رفت تھی۔
اورسیز کمیشن کے مقاصد نیک اور حوصلے بلند ہیں۔ اس کا مقصد ہے کہ سمندر پار پاکستانیوںکو مکمل تحفظ کا یقین دلایا جائے ان کے مسائل جو پاکستان سے وابستہ ہیں وہ فوری حل کئے جائیں انہیں قبضہ گروپ سے نجات دلائی جائے ان کی جائیدادوں پر جو قبضہ ہے وہ واپس کرایا جائے پاکستان پر ان کا اعتماد بڑھے ان کے حوصلے بلند ہوں تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری ہو وہ اپنے ملک واپس آئیں تاکہ ملک و قوم کو ان کی مدد سے خوشحال بنایا جا سکے یہ نیک اور مثبت سوچ وزیراعلیٰ پنجاب اور میاں محمد نوازشریف کی ہے اورسیز کمیشن ان کا خواب اور اوورسیز پاکستانیوں کی ضرورت تھی جو آج شرمندہ تعبیر ہوئی موجودہ حکومت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اورسیز پاکستانیوں کی .... اور ان کے ساتھ مخلص ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اوورسیز کمیشن کیا رنگ دکھلاتا ہے کیا وہ اورسیز پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کر سکے گا یا نہیں بہر حال توقعات حد سے زیادہ ہیں۔